بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

وہ کنواں جس میں سقیلہ نامی غلام عورت نے اپنا بچہ چھپا دیا تھا—اور چالیس سال بعد وہ بچہ بغداد کا قاضی بنا

وہ کنواں آج بھی موجود ہے، بصرہ کے قدیم قبرستان کے عقب میں۔ خشک پتھریلا کنواں، جس کے گرد اب صرف جنگلی جھاڑیاں ہیں اور رات کو گیدڑوں کے بولنے کی آواز۔ مگر جو شخص اس کنویں میں جھانک کر دیکھے، اسے چالیس سال پرانی خاموشی کی گونج سنائی دے گی۔ اور اس خاموشی میں ایک ماں کی سسکیاں ہیں، جس نے اپنے بیٹے کو بچانے کے لیے اسے موت کے حوالے کر دیا تھا۔

سنہ ۱۲۰۵ ہجری۔ بصرہ کی گلیاں عباسی خلافت کے زوال کی داستانیں سناتی تھیں۔ تجارتی قافلے کم آنے لگے تھے، بازاروں میں اجاڑ پن تھا۔ مگر بصرہ کی منڈی میں ایک چیز کی مانگ ہمیشہ رہتی تھی—غلام۔

سقیلہ حبشی نسل کی ایک غلام عورت تھی۔ اس کا رنگ سیاہ تھا جیسے کالی مٹی، مگر اس کی آنکھیں تھیں جیسے کوئی صحرا کی رات میں چمکتا ہوا تارہ۔ وہ ابھی نوعمر ہی تھی کہ اسے یمن کے ایک قبیلے نے اغوا کیا اور بصرہ کے مشہور غلام تاجر ابو سعید کو بیچ دیا۔ ابو سعید کی حویلی بصرہ کے مشرقی دروازے پر تھی، جہاں سے گزرنے والے قافلے رکتے اور غلام خریدتے۔

سقیلہ ابو سعید کے گھر میں کھانا پکاتی، برتن دھوتی اور صحن میں جھاڑو لگاتی۔ وہ بولتی کم تھی، مگر اس کی خاموشی میں ایک عجب گہرائی تھی۔ ابو سعید کا بڑا بیٹا یزید اسے گھور کر دیکھتا۔ پھر ایک رات، جب پورا گھر سویا ہوا تھا، یزید نے اسے زبردستی اپنی ملکیت بنا لیا۔

سقیلہ نے کسی کو نہ بتایا۔ بتاتی بھی تو کون سنتا؟ وہ تو صرف ایک غلام عورت تھی۔

نو ماہ بعد اس کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا۔ بچہ اتنا خوبصورت تھا کہ دیکھنے والے دنگ رہ جاتے۔ اس کی جلد گندمی تھی، آنکھیں بادامی اور بال سیاہ ریشم کی طرح۔ سقیلہ نے اس کا نام رکھا—نافع۔

ابو سعید نے جب بچے کو دیکھا تو سمجھ گیا کہ یہ اس کے بیٹے کا ہے۔ اس نے یزید کو بلایا اور کہا کہ اس بچے کو شہر سے باہر کہیں پھینک آئے۔ یزید نے کہا، “والد جی، یہ غلام عورت کا بچہ ہے۔ کوئی پوچھتا نہیں۔ اسے یہیں رہنے دیں، بڑا ہو کر کام آئے گا۔”

مگر سقیلہ کے دل میں اندھیرا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ یزید شادی شدہ تھا اور اس کی بیوی حفصہ بہت حسد کرتی تھی۔ حفصہ نے اس بچے کو دیکھ کر کبھی کچھ نہ کہا، مگر اس کی نظریں سقیلہ کو جلا رہی تھیں۔

نافع جب دو سال کا ہوا تو ایک دن حفصہ نے سقیلہ کو بلایا۔ اس نے کہا، “تو نے میرے شوہر کو پھانسا اور اب اس کا بچہ لے کر بیٹھی ہے۔ تجھے پتہ ہے، ایسی عورتوں کو ہم زندہ دیوار میں چنوا دیتے ہیں۔”

سقیلہ نے اس کے پاؤں پکڑ لیے۔ “بی بی، میں کچھ نہیں کہتی۔ بس میرے بچے کو زندہ رہنے دے۔”

