ایک زمیندار کو اپنے مالوں کی رکھوالی کیلیئے ایسے ملازم کی تلاش تھی جو جانثاری سے اس کے فارم کی رکھوالی کر سکے۔ اُسے ہمیشہ اپنے ملازمین سے شکایت رہتی تھی کہ اُسے کوئی حلالی ملازم ملا ہی نہیں۔
زمیندار کے پاس کام کرنے کیلیئے، زمیندار کی سخت شرطوں سے زچ ہو کر کوئی ملازم باآسانی کام کے لیے تیار بھی نہیں ہوتا تھا۔ ایک بار جب اس زمیندار کو ملازم کی شدت سے تلاش تھی تو ایک مجبور آدمی کام کے لیے پہنچا۔ زمیندار نے اس سے پوچھا: اپنی کسی خوبی کا بتاؤ۔ کام کے متلاشی نے کہا: میں جب بارش یا طوفان ہو تو سکون سے سوتا ہوں۔ زمیندار کو اس شخص کی بات کی کوئی خاص سمجھ تو نہ آئی مگر آنے والی سردیوں اور بارش و آندھی طوفان کے موسم کے خدشے کے مارے، بمشکل دستیاب اس شخص کو کام پر رکھ ہی لیا۔
دن گزرتے رہے اور ایک رات کو جب طوفانی بارش ہو رہی تھی، مکانوں کی چھتیں آندھیوں سے اڑ رہی تھیں تو نجانے اس کے ڈھور ڈنگر کے ساتھ کیا ہو رہا ہوگا، زمیندار اپنے اثاثوں کے عدم تحفظ کے خدشات کے مارے اپنے فارم پر پہنچ گیا۔ کیا دیکھتا ہے کہ ملازم مزے سے رضائی اوڑھے گہری نیند میں غرق سو رہا ہے۔ زمیندار نے غصے سے دھاڑتے ہوئے ملازم کے منہ سے رضائی اتار پھینکی اور اسے نیند سے جھنجھوڑ کر پیدار کرتے ہوئے کہا: تم کیسے انسان ہو، باہر بارش کے طوفان نے تباہی مچا رکھی ہے اور تم یہاں مزے سے سو رہے ہو۔
ملازم نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے اپنی نیم وا آنکھوں سے زمیندار کو دیکھتے ہوئے کہا: لیکن میں نے تو آپ کو پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ میں جب بارش ہو یا طوفان، سکون سے سوتا ہوں۔ زمیندار چیختا چھنگھاڑتا اپنے مال مویشیوں کے احاطے کی طرف بھاگا تاکہ وہ بطور مالک اپنے مویشیوں کے بچاؤ کیلیئے کچھ کر سکے۔ لیکن اسے یہ دیکھ کر حیرت کا جھٹکا لگا کہ اس کے ساری مرغیاں پرندے اپنے اپنے ڈربوں میں احتیاط سے ڈھکے ہوئے اور محفوظ بند بیٹھے ہیں، حلال جانور سکون سے جگالیاں کر رہے ہیں اور گھوڑے تندرست و توانا سردی سے محفوظ سکون سے کھڑے ہوئے ہیں۔ زمیندار نے یہ سب ماجرا دیکھا تو ملازم کی طرف گیا اور اسے معذرت خواہانہ انداز میں کہا: سو جا پیارے، سکون سے سو: کیونکہ مجھے اب پتہ چل رہا ہے کہ وہ کون لوگ ہوتے ہیں جو سخت حالات، تنگی ترشی کے وقت اور بارشوں طوفانوں میں سکون سے سو سکتے ہیں۔
خلاصہ:
۔۔۔۔
جب کوئی شخص اپنے کام کو اچھے طریقے سے سر انجام دیتا ہے، آنے والے خدشات کا توڑ پہلے سے بنا کر رکھتا ہے وہ آنے والے کل کی پریشیانیوں سے بے خطر ہو کر سو سکتا ہے۔ اس کام کیلیئے کچھ اور نہیں بس کل کیلیئے آج محنت کرنا پڑتی ہے تاکہ وہ پریشانی اور بارش طوفان میں پاگلوں کی طرح بچاؤ کیلیئے نہ بھاگتا پھرے۔ جب پریشانیاں گھیر لیں تب طاعات کی طرف نہیں بھاگتا ہر حال میں شکر گزار بندہ ہوتا ہے۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
