ایک دن کسی قبیلے کا سردار اپنے گھوڑے پر تنہا صحرا میں سفر کر رہا تھا۔ راستے میں اس کی نظر ایک انسان پر پڑی جو ریت میں دھنسا ہوا تھا۔ سردار فوراً گھوڑا روکا، نیچے اترا اور اس شخص سے ریت ہٹائی۔ وہ بے ہوش تھا، مگر جب سردار نے اسے ہلایا، تو وہ نیم ہوش میں بولا: “میری پیاس اتنی شدید ہے کہ میری زبان اور حلق خشک چمڑے کی طرح اکڑ چکے ہیں۔ اگر پانی نہ پیا تو مر جاؤں گا۔”
سردار نے جلدی سے اپنی زین سے لٹکی ہوئی چھاگل نکالی اور اجنبی کے ہونٹوں سے لگا کر اس کی پیاس بجھائی۔ اجنبی نے سیر ہو کر پانی پیا اور شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: “اے مہربان انسان، میرا گھوڑا کہیں بھاگ گیا ہے۔ کیا آپ مجھے کسی قریبی جگہ لے جا سکتے ہیں تاکہ میں اپنی سواری کا بندوبست کر سکوں؟”
سردار نے خوش دلی سے کہا: “یقیناً!” اور گھوڑے پر بیٹھ کر اجنبی سے کہا: “آؤ، میرے پیچھے بیٹھ جاؤ۔” مگر اجنبی کی کمزوری کے باعث وہ بار بار اٹھ کر بیٹھنے کی کوشش کرتا رہا اور بولا: “صحرا نے میری ساری طاقت نچوڑ دی ہے، براہ کرم میری مدد کریں۔”
سردار اتر کر خوش دلی سے اجنبی کو گھوڑے پر بٹھانے لگا، مگر جیسے ہی اجنبی گھوڑے پر بیٹھا، اس نے ایک زوردار لات سردار کے پیٹ میں رسید کی اور گھوڑے کو ایڑ لگا کر بھگا لیا۔ سردار نے پیچھے سے آوازیں دیں، تو اجنبی رکا اور بولا: “شاید تم سوچ رہے ہو کہ ایک اجنبی نے تمہیں دھوکا دیا۔ میں راہزن ہوں اور لٹیرے سے رحم کی بھیک مانگنا فضول ہے۔”
سردار نے جواب دیا: “میں ایک قبیلے کا سردار ہوں، اور بھیک مانگنا یا رحم کی درخواست کرنا میری شان کے خلاف ہے۔ میں بس اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ شرمندگی کی بات نہیں۔ لیکن جب تم اس گھوڑے کو منڈی میں بیچو، تو اسے کہو کہ یہ مجھے فلاں سردار نے تحفے میں دیا ہے۔ لوگ تو اسے اچھے داموں میں خرید لیں گے۔ تاکہ دوبارہ کسی کو دھوکا نہ دینا پڑے، اور تمہاری وجہ سے اجنبی لوگوں کی مدد کرنے سے کترانے لگیں، یہ قصہ نہ سنانا۔”
اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو مجھے فالو ضرور کریں
