بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

مدینہ کی گلیوں میں اُس دن ایک خاص سی خاموشی تھی، جیسے ہوا بھی آنے والے فیصلے کا بوجھ محسوس کر رہی ہو۔ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ مسجدِ نبوی کے صحن میں بیٹھے تھے، نگاہیں جھکی ہوئی تھیں مگر دل میں ایک سمندر موجزن تھا۔ وہی سعدؓ جن کے ہاتھوں سے اسلام کے لیے پہلی بار تیر چلایا گیا، وہی سعدؓ جن کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ “میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں”۔ آج اُن کے کاندھوں پر صرف ایک لشکر کی نہیں بلکہ پوری اُمت کی امیدوں کا بوجھ تھا۔ فارس کی عظیم سلطنت، جس کے گھوڑوں کی ٹاپ سے زمین کانپتی تھی، جس کے سپاہی زرہوں میں لوہے کی دیوار نظر آتے تھے، اُس سلطنت کے مقابل ایک ایسا لشکر کھڑا تھا جس کے پاس ساز و سامان کم مگر ایمان پہاڑوں سے زیادہ مضبوط تھا۔
حضرت سعدؓ نے روانگی سے پہلے طویل دعا کی۔ اُن کی زبان پر الفاظ تھے مگر دل اللہ کے سامنے جھکا ہوا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ جنگ تلواروں سے نہیں، دلوں کے یقین سے جیتی جاتی ہے۔ قادسیہ کے میدان میں پہنچ کر اُنہوں نے سب سے پہلے لشکر کو دیکھا، سپاہیوں کے چہروں کو پڑھا، ہر آنکھ میں خوف کے ساتھ ایک عزم بھی تھا۔ سعدؓ نے اپنے لشکر کو جمع کیا اور ایسی باتیں کیں جنہوں نے دلوں سے دنیا کا خوف نکال دیا۔ اُنہوں نے فارس کی شان و شوکت کا ذکر نہیں کیا بلکہ اللہ کی نصرت کا وعدہ یاد دلایا۔ اُنہوں نے کہا کہ دشمن کی کثرت سے مرعوب نہ ہونا، کیونکہ حق ہمیشہ تعداد کا محتاج نہیں ہوتا۔
جب جنگ کے دن قریب آئے تو سعدؓ شدید علالت کے باعث گھوڑے پر سوار نہ ہو سکے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب دشمن سمجھ رہا تھا کہ مسلمانوں کا سپہ سالار کمزور ہے، مگر اصل میں یہ کمزوری نہیں بلکہ ایک آزمائش تھی جس میں سعدؓ کا عزم پہلے سے زیادہ مضبوط ہو چکا تھا۔ وہ ایک بلند مقام پر لیٹے ہوئے پورے میدانِ جنگ کو دیکھ رہے تھے، ہر حرکت پر نظر، ہر آواز پر کان۔ اُن کے احکامات میدان میں گونجتے تھے اور سپاہی اُن پر جان نچھاور کرنے کو تیار تھے۔
فارسی فوج اپنے ہاتھیوں کے ساتھ میدان میں اتری تو مسلمانوں کے قدم ایک لمحے کو ڈگمگائے، مگر سعدؓ نے فوراً حکمتِ عملی بدلی۔ اُنہوں نے تیراندازوں کو حکم دیا کہ ہاتھیوں کی آنکھوں اور سونڈوں کو نشانہ بنائیں۔ یہ ایک ایسا فیصلہ تھا جس نے جنگ کا رخ موڑ دیا۔ ہاتھی بدکنے لگے، اپنی ہی فوج کو روندنے لگے، اور وہی ہتھیار جو دشمن کا غرور تھا، اُس کے لیے وبالِ جان بن گیا۔
سعدؓ صرف سامنے سے لڑنے پر یقین نہیں رکھتے تھے، وہ دشمن کے ذہن کو بھی شکست دینا چاہتے تھے۔ رات کے اندھیرے میں اُنہوں نے منتخب جانبازوں کا ایک دستہ تیار کیا۔ یہ وہ لوگ تھے جن کے دلوں میں موت کا خوف نہیں بلکہ شہادت کی آرزو تھی۔ سعدؓ نے اُنہیں بلا کر آہستہ آواز میں ہدایات دیں۔ دشمن کی فوج تعداد میں زیادہ تھی، اُن کے خیمے دور تک پھیلے ہوئے تھے، مگر سعدؓ جانتے تھے کہ غرور ہمیشہ غفلت کو جنم دیتا ہے۔