حفصہ نے ٹھنڈے لہجے میں کہا، “یہ بچہ بڑا ہو کر میرے بیٹوں کا حصہ مانگے گا۔ میں ایسا نہیں ہونے دوں گی۔ کل صبح تک یہ بچہ میرے سامنے سے ہٹ جائے، ورنہ تجھے پتہ ہے انجام۔”

اس رات سقیلہ نے نافع کو آخری بار دودھ پلایا۔ بچہ اس کی گود میں سو رہا تھا، اس کے چہرے پر چاندنی بکھری تھی۔ سقیلہ نے اس کی پیشانی چومی اور پھر اٹھی۔

وہ اپنے کمبل میں بچے کو لپیٹ کر باہر نکلی۔ بصرہ کی راتیں سرد تھیں۔ وہ قبرستان کی طرف بھاگی۔ قبرستان کے عقب میں ایک پرانا کنواں تھا، جو برسوں سے خشک پڑا تھا۔ اس کے گرد جالیاں اگ آئی تھیں۔ سقیلہ نے کنویں میں جھانکا۔ گہرائی میں کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔

اس نے بچے کو اپنے سینے سے لگایا اور پھر آسمان کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے مگر وہ رو نہیں رہی تھی۔ اس نے بچے کو کنویں میں اتار دیا۔

اتنا گہرا نہیں تھا کنواں۔ سقیلہ نے پہلے اندازہ کر لیا تھا۔ نیچے خشک پتے تھے اور نرم زمین۔ بچہ گرتے ہی نہیں رویا، جیسے وہ سمجھ گیا ہو کہ یہی اس کی ماں کی آخری مہربانی ہے۔ سقیلہ نے کنویں کے اوپر سے کچھ سوکھی جھاڑیاں ڈال دیں تاکہ بچہ نظر نہ آئے۔

صبح ہوئی تو حفصہ نے پوچھا، “وہ بچہ کہاں ہے؟”

سقیلہ نے کہا، “مر گیا۔ رات کو بخار آیا اور صبح تک روح نکل گئی۔ میں نے اسے قبرستان میں دفن کر دیا۔”

حفصہ نے اسے غور سے دیکھا، مگر کچھ نہ کہا۔

ابو سعید کے گھر میں تین دن تک ماتم رہا، مگر نافع کے لیے نہیں—کسی اور رشتے دار کے لیے۔ سقیلہ نے اپنے بچے کا ماتم اکیلے کیا۔

رات کو جب سب سوتے، وہ قبرستان جاتی۔ کنویں کے پاس بیٹھ کر سر پیٹتی۔ نیچے سے کوئی آواز نہیں آتی تھی۔ وہ سوچتی، بچہ مر گیا ہوگا۔ بھوکا پیاسا۔

پانچویں رات وہ کنویں کے پاس پہنچی تو اسے نیچے سے ہلکی سی آواز آئی۔ وہ ٹھٹھک گئی۔ اس نے کان لگا کر سنا۔ آواز پھر آئی—بچے کے رونے جیسی، مگر کمزور۔

سقیلہ کا دل زور سے دھڑکا۔ وہ کنویں میں اترنے لگی۔ پتھر پھسل رہے تھے، ہاتھ چھل گئے۔ مگر وہ اترتی گئی۔ نیچے پہنچی تو دیکھا، نافع زندہ تھا۔ اس نے اپنے ہاتھ منہ میں ڈالے ہوئے تھے اور چوس رہا تھا۔ اس کے جسم پر مٹی جم گئی تھی، مگر آنکھوں میں چمک تھی۔

سقیلہ نے اسے اٹھایا اور پھر رونے لگی۔ اس بار خوشی کے آنسو تھے۔

مگر اب کیا کرے؟ بچے کو گھر نہیں لے جا سکتی۔ حفصہ اسے مار ڈالے گی۔

اس رات سقیلہ نے ایک فیصلہ کیا۔ وہ بصرہ کی مشرقی دیوار کے پاس گئی جہاں صبح سویرے یمن کا قافلہ آیا کرتا تھا۔ وہاں اسے ایک بوڑھا شخص ملا، جو یمن سے آया تھا اور واپس جا رہا تھا۔ اس کا نام عبداللہ تھا، ایک درزی جو تجارت کے سلسلے میں بصرہ آیا تھا۔

سقیلہ نے اس کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے۔ “بابا، میرا بچہ بچا لو۔ میں غلام ہوں، اسے یہاں قتل کر دیا جائے گا۔”

