بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

یہ اس دور کا ذکر ہے جب بنی اسرائیل نے اپنی آنکھوں سے سمندر کو پھٹتے دیکھا تھا۔ فرعون غرق ہو چکا تھا۔ لاجک کہتی ہے کہ ان کا ایمان اتنا پکا ہونا چاہیے تھا کہ کوئی ہلا نہ سکے۔ لیکن ہوا کیا؟

حضرت موسیٰ علیہ السلام صرف چالیس راتوں کے لیے کوہِ طور پر گئے۔ پیچھے ایک شخص تھا، سامری۔

اس شخص نے قوم کی سائیکالوجی کو سمجھا۔ اس نے دیکھا کہ یہ لوگ دکھاوے اور آواز سے متاثر ہونے والے ہیں۔ اس نے زیورات پگھلا کر سونے کا ایک بچھڑا بنایا جس میں سے ہوا گزرتی تھی تو آواز آتی تھی۔

سامری نے ایک بیانیہ یا نیریٹو سیٹ کیا کہ یہ تمہارا خدا ہے۔

اور حیرت کی بات دیکھیں! وہ قوم جس نے ابھی خدا کا معجزہ دیکھا تھا، وہ ایک اسٹیچو کے آگے سجدے میں گر گئی۔

یہ تاریخ کا سب سے بڑا ماس برین واشنگ کا واقعہ تھا۔ قرآن نے اسے سورۃ طہٰ میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔

( سورۃ طٰہٰ، آیات 85 تا 88)

آج ہم اسی مائنڈ سیٹ کے ساتھ جی رہے ہیں۔ لیکن جس واقعے کا آج ہم ذکر کرنے جا رہے ہیں، وہ سامری کے فتنے سے اربوں گنا بڑا ہے۔ یہ وہ دن ہوگا جب اصل ماسٹر مائنڈ اپنے فالوورز کے منہ پر تھپڑ مارے گا۔

آئیے قرآن کے آنکھ سے فیوچر کے اس ایونٹ کو ڈی کوڈ کرتے ہیں۔

ہم آج کن کے پیچھے بھاگ رہے ہیں؟ سیاست دان، ٹرینڈ سیٹرز، یا ماڈرن فلاسفرز یا بزرگان کی اندھی تقلید – نفسیات میں ہم اسے ہیلو ایفیکٹ کہتے ہیں یعنی ہم سمجھتے ہیں کہ اگر یہ بندہ فیمس ہے تو یہ ہمیں بچا لے گا۔

لیکن قیامت کے دن، جب جہنم کا فیصلہ ہو جائے گا، تو یہ سارے فالوورز چیخیں گے۔

کمزور لوگ اپنے بڑوں کا گریبان پکڑیں گے اور کہیں گے

“ہم تو تمہارے پیچھے چلے تھے، تم نے سسٹم بنایا، تم نے کلچر بنایا، ہم نے اپنایا۔ آج ہمیں اللہ کے عذاب سے بچاؤ!

جواب کیا ملے گا؟ وہ بڑے لیڈرز کہیں گے

“بھئی ہم تو خود پھنسے ہوئے ہیں، ہم تمہارے کام نہیں آ سکتے۔”

(سورۃ ابراہیم، آیت 21)

جب سارے انسانی سہارے ٹوٹ جائیں گے، تو سب کی نظریں اس سپریم لیڈر کی طرف اٹھیں گی جس نے انسانیت کو پہلے دن سے ہائی جیک کیا ہوا ہے،

یہاں سے اینٹری ہوتی ہے ابلیس کی

اب منظر بدلتا ہے۔ جہنم کے شعلوں کے درمیان ایک منبر لگتا ہے۔ شیطان کھڑا ہوتا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں وہ انسان کی نام نہاد دانشوری اور انٹیلیکٹ کی دھجیاں اڑا دیتا ہے۔

قرآن کی سورۃ ابراہیم کی آیت نمبر 22 انسان کی نفسیات کا سب سے بڑا پوسٹ مارٹم ہے۔ شیطان اپنی تقریر میں دو ٹوک تین باتیں کرے گا

شیطان کہے گا:

“اللہ نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا، اور میں نے بھی تم سے وعدہ کیا تھا لیکن میں نے تم سے وعدہ خلافی کی۔”

یعنی وہ کلیئر بتا دے گا کہ میں نے تمہیں صرف دھوکا بیچا تھا اور تم نے خرید لیا۔

دوسرا پوائنٹ اتھارٹی کا سوال

یہ سب سے اہم پوائنٹ ہے جہاں وہ اپنا وکٹم کارڈ پھاڑ کر پھینک دے گا۔

وہ کہے گا

“میرا تم پر کوئی زور یا زبردستی نہیں تھی۔

غور کریں!

