بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!


ایک بادشاہ کی عدالت میں ایک ملزم کو پیش کیا گیا۔
مقدمہ سننے کے بعد بادشاہ نے اشارہ کیا کہ اسے قتل کر دیا جائے۔
حکم ملتے ہی سپاہی اسے قتل گاہ کی طرف لے چلے۔
اب چونکہ اسے سب سے بڑی سزا سنائی جا چکی تھی، اس لیے اس کے دل سے خوف نکل چکا تھا۔
وہ چلتے چلتے بادشاہ کو بُرا بھلا کہنے لگا، کیونکہ اس کے نزدیک اب اس سے بڑھ کر کوئی سزا باقی نہ تھی۔
بادشاہ نے دیکھا کہ قیدی کچھ کہہ رہا ہے تو اس نے وزیر سے پوچھا:
“یہ کیا کہہ رہا ہے؟”
بادشاہ کا یہ وزیر نہایت نیک دل تھا۔
اس نے سوچا، اگر سچ سچ بتا دیا گیا تو بادشاہ غصے میں آ کر قتل سے پہلے بھی قیدی کو اذیت دے سکتا ہے۔
چنانچہ اس نے عرض کیا:
“حضور! یہ کہہ رہا ہے کہ اللہ اُن لوگوں کو پسند کرتا ہے جو غصہ ضبط کرتے ہیں اور لوگوں کے ساتھ بھلائی کرتے ہیں۔”
یہ سن کر بادشاہ مسکرا دیا
اور فوراً حکم دیا کہ قیدی کو آزاد کر دیا جائے۔
یہ منظر دیکھ کر بادشاہ کا دوسرا وزیر، جو پہلے وزیر کا مخالف اور تنگ دل تھا، آگے بڑھا اور بولا:
“یہ مناسب نہیں کہ کوئی وزیر بادشاہ کو دھوکے میں رکھے۔
سچ یہ ہے کہ قیدی حضور کی شان میں گستاخی کر رہا تھا، نہ کہ غصہ ضبط کرنے اور بھلائی کی باتیں۔”
یہ سن کر نیک دل بادشاہ نے فرمایا:
“اے وزیر! تیرے اس سچ سے، جس کی بنیاد بغض اور کینے پر ہے،
تیرے بھائی کی وہ غلط بیانی بہتر ہے جس سے ایک انسان کی جان بچ گئی۔
یاد رکھ!
وہ سچ جو فساد پھیلائے، اس سے بہتر ہے وہ جھوٹ جو کسی برائی کو دور کر دے۔”
وہ سچ جو فساد کا سبب ہو، بہتر ہے نہ وہ زباں پہ آئے
اچھا ہے وہ کذب ایسے سچ سے، جو آگ فساد کی بجھائے
حاسد وزیر یہ سن کر شرمندہ ہو گیا۔
بادشاہ نے قیدی کی رہائی کا فیصلہ برقرار رکھا اور اپنے وزیروں کو نصیحت کی:
“بادشاہ ہمیشہ اپنے وزیروں کے مشوروں پر عمل کرتے ہیں،
اور وزیروں کا فرض ہے کہ وہ ایسی بات زبان پر نہ لائیں جس میں کوئی بھلائی نہ ہو۔
یہ دنیاوی زندگی بہرحال ختم ہونے والی ہے۔
بادشاہ ہو یا فقیر، سب نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔
اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ روح تخت پر قبض کی جائے یا مٹی کے فرش پر۔”
وضاحت:
حضرت سعدیؒ کی اس حکایت کو پڑھ کر بعض لوگ یہ نتیجہ نکال لیتے ہیں کہ مصلحت کے لیے جھوٹ بولنا جائز ہے،
حالانکہ یہ درست نہیں۔
اس حکایت کی اصل روح یہ ہے کہ خلقِ خدا کی بھلائی کا جذبہ انسان کے تمام جذبات پر غالب ہونا چاہیے۔
جب یہ اعلیٰ مقصد سامنے ہو تو مصلحت کے مطابق رویہ اختیار کرنے میں مضائقہ نہیں—
بالکل ویسے ہی جیسے ایک جرّاح فاسد مواد نکالنے کے لیے نشتر استعمال کرتا ہے۔
جسم کو کاٹنا بذاتِ خود اچھی بات نہیں،
مگر جب یہ عمل شفا کے لیے ہو تو اسے قابلیت سمجھا جاتا ہے، ظلم نہیں۔
✨ اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو مجھے فالو ضرور کریں۔

Leave a Reply

NZ's Corner