ایک دفعہ نصیر کو اپنے کاروبار کے سلسلے میں دوسرے شہر جانا پڑا۔ اس کے پاس پانچ لاکھ روپے نقد (Cash) تھے، اور اسے ڈر تھا کہ کہیں ٹرین میں کوئی چور اسے لوٹ نہ لے۔
اس نے بڑی عقل لڑائی اور ایک لفافے میں پیسے ڈال کر اس کے اوپر ایک پرچی چپکا دی جس پر لکھا تھا:
“اس میں صرف ‘پرانے اخبارات’ ہیں، اپنا وقت ضائع نہ کریں۔”
نصیر بڑا خوش ہوا کہ اب تو کوئی چور اسے ہاتھ بھی نہیں لگائے گا۔
ٹرین میں اسے نیند آ گئی اور وہ خراٹے لینے لگا۔
جب صبح اس کی آنکھ کھلی تو لفافہ غائب تھا اور اس کی جگہ ایک دوسری پرچی پڑی تھی جس پر لکھا تھا:
“بھائی صاحب! میں چور نہیں ہوں، ‘ردی’ بیچنے والا ہوں۔ آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے میرا کام آسان کر دیا!”
🤣😂🤣🤣
#منقول
