کیا آپ کو معلوم ہے کہ طاقتور شکاری ہمیشہ ایک وقت میں ایک کا شکار کیوں کرتا ہے؟ آج ایک ایسی کہانی جو بظاہر پرانی ہے، لیکن اس میں چھپی تلخ حقیقت ہمارے آج اور کل کا فیصلہ کر رہی ہے۔ لازمی پڑھیں اور سوچیں!
ایک زرخیز اور ہرے بھرے باغ میں تین دوست بیٹھے مستقبل کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
ایک کمزور لیکن ہمت والا نوجوان تھا، جس کا اپنا ایک چھوٹا سا باغیچہ تھا۔
ایک خوددار اور امیر تاجر، جس کے پاس بے پناہ قیمتی وسائل تھے۔
ایک طاقتور پہلوان، جس کے پاس حفاظت کے لیے ایک بھاری اور خطرناک ہتھیار تھا، لیکن وہ قرضوں کے بوجھ تلے دبا رہتا تھا۔
اچانک وہاں اس علاقے کا سب سے ظالم اور چالاک چوہدری آ دھمکا۔ اس کی نظر ان تینوں کے وسائل پر پڑی تو رال ٹپکانے لگا۔ وہ علاقے میں اپنی اجارہ داری قائم رکھنے کے لیے کمزوروں کو کچلنا اپنا حق سمجھتا تھا۔ لیکن یہ تینوں ایک ساتھ ناقابلِ شکست تھے۔ وہ جانتا تھا کہ اگر ان تینوں نے مل کر مقابلہ کیا، تو وہ ہار جائے گا۔ اس لیے اس نے “تقسیم کرو اور راج کرو” کی پرانی چال چلی۔
ظالم چوہدری نے سب سے پہلے اس کمزور نوجوان کو گریبان سے دبوچ لیا۔ تاجر اور پہلوان آگے بڑھے تو چوہدری نے مکاری سے کہا،
“تم دونوں تو علاقے کے معزز لوگ ہو، تمہارا کاروبار اور عزت ہے۔ یہ لڑکا تو بے ٹھکانہ ہے۔ اس کے جھگڑے میں پڑ کر اپنا نقصان کیوں کرتے ہو؟”
دونوں اپنے ذاتی مفاد کی سوچ میں پڑ کر خاموش ہو گئے۔ ان کی اس خاموشی کا فائدہ اٹھا کر چوہدری نے اس نوجوان کو کچل دیا اور اس کا باغیچہ چھین لیا۔
دونوں ہی اپنے دوست کے ساتھ ہونے والے ظلم پر بہت رنجیدہ ہوئے، چوہدری سے کہا کہ یہ تم نے بہت بڑا ظلم کیا لیکن عملاً کچھ نہیں کیا۔
کچھ عرصے بعد چوہدری کی نظر اب اس ضدی تاجر کی دولت پر ٹِک گئی۔ اس نے تاجر کو گھیر لیا۔ پہلوان نے مزاحمت کرنا چاہی تو چوہدری مسکرایا،
“تم تو میرے پرانے دوست ہو، میں نے تمہیں کتنا قرضہ دے رکھا ہے۔ یہ تاجر تو علاقے کے امن کے لیے خطرہ ہے۔ اس کے ساتھ کھڑے ہو کر تم مجھ سے اپنی دوستی اور معاشی مدد کیوں ختم کرنا چاہتے ہو؟”
پہلوان نے اپنے قرضوں کا سوچ کر مزاحمت کا فیصلہ ترک کر دیا اور منہ پھیر لیا۔ چوہدری نے تاجر کا معاشی گھیراؤ کیا اور اسے بھی برباد کر دیا۔
اس بار بھی پہلوان طاقت ہونے کے باوجود سوائے افسوس کرنے کے کچھ نہیں کر پایا۔
اب میدان میں صرف پہلوان ہی بچا تھا، جو اس خوش فہمی میں تھا کہ اس نے مصلحت سے کام لے کر اپنی جان، علاقائی مفاد اور دوستی بچا لی ہے۔ لیکن چوہدری غصے سے آگے بڑھا اور پہلوان کو زمین پر پٹخ دیا۔
پہلوان چلایا، “مگر میں تو تمہارا دوست ہوں! میں نے تو خاموش رہ کر تمہاری مدد کی تھی!”
چوہدری نے طنزیہ قہقہہ لگایا اور بولا،
“یہ تمہاری سب سے بڑی غلط فہمی تھی۔ جو اپنے دوستوں اور بھائیوں کا سگا نہیں، وہ میرا کیا سگا ہوگا؟ تمہارے خطرناک ہتھیار علاقے کے لیے خطرہ ہیں، لہٰذا میں انہیں ضبط کر رہا ہوں۔”
اور یوں، اکیلے رہ جانے والے پہلوان کے پاس نہ طاقت بچی، نہ آزادی۔
یہ محض کوئی فرضی داستان نہیں، یہ ہماری آج کی عالمی سیاست کا آئینہ ہے۔
🇺🇲ظالم چوہدری: امریکہ اور عالمی استعماری طاقتیں
🇵🇸 پہلا کمزور نوجوان: فلسطین (جسے نشانہ بنایا گیا تو دنیا نے مصلحت کے تحت خاموشی اختیار کر لی)
🇮🇷 دوسرا خوددار تاجر: ایران (جسے تنہا کر کے عالمی پابندیوں کا شکار کیا گیا، اور فلسطین سے نمٹنے کے بعد اس پر حملہ کر دیا گیا۔)
🇵🇰 تیسرا طاقتور پہلوان: پاکستان (جو ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود قرضوں اور نام نہاد عالمی دوستی کے سراب میں الجھ کر خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔ جو بظاہر مطمئن ہے کہ ہم اب امریکہ کے اچھے دوست بن چکے ہیں۔)
یاد رکھیں: جب دشمن حملہ کرتا ہے، تو وہ بظاہر ایک وقت میں ایک کو نشانہ بناتا ہے۔ جو قومیں مصلحت کا شکار ہو کر دوسروں کو ظلم سہتے دیکھتی ہیں، وہ دراصل صرف اپنی باری کا انتظار کر رہی ہوتی ہیں۔
اگر ہم آج بھی نہ سمجھے، تو کل باری ہماری ہے۔
آئیے اس تحریر کو شیئر کریں تاکہ شعور بیدار ہو۔ آپ کے خیال میں اس صورتحال سے نکلنے کا واحد راستہ کیا ہے؟ کمنٹس میں اپنی رائے ضرور دیں۔ 💬👇