شیطان یہاں فری وِل یا آزاد مرضی کا مقدمہ لڑ رہا ہے۔ وہ کہہ رہا ہے کہ میں نے تمہارا ہاتھ پکڑ کر زبردستی رشوت نہیں دلوائی تھی۔ میں نے تمہاری آنکھیں زبردستی فحاشی پر نہیں جمائی تھیں۔

اس نے صرف خیال ڈالا، جسے ہم نفسیات میں انسپشن کہتے ہیں۔

وہ کہے گا

میں نے صرف تمہیں بلایا، انوائٹ کیا، اور تم نے بھاگ کر میری بات مان لی۔

یعنی قصور مارکیٹنگ کرنے والے کا نہیں، قصور گھٹیا پروڈکٹ خریدنے والے کا ہے۔

تیسرا پوائنٹ بلیم گیم کا خاتمہ

اور آخر میں وہ کہے گا

“آج مجھے ملامت نہ کرو، بلکہ اپنے آپ کو ملامت کرو۔”

یہ وہ جملہ ہے جو انسان کی انا کو توڑ کر رکھ دے گا۔

(سورۃ ابراہیم، آیت 22)

یہاں اکثرلوگ سوچتے ہیں کہ شیطان بہت طاقتور ہے،

نہیں

ہم کمزور ہیں۔ ہم نے اپنا ڈیفنس میکانزم تباہ کر لیا ہے۔

نبی کریم ﷺ کی حدیث ہے کہ تم میں سے ہر ایک کے ساتھ ایک ساتھی جن (شیطان) اور ایک ساتھی فرشتہ مقرر ہے۔

صحابہؓ نے پوچھا: “یا رسول اللہ! آپ کے ساتھ بھی؟”

آپ ﷺ نے فرمایا: “ہاں! میرے ساتھ بھی، لیکن اللہ نے اس کے مقابلے میں میری مدد فرمائی اور وہ میرا مطیع ہو گیا۔ اب وہ مجھے صرف نیکی کا مشورہ دیتا ہے۔”

(صحیح مسلم، کتاب صفات المنافقین، حدیث: 2814)

ریزسٹنس ممکن ہےدوستو۔ اگر مزاحمت ممکن نہ ہوتی تو اللہ حساب نہ لیتا۔

مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے اندر کے شیطان کو اتنا فیڈ کیا ہے، اتنا پالا ہے کہ وہ ہم پر حاوی ہو گیا ہے۔ آپ کا نفس کمزور پڑ گیا ہے کیونکہ آپ کے پاس علمی اور روحانی دفاع نہیں ہے

آج کا مسلمان وکٹم مائنڈ سیٹ کا شکار ہے۔ وہ کہتا ہے معاشرہ برا ہے، فتنہ بہت ہے، میں کیا کروں؟

صحابہ کرام کا لیول کیا تھا؟ وہ شیطان کو نہیں، خود کو کٹہرے میں کھڑا کرتے تھے۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا تاریخی قول ہے

“اپنا احتساب خود کر لو، اس سے پہلے کہ قیامت کے دن تمہارا احتساب کیا جائے۔”

( سنن الترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ، حدیث: 2459)

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی نفسیاتی گہرائی دیکھیں، وہ فرماتے ہیں:

“مومن اپنے گناہوں کو ایسے دیکھتا ہے جیسے وہ کسی پہاڑ کے نیچے بیٹھا ہو اور ڈر رہا ہو کہ وہ اس پر گر جائے گا، جبکہ بدکار اور منافق اپنے گناہوں کو ایسے دیکھتا ہے جیسے اس کی ناک پر مکھی بیٹھی ہو، جسے وہ ہاتھ سے اڑا دے۔”

(صحیح بخاری، کتاب الدعوات، حدیث: 6308)

فرق پرسیپشن یا زاویہ نظر کا ہے۔ شیطان آپ کے زاویہ نظر کو ہیک کرتا ہے۔ وہ گناہ کو مکھی بنا کر دکھاتا ہے، اور جب آپ پھنس جاتے ہیں تو جہنم میں کہتا ہے کہ تمہارے پاس عقل نہیں تھی؟

توبات بہت سادہ ہے۔

یہ کوئی افسانہ نہیں ہے۔ یہ آپ کا اور میرا ممکنہ مستقبل ہے۔

شیطان کوئی پپٹ ماسٹر نہیں ہے جو آپ کو نچا رہا ہے، وہ صرف ایک انفلوئنسر ہے۔ ڈوریاں آپ کے اپنے ہاتھ میں ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے سورۃ الحجر میں دو ٹوک فرما دیا ہے:

“جو میرے حقیقی بندے ہیں، ان پر تیرا کوئی زور نہیں چلے گا۔”

( سورۃ الحجر، آیت 42)

اگر شیطان کا زور آپ پر چل رہا ہے، تو چیک کریں، کہیں آپ نے اللہ کی بندگی چھوڑ کر اپنی خواہشات کی غلامی تو شروع نہیں کر دی؟

فیصلہ آج کرنا ہے۔

کیا آپ انتظار کریں گے اس دن کا جب شیطان آپ کو بیوقوف کہہ کر اپنی جان چھڑائے گا؟

یا آج ہی اپنی وِل پاور کو استعمال کرتے ہوئے اس شیطانی نظام سے بغاوت کریں گے؟

جاگ جائیں، اس سے پہلے کہ ہمیشہ کے لیے سلا دیے جائیں۔

Leave a Reply

NZ's Corner