یہ واقعہ ایک ایسے صاحب کا ہے جنہیں نیند میں چلنے اور بولنے کی بیماری تھی، لیکن ان کی اس بیماری نے پورے محلے کو ایک رات “توبہ” کرنے پر مجبور کر دیا۔ ان کا نام کریم بخش تھا، مگر محلے والے انہیں “کریموں مراقبہ” کہتے تھے کیونکہ وہ اکثر چلتے چلتے کہیں بھی کھڑے کھڑے سو جاتے تھے۔
ایک دفعہ گرمیوں کی رات تھی، کریم صاحب اپنی چھت پر سو رہے تھے۔ اچانک ان کا “خوابوں والا انجن” اسٹارٹ ہوا اور وہ نیند ہی میں اٹھ کر چل دیے۔ اتفاق سے اس رات محلے کے چوہدری صاحب کے گھر چوری کی واردات ہوئی تھی اور پورے محلے کے مرد لاٹھیاں لے کر گلیوں میں پہرہ دے رہے تھے۔
کریم صاحب سفید لٹھا پہن کر، آنکھیں بند کیے، ہاتھ لہراتے ہوئے گلی میں آئے تو پہرہ دینے والے نوجوانوں کی جان نکل گئی۔ ایک تو آدھی رات کا وقت، اوپر سے کریم صاحب کی سفید پوشاک اور ان کے منہ سے نکلنے والی عجیب و غریب آوازیں! ایک نوجوان چلایا، “اوئے بھاگو! چور نہیں، یہ تو کسی گناہگار کی روح بھٹک رہی ہے!”
ابھی لوگ بھاگنے ہی والے تھے کہ کریم صاحب ایک دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑے ہو گئے اور اونچی آواز میں بولے، “سب کا حساب ہوگا! جو چھپایا ہے وہ نکالنا پڑے گا!” اصل میں وہ خواب میں کسی دکاندار سے ادھار کا حساب مانگ رہے تھے، لیکن محلے والوں نے سمجھا کہ شاید یہ کوئی فرشتہ ہے جو ان کے “کالے کرتوتوں” کا حساب لینے آیا ہے۔
چوہدری صاحب، جو محلے کے سب سے بڑے زمیندار تھے، ڈر کے مارے وہیں گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور بولے، “اے غیبی طاقت! میں وعدہ کرتا ہوں کہ کل ہی بیوہ بی بی کی زمین واپس کر دوں گا، بس مجھے معاف کر دو!” ایک اور صاحب بولے، “میں نے جو مسجد کے فنڈ سے پنکھا چوری کیا تھا، وہ بھی صبح واپس لگا دوں گا!”
کریم صاحب نے نیند ہی میں ایک زوردار قہقہہ لگایا اور بولے، “بہت دیر کر دی تم نے!” یہ سننا تھا کہ مجمعے میں چیخ و پکار مچ گئی۔ کوئی نالے میں گرا تو کوئی اپنی چادر وہیں چھوڑ کر ننگے پاؤں بھاگا۔
صبح جب کریم صاحب اپنے بستر پر جاگنے کے بجائے محلے کے چوک میں لگے ایک درخت کے نیچے سوئے ہوئے پائے گئے، تو لوگ انہیں عقیدت سے دیکھنے لگے۔ اس دن کے بعد سے محلے کے کئی بگڑے ہوئے کام ٹھیک ہو گئے، کیونکہ سب کو ڈر تھا کہ “سفید پوش حساب لینے والا” دوبارہ نہ آ جائے۔ کریم صاحب آج بھی حیران ہیں کہ لوگ اب انہیں دیکھ کر راستہ کیوں بدل لیتے ہیں اور چوہدری صاحب انہیں دیکھ کر نظریں کیوں جھکا لیتے ہیں۔
