ایک دن مینڈکوں کا ایک گروہ کہیں جا رہا تھا کہ اچانک دو مینڈک ایک گڑھے میں جا گرے۔
باہر موجود مینڈکوں نے دیکھا کہ یہ گڑھا ان دونوں کے قابو سے باہر ہے تو انہوں نے اوپر سے چیخنا شروع کر دیا:
“افسوس! تم اس سے باہر نہیں نکل پاؤ گے، بس ہلکان ہو جاؤ، ہار مان لو اور موت کا انتظار کرو!”
ایک مینڈک یہ سب سن کر دل ہی دل میں ہار مان گیا، چند کوششیں کیں مگر دل برداشت نہ کر سکا، اور واقعی مر گیا۔
دوسرا مینڈک مسلسل اپنی پوری طاقت لگا کر گڑھے سے باہر نکلنے کی کوشش کرتا رہا، جگہ بدل کر، جمپ لگاتے ہوئے۔
اوپر والے مینڈک پوری طاقت سے چیخ رہے تھے، سیٹیاں بجا رہے تھے، روک رہے تھے کہ “مت ہلکان ہو، موت تیرا مقدر ہے!”
لیکن مینڈک نے اور زیادہ شدت سے کوشش جاری رکھی اور آخر کار کامیاب ہو گیا۔
جب سب مینڈک اس کے گرد جمع ہوئے اور پوچھا کہ وہ کیسے باہر نکلا، تو سب حیران رہ گئے کہ یہ مینڈک کانوں سے بہرا تھا!
وہ مسلسل یہ سمجھ کر جدوجہد کر رہا تھا کہ اوپر والے مینڈک اس کی ہمت بڑھا رہے ہیں، خیرخواہ ہیں، حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ وہ سب اس کا حوصلہ توڑنے میں لگے ہوئے تھے۔
✨ نتیجہ:
کسی کی بھی تنقید پر دل چھوٹا نہ کریں، بلکہ اس تنقید کو سیڑھی سمجھ کر کامیابی کی منزل کی طرف بڑھتے رہیں۔
اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو مجھے فالو ضرور کریں! ✅
