بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

قدیم زمانے میں، پہاڑوں اور نمکین ہواؤں کے درمیان ایک خاموش بستی تھی جسے لوگ خاموش در کہتے تھے۔ اس بستی میں ایک جوان کمہار رہتا تھا، نام تھا نَویر۔ وہ مٹی کو برتن بناتے وقت گھنٹوں خاموش رہتا، جیسے مٹی اس سے کوئی راز کہہ رہی ہو۔ لوگ کہتے تھے کہ نَویر کی خاموشی عام نہیں، وہ سن سکتا ہے ہوا کی باتیں، آگ کی سرگوشیاں، اور مٹی کے دل کی دھڑکن۔

ایک سال قحط آیا۔ کنویں خشک ہونے لگے۔ بزرگوں نے کہا کہ پہاڑ کے پیچھے ایک پرانا چشمہ ہے، مگر اس تک جانے والا راستہ “بولتی رات” سے گزرتا ہے، وہ رات جس میں ہر سایہ سوال کرتا ہے، اور ہر سوال کا جواب دل سے دینا پڑتا ہے۔ جو جھوٹ بولے، راستہ گم ہو جائے۔

نَویر نے برتنوں کا پہیہ روکا اور تنہا روانہ ہوا۔ رات اتری تو سائے قریب آئے۔ پہلا سایہ بولا:
“تم پانی کیوں چاہتے ہو؟”
نَویر نے کہا: “کیونکہ بستی پیاسی ہے، اور پیاس جھوٹ نہیں مانگتی۔”
راستہ کھل گیا۔
دوسرا سایہ آیا: “اگر پانی نہ ملا تو؟”
نَویر نے کہا: “تو لوٹ آؤں گا، مگر امید چھوڑ کر نہیں۔”

تیسری گھڑی میں، سب سے گہرا سایہ بولا:
“تم خود کیا چاہتے ہو؟”
نَویر ٹھہرا، پھر کہا: “میں چاہتا ہوں کہ میرا ہاتھ مٹی کو توڑے نہیں، سنبھالے۔”

سائے ہٹ گئے۔ چشمہ سامنے تھا صاف، مگر اس کے پاس ایک تختی تھی: “جو لے، وہ بانٹے۔”
نَویر نے برتن بھرا، مگر آدھا چھوڑ دیا۔ واپسی پر وہ ہر موڑ پر چند قطرے زمین کو دیتا گیا۔ صبح تک بستی میں کنویں بھرنے لگے، جیسے زمین نے قرض لوٹا دیا ہو۔

نَویر نے پھر پہیہ گھمایا۔ اس دن اس کے بنے برتنوں میں ایک عجب ٹھہراؤ تھا، جیسے پانی نے مٹی کو پہچان لیا ہو۔

سبق

سچائی خوف کے سوالوں کا واحد راستہ ہے، اور حقیقی عطا وہ ہے جو بانٹنے سے بڑھتی ہے۔ جو نیت صاف رکھے، راستہ خود کھلتا ہے۔

حوالہ جات

قدیم مشرقی لوک روایتیں

Leave a Reply

NZ's Corner