بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

ایک سلطنت پر ایک ظالم اور مغرور بادشاہ حکومت کرتا تھا جس کی رعایا پروری صرف لگان وصول کرنے تک محدود تھی۔ اسی شہر میں ایک غریب کسان رہتا تھا جو قرض کے بوجھ تلے اتنا دبا ہوا تھا کہ ہر گزرتے سانس پر اس کا سود بڑھ رہا تھا۔ مایوس ہو کر وہ بادشاہ کے پاس فریاد لے کر گیا، مگر بے رحم بادشاہ نے اسے مدد دینے کے بجائے یہ کہہ کر دھتکار دیا کہ
“غربت ایک ذہنی حالت ہے، جاؤ جا کر محنت کرو۔”

وہ شخص بھوکا پیاسا جنگل کی طرف نکل گیا تاکہ قدرت کے لنگر (پھل وغیرہ) سے پیٹ بھر سکے۔ وہاں اس نے دیکھا کہ ایک کبوتر کا گھونسلہ آندھی سے گرنے والا ہے، اس نے ہمدردی میں اسے سہارا دے کر مضبوط ٹہنی پر ٹکا دیا۔
وہیں قریب ایک ہرن شکاری جال میں تڑپ رہا تھا، غریب آدمی نے اس پر بھی ترس کھایا اور اسے آزاد کر دیا۔ ہرن اور کبوتر اس کے احسان مند ہو گئے۔

اتفاق دیکھیے کہ اسی جنگل میں شکار کھیلتے ہوئے بادشاہ سلامت کا قیمتی ہار گر گیا تھا۔ ہرنوں نے وہ ہار ڈھونڈ نکالا اور اس غریب شخص کو لا کر دے دیا تاکہ اس کی “غربت والی ذہنی حالت” ٹھیک ہو سکے۔ وہ شخص شرافت کا مجسمہ بن کر ہار لے کر محل پہنچا، لیکن لالچی بادشاہ نے انعام دینے کے بجائے اسے “شاہی چور” قرار دے کر کال کوٹھڑی میں ڈال دیا اور ہار قبضے میں کر لیا۔

یہ ناانصافی دیکھ کر جنگل کے جانوروں کو غصہ آ گیا۔ اگلے دن جب بادشاہ دوبارہ شکار پر نکلا، تو اسی ہرن نے اسے ایسی زوردار ٹکر ماری کہ بادشاہ سلامت پروٹوکول سمیت گہری کھائی میں جا گرے۔ ابھی وہ زخم چاٹ ہی رہے تھے کہ کبوتر اڑتا ہوا آیا اور بادشاہ کی گردن سے وہ قیمتی ہار چھین کر اڑ گیا۔ بادشاہ نے غصے اور درد کی حالت میں گھوڑے پر اس کا پیچھا کیا۔ کبوتر نے وہ ہار ایک سانپ کے بل میں گرا دیا۔ جاہل بادشاہ نے جیسے ہی بل میں ہاتھ ڈالا، سانپ نے اسے یوں ڈسا کہ بادشاہ تڑپنے لگا۔

محل کے ایک دانا بزرگ نے کہا:
“حضور! یہ اس غریب کی بددعا کا شاخسانہ ہے، اسے رہا کریں ورنہ اگلی باری اژدھے کی ہوگی۔”

بادشاہ نے موت کے ڈر سے غریب شخص کو رہا کر دیا اور گریہ و زاری کرتے ہوئے اپنے ظلم پر توبہ کی۔ ادھر کبوتر نے وہ ہار دوبارہ حاصل کر کے اس غریب شخص کے گھر پہنچا دیا۔ وہ ایماندار شخص ایک بار پھر وہ ہار لے کر محل پہنچا۔ بادشاہ نے مسکرا کر اسے تشکر بھری نظروں سے دیکھا اور ہار واپس لے لیا۔
پھر فوراً حکم جاری کیا۔
“اس بڈھے کو فوراً سرِ عام پھانسی دے دی جائے! یہ بظاہر غریب دکھنے والا شخص دراصل ففتھ جنریشن وارفیئر کا ماسٹر مائنڈ ہے، جس نے جانوروں اور پرندوں کی باقاعدہ تنظیم سازی کر رکھی ہے۔ آج اس کے کبوتر نے میرا ہار چرایا ہے، کل کو یہ میرا تاج بھی اڑا لے جائے گا۔ ریاست کی رٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا!”

نوٹ: اس کہانی اور ہمسایہ ملک میں انصاف کے سسٹم” میں کوئی خاص مماثلت نہیں… البتہ دونوں میں اخیر جیت ہمیشہ سسٹم کی ہی ہوتی ہے۔

میرا ماننا ہے کہ بادشاہ اور مقتدر حلقے صرف کتابوں میں ہی رحم دل ہوتے ہیں۔ کیا ایسا نہیں؟

Leave a Reply

NZ's Corner