ایک صاحب کو لمبی لمبی گپیں ہانکنے کی ایسی عادت تھی کہ وہ جب بھی کوئی قصہ سناتے تو مبالغہ آرائی کی ایسی انتہا کرتے کہ ذی شعور تو کیا، نادان بھی یقین کرنے سے کتراتے۔ ایک دن ان کے ایک مخلص دوست نے سمجھایا کہ “یار! ہاتھ ذرا ہولا رکھا کرو۔ اتنی بڑی گپ مارتے ہو کہ لوگ مذاق بناتے ہیں۔” وہ صاحب قائل تو ہو گئے اور طے یہ پایا کہ اگلی بار جب وہ کوئی کہانی سنائیں اور دوست کو لگے کہ اب بات حد سے بڑھ رہی ہے، تو وہ ہلکا سا کھانس دے گا تاکہ صاحب سنبھل جائیں۔
کچھ دن بعد ایک محفل میں ذکر چھڑا تو موصوف نے اپنا ایک واقعہ سنانا شروع کیا: “بھئی! ایک بار میں جنگل سے گزر رہا تھا کہ اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ سامنے ایک دیو ہیکل سانپ ہے! میرا اندازہ ہے کہ وہ کم از کم 140 فٹ لمبا ہو گا۔”
یہ سن کر دوست نے وعدے کے مطابق دھیرے سے کھانسا۔
وہ صاحب ذرا جزبز ہوئے مگر بات جاری رکھی: “پھر میرے ذہن میں آیا کہ اتنا بڑا سانپ تو بھلا کہاں ہوتا ہے، قریب جا کر دیکھنا چاہیے۔ جب میں بالکل پاس پہنچا تو اندازہ ہوا کہ وہ 110 فٹ کے لگ بھگ تو ہو گا۔”
دوست نے پھر گلا صاف کیا اور دوبارہ کھانسا۔
صاحب نے خشمگیں نگاہوں سے اسے دیکھا اور تلملا کر بولے: “خیر، 110 فٹ بھی بہت ہوتا ہے، میں نے سوچا کہ اسے مار کر ہی اصل لمبائی کا پتہ چل سکتا ہے۔ سو جب میں نے اسے مار گرایا اور قریب سے بغور جائزہ لیا تو خیال آیا کہ 90 فٹ سے تو ایک انچ بھی کم نہ ہو گا۔”
دوست نے اب کی بار ذرا زور سے کھانسی ماری۔
صاحب نے بے چینی سے پہلو بدلا اور بولے: “بھئی! بات کی سچائی پرکھنے کے لیے ضروری تھا کہ اسے باقاعدہ ناپا جائے۔ مرا ہوا سانپ سامنے پڑا تھا، سو میں نے جب اسے ناپا تو وہ پورے 70 فٹ نکلا۔”
اب کے دوست نے پھر ایک بھرپور کھانسی ماری تو قصہ گو کا پیمانہِ صبر لبریز ہو گیا۔ وہ تپ کر بولا:
“اب کیا اسے کاٹ کر شلوار کا ناڑا بنا دوں؟ اب تو ماپا بھی گیا۔
