بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

یہ قصہ ہے چاچا نتھو کا جن کے خراٹے مشہور تھے کہ اگر وہ سو جائیں تو آس پاس کے پرندے درختوں سے گر جاتے تھے۔ ان کے خراٹوں کی گونج ایسی تھی جیسے کوئی پرانا ٹریکٹر پہاڑ پر چڑھنے کی کوشش کر رہا ہو۔ ایک بار گاؤں میں افواہ پھیل گئی کہ ایک آدم خور بلا علاقے میں گھوم رہی ہے۔ لوگ ڈر کے مارے شام ہوتے ہی گھروں میں دبک جاتے۔ اسی دوران گاؤں کے چوکیدار نے ہمت کی اور رات کو پہرہ دینے نکلا۔ اتفاق سے چاچا نتھو اس رات اپنی بیٹھک کا دروازہ کھلا چھوڑ کر وہیں سو گئے تھے۔
جیسے ہی چاچا نتھو گہری نیند میں گئے، ان کے نتھنوں سے وہ مخصوص آواز برآمد ہوئی یعنی گھڑڑڑڑ پُھسسس۔ باہر گلی سے گزرنے والے چوکیدار کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ اس نے سمجھا کہ وہ آدم خور بلا یہیں کہیں دیوار کے پیچھے چھپی غرا رہی ہے۔ چوکیدار نے شور مچا دیا کہ بھاگو، بلا آ گئی، بلا آ گئی! دیکھتے ہی دیکھتے پورا محلہ لاٹھیاں اور ٹارچیں لے کر جمع ہو گیا۔ سب نے جب چاچا کی بیٹھک کے پاس آ کر سنا تو وہ آواز واقعی کسی قدیم زمانے کے ڈائنا سور جیسی تھی۔
گاؤں کے مولوی صاحب نے بلند آواز میں کہا کہ لوگو، یہ بلا نہیں، یہ ہماری بداعمالیوں کا شور ہے! اب کیا تھا، خوف کے مارے لوگ اپنے راز اگلنے لگے جیسے حجام بولا کہ میں نے پچھلے ہفتے چوہدری صاحب کی بھینس کا دودھ چوری کیا تھا، مجھے معاف کر دو! قصاب چلایا کہ میں نے گوشت میں پانی ملایا تھا، اب کبھی نہیں کروں گا! پٹواری صاحب کہنے لگے کہ میں نے یتیموں کی فائل دبا رکھی ہے، کل ہی سائن کر دوں گا!
اسی شور شرابے میں چاچا نتھو کی آنکھ کھل گئی۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھے اور زور سے ہائیں بول کر باہر آئے۔ جیسے ہی ان کا سفید سر اور بڑی بڑی مونچھیں اندھیرے میں نمودار ہوئیں، آدھا مجمع تو یا اللہ خیر کہتا ہوا الٹے پاؤں بھاگا۔ جب حقیقت کھلی کہ یہ کوئی بلا نہیں بلکہ چاچا نتھو کے خراٹے تھے، تو لوگوں کی جان میں جان آئی۔ لیکن شرمندگی کا یہ عالم تھا کہ اس دن کے بعد گاؤں میں دودھ خالص ملنے لگا اور پٹواری صاحب نے فائلیں خود گھر جا کر پہنچائیں۔ چاچا نتھو آج بھی حیران ہیں کہ اب پورا گاؤں ان کے گھر کے آگے سے گزرتے ہوئے خاموشی کا اتنا خیال کیوں رکھتا ہے!

Leave a Reply

NZ's Corner