بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

قدیم بغداد کی گلیوں میں، جہاں چراغوں کی روشنی اور سایوں کی سرگوشیاں ساتھ چلتی تھیں، ایک کاتب رہتا تھا جس کا نام یونس تھا۔ اس کا کام بادشاہ کے دربار میں فیصلوں اور احکامات کو صاف خط میں نقل کرنا تھا۔ یونس کی تحریر بے عیب تھی، مگر اس کا دل ہمیشہ بے چین رہتا، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اس کے لکھے ہوئے الفاظ کسی کی زندگی بدل سکتے ہیں—کسی کو بچا بھی سکتے ہیں اور کسی کو مٹا بھی۔

ایک رات، جب شہر پر خاموشی اتری، یونس کو ایک بند لفافہ ملا۔ اس پر نہ مہر تھی، نہ نام۔ اندر ایک حکم تھا—ایسا حکم جو ایک بے گناہ خاندان کی جلاوطنی کا باعث بنتا۔ یونس کے ہاتھ کانپنے لگے۔ وہ جانتا تھا کہ حکم لکھنا اس کی ذمہ داری ہے، مگر اس کی سچائی اس کے ضمیر پر بوجھ بن گئی۔

اسی رات اسے خواب آیا۔ اس نے دیکھا کہ شہر کی عظیم لائبریری میں ایک آئینہ رکھا ہے۔ جو بھی اس میں دیکھتا، اپنے لکھے ہوئے الفاظ کو زندہ صورت میں دیکھتا۔ یونس نے آئینے میں دیکھا تو اس کے حروف آگ بن گئے، گھروں کو جلاتے، بچوں کو رلاتے۔ وہ چیخ کر جاگ اٹھا۔

اگلے دن، یونس نے قلم اٹھایا مگر لکھا نہیں۔ اس نے حکم کے الفاظ بدل دیے سزا کو تحقیق میں، جلاوطنی کو مہلت میں۔ اس نے دستخط وہی نقل کیے، مگر معنی بدل دیے۔ دن گزرا، کوئی شور نہ مچا۔ ہفتے بعد خبر آئی کہ خاندان بے گناہ ثابت ہوا۔

مہینوں بعد، اسی لائبریری میں ایک نیا آئینہ رکھا گیا۔ اس میں یونس نے اپنے الفاظ کو چراغ بنتے دیکھا—راستہ دکھاتے، زخم سیتے۔ اس دن اسے معلوم ہوا کہ لکھنے والا محض کاتب نہیں ہوتا؛ وہ تقدیر کے کنارے کھڑا ایک ذمہ دار انسان ہوتا ہے۔

سبق

الفاظ غیر جانبدار نہیں ہوتے۔ جو لکھتا ہے، وہ اثرات کا بھی ذمہ دار ہوتا ہے۔ ضمیر کے بغیر مہارت، تباہی پیدا کرتی ہے۔

حوالہ جات

الف لیلہ و لیلہ (Arabian Nights) کی تمثیلی روایات

Leave a Reply

NZ's Corner