بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

ایک بادشاہ تھا جس کے فیصلوں کے چرچے دور دراز ریاستوں تک پھیلے ہوئے تھے۔
کہا جاتا تھا کہ وہ جو فیصلہ کرتا، وقت خود اس کی گواہی دیتا۔
نہ کوئی فیصلہ پلٹتا، نہ کسی فیصلے پر پچھتاوا ہوتا۔

قریب ہی ایک اور ریاست تھی۔
وہاں کا بادشاہ اختیارات میں کسی سے کم نہ تھا، مگر اس کی بدقسمتی یہ تھی کہ اس کے فیصلے اکثر الٹ پڑتے تھے۔
حکم جاری ہوتے، مگر نتیجہ بغاوت نکلتا۔
اصلاح کی نیت ہوتی، مگر نقصان ہو جاتا۔

ایک دن اس بادشاہ نے اپنے بیٹے، شہزادے، کو بلا کر کہا:
“جا کر اس بادشاہ کے دربار میں رہو۔
دیکھو، سیکھو، سمجھو۔
آخر وہ کون سا عمل ہے جو اس کے فیصلوں کو درست بنا دیتا ہے، اور مجھے ہر بار غلطی کی طرف لے جاتا ہے؟”

شہزادہ روانہ ہوا۔

جب وہ اس مشہور بادشاہ کے دربار میں پہنچا تو منظر اس کی توقع کے بالکل برعکس تھا۔
دربار لگی ہوئی تھی، مگر وہاں خاموشی نہیں تھی۔
بادشاہ کے فیصلوں پر کھلی تنقید ہو رہی تھی۔
وزیر بول رہے تھے، مشیر اختلاف کر رہے تھے، یہاں تک کہ ایک کسان بھی اپنی رائے پیش کر رہا تھا۔

شہزادہ حیرت سے یہ سب دیکھتا رہا۔
دل میں سوچا:
“اگر میرے والد ہوتے تو ان میں سے آدھے لوگ زندہ نہ رہتے۔”

آخر وہ ضبط نہ کر سکا اور بول پڑا:
“بادشاہ سلامت!
یہ لوگ آپ کے فیصلوں پر یوں کھلے عام تنقید کر رہے ہیں، اور آپ خاموش ہیں؟
یہ تو گستاخی ہے!”

بادشاہ مسکرایا اور نرمی سے کہا:
“تمہارے والد اگر یہی کرتے ہیں تو اسی لیے وہ آج میرے دربار میں نہیں، اور تم میرے دربار میں کھڑے ہو۔”

شہزادہ چونک گیا۔

بادشاہ نے بات جاری رکھی:
“دیکھو، فرق صرف اتنا ہے کہ تمہارے والد تنقید فیصلے کے بعد سنتے ہیں،
اور میں تنقید فیصلے سے پہلے سنتا ہوں۔

وہ پہلے حکم دیتے ہیں، پھر ساری عمر لوگوں کی شکایتیں سنتے رہتے ہیں۔
اور میں کچھ وقت لوگوں کی تنقید سن لیتا ہوں، پھر ہمیشہ کے لیے ان کی تعریف پا لیتا ہوں۔”

پھر بادشاہ نے کہا:
“کوئی انسان مکمل نہیں ہوتا،
اور نہ ہی کوئی فیصلہ مکمل ہو سکتا ہے۔
مگر جب میں ایسے لوگوں میں گھرا رہتا ہوں جو اختلاف کی ہمت رکھتے ہیں،
تو میرے فیصلوں کی خامیاں وہیں سامنے آ جاتی ہیں، جہاں انہیں درست کیا جا سکتا ہے۔

یوں میری ایک چھوٹی سی خوبی
تنقید سننے کی عادت
اتنی بڑی طاقت بن جاتی ہے کہ میرے فیصلے درست ہو جاتے ہیں۔”

اس نے لمحہ بھر توقف کیا اور کہا:
“اور تمہارے والد کی ایک چھوٹی سی خامی
تنقید برداشت نہ کرنا
اتنی بڑی بن جاتی ہے کہ وہ حقیقت سے کٹ جاتے ہیں۔”

شہزادہ خاموشی سے سن رہا تھا۔

بادشاہ نے مزید کہا:
“میں ہر تنقید کو قبول نہیں کرتا۔
مجھے اتنی عقل ضرور ہے کہ جان سکوں کون سی تنقید تعمیری ہے اور کون سی محض شور۔

میں فیصلہ کرتا ہوں،
پھر اسے لوگوں کے درمیان رکھ دیتا ہوں۔
امیر، غریب، عالم، کسان
ہر کسی کو بولنے دیتا ہوں۔

پھر کچھ وقت بعد،
ایک منصف کی طرح
سب باتوں کا وزن کرتا ہوں۔

جتنا میں انصاف کے قریب ہوتا ہوں،
اتنا ہی میرا فیصلہ درست ثابت ہوتا ہے۔
اور جتنا میں حقیقت سے دور ہو جاؤں،
اتنا ہی غلطی کے قریب چلا جاتا ہوں۔”

آخر میں بادشاہ نے کہا:
“حقیقت یہ ہے کہ انسان جتنا حقیقت کے قریب ہوتا ہے،
اتنا ہی کامیابی کے قریب ہوتا ہے۔

اور جو حکمران حقیقت برداشت نہیں کر سکتا،
وہ حقیقت تک کبھی پہنچ ہی نہیں پاتا۔”

شہزادہ سر جھکائے کھڑا تھا۔
وہ سیکھ چکا تھا کہ اصل طاقت تلوار میں نہیں،
اور اصل اقتدار خاموش کر دینے میں نہیں،
بلکہ سن لینے میں ہے۔

وہ واپس لوٹا تو صرف ایک سبق ساتھ لے کر نہیں گیا تھا،
بلکہ حکمرانی کا راز لے کر گیا تھا۔

اخلاقی سبق

حکومت ہو یا زندگی،
جو فیصلہ مشورے، اختلاف اور تعمیری تنقید کے بعد کیا جائے، وہ مضبوط ہوتا ہے۔
اور جو فیصلہ تنقید سے بھاگ کر کیا جائے، وہ طاقتور ہوتے ہوئے بھی کمزور ثابت ہوتا ہے۔
تنقید سننا کمزوری نہیں،
بلکہ درست فیصلوں کی بنیاد ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner