لندن کے مضافات میں ایک پرسکون دوپہر تھی، لیکن برٹی ووسٹر کے دل میں طوفان بپا تھا۔ اس کے سامنے میز پر ایک ایسی چیز پڑی تھی جسے دیکھ کر اچھے بھلوں کے پسینے چھوٹ جائیں: آنٹی اگاتھا کی تیار کردہ “خصوصی” فروٹ پڈنگ۔
برٹی نے اپنے وفادار نوکر، جِیوز (Jeeves) کی طرف حسرت بھری نگاہوں سے دیکھا۔
“جیوز! کیا تمہیں لگتا ہے کہ اگر میں اسے کھڑکی سے باہر پھینک دوں، تو یہ زمین سے ٹکرا کر واپس اچھلے گی؟” برٹی نے کراہتے ہوئے پوچھا۔
“جناب، میرا خیال ہے کہ اس کی کثافت اتنی زیادہ ہے کہ یہ شاید زمین میں سوراخ کر کے سیدھی آسٹریلیا جا نکلے،” جیوز نے اپنی مخصوص سنجیدگی سے جواب دیا۔
مسئلہ یہ تھا کہ آنٹی اگاتھا—جو برٹی کے مطابق ایک ایسی خاتون تھیں جو شارک مچھلیوں کے ساتھ ناشتہ کر سکتی تھیں—کمرے میں داخل ہونے والی تھیں۔ ان کا ماننا تھا کہ برٹی کو “صحت مند” غذا کی ضرورت ہے۔
اچانک دروازہ کھلا اور آنٹی اگاتھا کسی رعب دار بحری جہاز کی طرح کمرے میں داخل ہوئیں۔
“برٹی! تم نے ابھی تک اپنی پلیٹ ختم نہیں کی؟ یہ تمہاری ہڈیوں کے لیے بہترین ہے!” وہ گرجیں۔
برٹی کا رنگ فق ہو گیا۔ اس نے ایک چمچ اٹھایا ہی تھا کہ اچانک باہر سے کسی کے گرنے اور کتے کے بھونکنے کی آواز آئی۔ آنٹی اگاتھا فوراً کھڑکی کی طرف لپکیں۔
صرف پانچ سیکنڈ کا وقت تھا۔ جیوز نے کمالِ مہارت سے پلیٹ اٹھائی اور پاس پڑے ایک بڑے گلدان میں الٹ دی، اور پھر اتنی ہی تیزی سے خالی پلیٹ برٹی کے سامنے رکھ دی۔
جب آنٹی اگاتھا واپس مڑیں، تو برٹی اطمینان سے اپنی انگلیاں چاٹ رہا تھا۔
“حیرت ہے برٹی! تم نے اتنی جلدی ختم کر لی؟” آنٹی نے مشکوک نظروں سے دیکھا۔
“آنٹی، اس کا ذائقہ اتنا… ‘منفرد’ تھا کہ میں خود کو روک نہ سکا،” برٹی نے مسکرا کر جھوٹ بولا۔
شام کو جب آنٹی چلی گئیں، تو برٹی نے سکون کا سانس لیا۔ لیکن پھر اسے یاد آیا کہ اس گلدان میں آنٹی کے پسندیدہ پھول لگے تھے۔
“جیوز! وہ پھول تو اب اس پڈنگ کے بوجھ تلے دب کر شہید ہو چکے ہوں گے؟”
“جناب،” جیوز نے اطمینان سے کہا، “میں نے گلدان پہلے ہی بدل دیا تھا۔ وہ پڈنگ اب آپ کے پڑوسی، مسٹر گلاسوپ کے کتے کے پیالے میں ہے۔ لیکن ڈرنے کی بات نہیں، وہ کتا بلڈوگ ہے، اسے لوہا ہضم کرنے کی عادت ہے۔”
برٹی کرسی پر دراز ہو گیا۔ “جیوز، تم واقعی ایک جینیس ہو!”
