قاہرہ کی فضا ان دنوں عجیب سرگوشیوں سے بھری ہوئی تھی۔ بازاروں، حماموں اور محلّوں میں ایک ہی نام زبان زدِ عام تھا۔ لوگ کہتے تھے کہ سلطان کی رعایا میں ایک عورت ہے جو دعویٰ کرتی ہے کہ وہ صرف دیکھ کر بتا سکتی ہے کہ کون پاک دامن ہے، کون حاملہ ہے اور کون اپنے کردار میں لغزش کا شکار رہی ہے۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ سادہ لوح لوگ اس پر یقین بھی کر رہے تھے، حتیٰ کہ کچھ بااثر گھرانے بھی اپنی عورتوں اور لڑکیوں کو اس کے پاس لے جانے لگے تھے۔
یہ خبر جب سلطان صلاح الدین ایوبیؒ تک پہنچی تو ان کے چہرے پر ناگواری کے آثار نمایاں ہو گئے۔ سلطان نے نہ صرف ایک حکمران کی حیثیت سے بلکہ ایک عادل انسان کے طور پر بھی اس بات کو خطرناک سمجھا۔ انہیں علم تھا کہ ایسے دعوے معاشرے میں بدگمانی، فتنہ اور بے حیائی کو جنم دیتے ہیں۔
سلطان نے دربار میں کسی کو کچھ کہنے کے بجائے خاموشی سے فیصلہ کیا کہ وہ خود حقیقت جانیں گے۔
اگلی صبح سلطان نے شاہی لباس اتار دیا، ایک سادہ آدمی کا بھیس بدلا اور دو قریبی محافظوں کو دور ہی رکنے کا حکم دے کر اس محلے کی طرف روانہ ہو گئے جہاں وہ عورت رہتی تھی۔ گلی تنگ تھی، مگر دروازے پر عورتوں کا ہجوم اس بات کا ثبوت تھا کہ اس کا دھندا خوب چل رہا ہے۔
سلطان نے بھی قطار میں کھڑے ہو کر اپنی باری کا انتظار کیا۔ جب اندر بلایا گیا تو ایک نیم تاریک کمرہ تھا، دیواروں پر عجیب تعویذ، اور درمیان میں ایک بوڑھی مگر چالاک آنکھوں والی عورت بیٹھی تھی۔
اس نے سلطان کو سر سے پاؤں تک دیکھا اور مسکراتے ہوئے بولی: “بیٹھو، میں سب جان لیتی ہوں۔”
سلطان نے بھاری آواز بدل کر کہا: “لوگ کہتے ہیں تم سچ اور جھوٹ میں فرق جان لیتی ہو۔ میں یہ دیکھنے آیا ہوں کہ یہ بات درست ہے یا نہیں۔”
عورت ہنسی، پھر اٹھ کر ایک چولہے کی طرف گئی جہاں پانی اُبل رہا تھا۔ اس نے اس میں سے ایک انڈا نکالا جو ابھی گرم تھا اور اسے کپڑے میں لپیٹ کر سلطان کے سامنے رکھتے ہوئے عجیب انداز میں ایک آزمائش کا ذکر کیا۔ اس کے الفاظ ایسے تھے جن میں اشارہ تھا مگر کوئی کھلی بات نہیں۔
سلطان لمحہ بھر کو خاموش رہے۔ پھر انہوں نے نہایت سکون سے کہا: “اگر تم واقعی جانتی ہو تو مجھے کسی آزمائش کی ضرورت نہیں، سچ خود بول پڑتا ہے۔”
عورت چونکی، مگر اپنی چالاکی برقرار رکھتے ہوئے بولی: “نہیں، یہی طریقہ ہے۔ جو اس سے گھبرائے، اس کا راز کھل جاتا ہے۔”
اسی لمحے سلطان سیدھے کھڑے ہو گئے۔ ان کی آواز میں اب رعایا کا آدمی نہیں بلکہ حکمراں کی گونج تھی۔ “بس کرو!”
عورت سہم گئی۔ سلطان نے اپنی پگڑی اتاری اور کہا: “میں صلاح الدین ایوبی ہوں۔”
یہ سنتے ہی عورت کے ہاتھ سے وہ چیز چھوٹ گئی، چہرے کا رنگ اڑ گیا، اور وہ کانپنے لگی۔ کمرے کے باہر کھڑی عورتوں میں کھلبلی مچ گئی۔
سلطان نے بلند آواز میں کہا: “تو لوگوں کی عزتوں سے کھیلتی ہے؟ اندازوں اور ڈر کے سہارے کردار کے فیصلے کرتی ہے؟ کیا اللہ نے تجھے دلوں کے بھید سونپے ہیں؟”
عورت رونے لگی اور بولی: “بادشاہ سلامت! لوگ خود آتے ہیں، میں نے تو صرف ان کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھایا۔”
سلطان کا چہرہ سخت ہو گیا۔ “کمزوری سے فائدہ اٹھانا ہی سب سے بڑا جرم ہے۔”
اسی وقت سلطان نے حکم دیا کہ عورت کو قید میں ڈال دیا جائے اور شہر میں اعلان کروا دیا جائے کہ: “عزت اور کردار کا فیصلہ صرف اللہ کرتا ہے، نہ کہ کوئی انسان، نہ کوئی فریب کار۔”
چند ہی دنوں میں وہ فتنہ ختم ہو گیا۔ لوگ شرمندہ تھے کہ وہ کس طرح ایک جھوٹ پر یقین کرتے رہے۔
سلطان صلاح الدین ایوبیؒ نے دربار میں فرمایا: “جس معاشرے میں بدگمانی آسان اور تحقیق مشکل ہو جائے، وہاں ظلم جنم لیتا ہے۔”
یہ واقعہ قاہرہ کی تاریخ میں ایک سبق بن گیا کہ علم کے بغیر دعویٰ، اور طاقت کے بغیر سچ کبھی دیرپا نہیں ہوتا۔
