بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

انیسویں صدی کے روس کے ایک برفانی قصبے میں، ایوان نام کا ایک معمولی کلرک رہتا تھا۔ اس کی زندگی فائلوں، مہروں اور سرد دفتری کمروں میں گزر جاتی تھی۔ اس کی تنخواہ کم تھی، کمرہ تنگ، اور کوٹ اتنا پرانا کہ سردی اس کے اندر تک اتر جاتی۔ مگر ایوان کی سب سے بڑی خواہش ایک نیا اوورکوٹ تھا ایسا کوٹ جو اسے سردی ہی نہیں، بے قدری سے بھی بچا لے۔

وہ برسوں پیسے جوڑتا رہا۔ چائے کم، موم بتی آدھی، اور جوتے بار بار سلواتا رہا۔ آخرکار درزی پیٹرووچ نے کوٹ تیار کر دیا۔ جب ایوان نے وہ کوٹ پہنا تو اسے یوں لگا جیسے وہ پہلی بار واقعی انسان بنا ہو۔ دفتر میں لوگوں نے اسے دیکھا، مسکرائے، حتیٰ کہ افسر نے بھی سر ہلایا۔ اس ایک کوٹ نے ایوان کو وہ پہچان دے دی جو برسوں کی محنت نہ دے سکی تھی۔

مگر خوشی مختصر تھی۔ ایک رات، واپسی پر، اندھیری گلی میں ڈاکوؤں نے اس سے کوٹ چھین لیا۔ ایوان کی چیخ برف میں دب گئی۔ وہ تھانے گیا، دفاتر کے چکر لگائے، مگر ہر جگہ اسے ٹال دیا گیا۔ ایک بڑے افسر کے سامنے جب اس نے فریاد کی تو اسے ڈانٹ کر نکال دیا گیا۔ ایوان بیمار پڑ گیا۔ سردی، ذلت اور ناانصافی نے مل کر اسے توڑ دیا۔ چند ہی دنوں میں وہ مر گیا۔

کہتے ہیں، اس کے بعد شہر میں ایک عجیب افواہ پھیلی۔ راتوں کو ایک سایہ نمودار ہوتا، جو لوگوں سے اوورکوٹ چھین لیتا خاص طور پر ان سے جو طاقت اور اختیار میں مست تھے۔ ایک رات وہی بڑا افسر بھی اس سایے کے سامنے آیا۔ سایہ خاموش تھا، مگر اس کی گرفت سرد اور فیصلہ کن تھی۔ افسر کا کوٹ چھن گیا، اور اس رات کے بعد وہ بدل گیا کم بولنے لگا، زیادہ سننے لگا۔

سایہ پھر کبھی نہ دکھائی دیا۔ مگر شہر میں یہ احساس باقی رہ گیا کہ جن چیزوں کو ہم معمولی سمجھتے ہیں، وہ کسی کی پوری زندگی ہو سکتی ہیں۔

سبق

طاقت اور اختیار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ اگر کمزور کی معمولی ضرورت کو نظرانداز کریں، تو وہی نظرانداز کی ہوئی آوازیں کبھی نہ کبھی حساب مانگتی ہیں۔ انسان کی عزت چھوٹی چیزوں سے جڑی ہوتی ہے، اور ان کی توہین بڑے نتائج لاتی ہے۔

حوالہ جات

نکولائی گوگول، The Overcoat

روسی کلاسیکی حقیقت پسند ادب

Public Domain Russian Literature

Leave a Reply

NZ's Corner