رات گہری ہوئی، میدان میں خاموشی چھا گئی، صرف دور کہیں گھوڑوں کی ہنہناہٹ سنائی دیتی تھی۔ سعدؓ کے منتخب جانباز اندھیرے میں ایسے گم ہوئے جیسے سایے۔ اُنہوں نے دشمن کے پہرے داروں کی نقل و حرکت کو دیکھا، اُن کی کمزوریوں کو پرکھا۔ کہیں پہرا ڈھیلا تھا، کہیں سپاہی غرور میں سوئے ہوئے تھے۔ یہی وہ لمحہ تھا جس کا انتظار تھا۔ مسلمانوں کا یہ دستہ خاموشی سے آگے بڑھا، ایک ایک قدم ناپ تول کر رکھا، نہ تلوار چمکی نہ آواز نکلی۔
جب وہ دشمن کے خیموں کے قریب پہنچے تو اصل امتحان شروع ہوا۔ یہاں صرف طاقت نہیں بلکہ حوصلہ، صبر اور اللہ پر کامل یقین درکار تھا۔ سعدؓ نے خاص طور پر ہدایت دی تھی کہ بے جا قتل نہ کیا جائے بلکہ خوف پیدا کیا جائے، نظم توڑا جائے، دلوں میں ہیبت بٹھائی جائے۔ اچانک خیموں کے درمیان سے “اللہ اکبر” کی آواز گونجی، ایسی آواز جو دلوں کو چیر کر رکھ دیتی ہے۔ دشمن ہڑبڑا کر اٹھا، سمجھے کہ شاید پوری فوج آ گئی ہے۔ خیموں میں افراتفری مچ گئی، گھوڑے بدک گئے، سپاہی ایک دوسرے سے ٹکرا گئے۔
یہی وہ لمحہ تھا جب سعدؓ کی حکمتِ عملی نے دشمن کو چکمہ دیا۔ سامنے سے بھی حملہ جاری تھا اور پیچھے سے خیموں میں خوف پھیل چکا تھا۔ فارسی سپہ سالار حیران تھا کہ یہ کیسی جنگ ہے، دشمن کم ہے مگر ہر طرف موجود محسوس ہو رہا ہے۔ سعدؓ نے اسی گھبراہٹ کا فائدہ اٹھایا اور اپنے لشکر کو فیصلہ کن حملے کا حکم دیا۔
اس پوری جنگ میں سعدؓ کی شخصیت ایک ایسے رہنما کے طور پر سامنے آتی ہے جو خود کو نہیں بلکہ مقصد کو اہم سمجھتا ہے۔ وہ بستر پر لیٹے ہوئے بھی میدان کے سپہ سالار تھے، اُن کی آنکھیں دشمن کی صفوں میں دراڑیں تلاش کر رہی تھیں، اُن کا دل اللہ سے جڑا ہوا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ فتح کا راز تلوار کی دھار میں نہیں بلکہ نیت کی صفائی میں ہے۔
جب جنگ اپنے انجام کو پہنچی اور فارس کی عظیم فوج پسپا ہونے لگی تو مسلمانوں نے محسوس کیا کہ یہ صرف ایک عسکری فتح نہیں بلکہ ایمان کی فتح ہے۔ سعدؓ نے زمین پر سجدہ شکر ادا کیا، آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ اُنہوں نے خود کو فاتح نہیں بلکہ اللہ کے ایک عاجز بندے کے طور پر دیکھا جسے اس نے اپنی نصرت کے لیے چن لیا تھا۔
حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کی یہ شجاعت، یہ بہادری، یہ حکمت اور دشمن کو چکمہ دینے کی صلاحیت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اصل طاقت ہتھیاروں میں نہیں بلکہ کردار میں ہوتی ہے۔ وہ دشمن کے خیموں تک صرف جسمانی طور پر نہیں پہنچے بلکہ اُن کے دلوں تک خوف بن کر اتر گئے، اور یہی وہ فتح تھی جس نے تاریخ کا رخ بدل دیا۔

Leave a Reply

NZ's Corner