غلہ منڈی کے چند آڑھتیوں نے حج کا ارادە کیا۔ سفر طویل اور دشوار تھا لہٰذاطے ہوا کہ ایک خدمتگار کو بھی ہمراە لے لیا جائے۔ سامنے کھڑی گاڑی سے پانڈی اناج کی بوریاں اتار کر گودام میں پہنچا رہے تھے۔ ان میں دین محمد بھی تھاجو ادھیڑ عمر باریش اور جفا کش تھا۔ نظر انتخاب اس پر پڑی۔اسے بلا کر دریافت کیا کہ آیا وە حج کے لئے ان کے ساتھ جانے کو تیار تھا۔اس غیر متوقع پیشکش پر پہلے تو اسے یقین ہی نہ آیا پھر بولا کہ وە حج کے اخراجات برداشت کرنے کے قابل نہ تھا۔ آڑھتیوں نے کہا کہ تھوڑا بہت انتظام وە کر لے باقی رقم سب حضرات مل کر ادا کر دیں گے۔یوں دین محمد کا بلاوە آ گیا۔
قصہ مختصر کہ ان لوگوں کا قافلہ حجاز مقدس پہنچ گیا۔ دین محمد سیدھا سادھا اور صاف دل آدمی تھا۔ سارا دن ہمراہیوں کی خدمت کرتا رہتا۔ کوئی اسے نہانے کے پانی کیلئے کہہ رہا ہوتا تو کوئی کپڑے دھونے کا۔ غرضیکہ دن رات ہمراہیوں کی خدمت کرنے کے ساتھ جیسے تیسے اس نے حج کے ارکان پورے کر لئے اور پھر واپسی کا وقت بھی آ گیا۔
ایک آڑھتی نے ازراە تفنن دین محمد سے کہا کہ تم نے حج تو کر لیا ہے مگر کیا تمہارا حج قبول بھی ہوا ہے یا نہیں۔ اس نے لا علمی کا اظہار کیا تو وە بولا کہ ہمارا حج تو قبول ہو گیا ہے اورواپسی کی ٹکٹیں دکھاتے ہوئے مذاقاً کہا کہ یہ دیکھو ہمارے حج کی قبولیت کے پروانے۔ دین محمد کو ایسا کوئی پروانہ نہ ملا تھا۔اس کے پیروں کے نیچے سے زمین نکل گئی۔ اس کی ساری تپسیا اکرت ہوتی ہوئی نظر آ رہی تھی۔ اوپر سے یہ خوف کہ واپس جا کر برادری کو کیا دکھائے گا۔ جن رشتہ داروں نے اسے پھولوں سے لاد کر جلوس کی شکل میں روانہ کیا تھا ان کو کیا بتائے گا کہ حجاز مقدس جا کر بھی خالی ہاتھ لوٹ آیا؟ طبیعت سخت بیزار ہوئی ۔ دل اچھل کر حلق میں آ گیا۔ وہاں سے جو بھاگا تو سیدھا حطیم میں آ کر سجدە ریز ہو گیا۔ گریہ تواتر سے جاری تھا اور لب سے صرف ایک ہی صدا جاری تھی کہ خالی ہاتھ واپس نہ جاوٴں گا۔اس حالت میں نہ جانے کتنا وقت بیت گیا کہ اسے محسوس ہوا کہ ہاتھ میں کچھ ہے۔ سر اٹھا کر دیکھا تو کاغذ کا ٹکرا تھا۔ کریہ و زاری خوشی میں بدل گئی۔ دوڑا دوڑا گیا اور ہمراہیوں کو خوش خبری سنائی کہ اسے بھی قبولیت کا پروانہ مل گیا تھا۔
جن ہمراہیوں نے مذاق کیا تھا وە کاغذ کے اس ٹکرے کو الٹ پلٹ کر دیکھنے لگے مگر اس پر لکھی ہوئی تحریر عربی میں ہونے کی وجہ سے نہ پڑھ سکے۔ آخر طے ہوا کہ کوئی ایسا شخص تلاش کیا جائے جو اردو اور عربی دونوں پر عبور رکھتا ہو۔ ایسا ایک عالم دستیاب ہو گیا۔ اس نے کاغذ کی تحریر پڑھ کر ڈبڈبائی آنکھوں سے انہیں دیکھا اور ماجرا دریافت کیا۔ ساری روداد سن کر وە شخص رونے لگا اور ہچکیوں کے درمیان بتایا کے اس کاغذ پر لکھا تھا کہ
“دین محمد کے صدقے اس سال تمام حاجیوں کا حج قبول ہوا”