عبداللہ نے بچے کو دیکھا۔ بچے نے اسے دیکھ کر مسکرا دیا۔ عبداللہ کا دل پسیج گیا۔

اس نے کہا، “بیٹی، میں بوڑھا ہوں، میری بیوی مر چکی ہے، بیٹے نہیں۔ یہ بچہ میرے لیے خدا کا انعام ہے۔ مگر تجھے پتہ ہے، میں اسے یمن لے جاؤں گا اور تو اسے کبھی نہیں دیکھ پائے گی۔”

سقیلہ نے کہا، “بابا، میں نے اسے زندہ رکھنے کے لیے کنویں میں ڈالا تھا۔ تم اسے لے جاؤ، بہتر ہے کہ وہ زندہ رہے اور مجھے یاد نہ کرے۔”

عبداللہ نے بچے کو لیا اور اپنے قافلے میں بٹھا لیا۔ صبح ہوتے ہی قافلہ روانہ ہو گیا۔ سقیلہ دیوار کے پیچھے کھڑی دیکھتی رہی، جب تک قافلے کا آخری اونٹ بھی غبار میں گم نہ ہو گیا۔

اس کے بعد وہ واپس ابو سعید کے گھر گئی اور پھر کبھی نہیں روی۔

سال گزرتے گئے۔ سقیلہ کی کمر جھکی، بال سفید ہوئے۔ وہ پھر بھی وہیں برتن دھوتی، صحن میں جھاڑو لگاتی۔ حفصہ مر گئی، یزید مر گیا، ابو سعید مر گیا۔ نئے لوگ آ گئے، مگر سقیلہ ویسے ہی غلام رہی۔ وہ کبھی کسی سے نہیں بولی کہ اس کا کوئی بیٹا تھا۔

جب وہ بہت بوڑھی ہو گئی تو اسے آزاد کر دیا گیا۔ اب وہ کہاں جائے؟ وہیں حویلی کے باہر ایک جھونپڑی میں رہنے لگی۔ شام کو قبرستان جاتی، کنویں کے پاس بیٹھتی اور کچھ نہیں سوچتی۔

پھر ایک دن بصرہ میں ہلچل مچ گئی۔ بغداد کا نیا قاضی شہر میں آیا ہے۔ کہتے تھے، وہ بہت عادل ہے، بہت عالم ہے۔ لوگ اس کے استقبال کے لیے جمع ہو رہے تھے۔ سقیلہ نے بھی سنا۔ بہت دنوں بعد اسے کچھ دیکھنے کا دل کیا۔

وہ قاضی کے جلوس کو دیکھنے کھڑی ہو گئی۔ دور سے اونٹوں پر سوار آ رہے تھے۔ سامنے گھوڑے پر ایک شخص تھا—سفید ریش، چہرے پر نور، مگر آنکھیں تھیں کہ جیسے سقیلہ نے کبھی دیکھی تھیں۔ بادامی آنکھیں۔

قاضی جب سقیلہ کے پاس سے گزرا تو اس نے ایک لمحے کے لیے اس بوڑھی عورت کی طرف دیکھا جو سڑک کے کنارے کھڑی تھی۔ اس کی آنکھوں میں کچھ چمکا۔ مگر وہ آگے بڑھ گیا۔

رات کو قاضی نے اپنے خیمے میں بیٹھ کر اپنے وزیر سے کہا، “بصرہ میں ایک بوڑھی عورت ہے، قبرستان کے پاس رہتی ہے۔ اسے میرے پاس لاؤ۔”

وزیر حیران ہوا۔ “حضور، وہ تو کوئی غلام عورت ہے۔”

قاضی نے کہا، “لاؤ۔”

سقیلہ کو لایا گیا۔ وہ کانپ رہی تھی، سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ قاضی نے کیوں بلایا۔ قاضی نے اسے دیکھا، پھر اپنے تمام وزیروں اور خادموں کو باہر جانے کا حکم دیا۔

جب خیمہ خالی ہوا تو قاضی اٹھا اور سقیلہ کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔

اس نے کہا، “ماں۔”

سقیلہ کا دل رک گیا۔

قاضی نے کہا، “مجھے سب پتہ ہے۔ جو شخص مجھے یمن لے گیا تھا، اس نے مرتے وقت سب بتا دیا۔ بتایا کہ میری ماں نے مجھے کنویں میں ڈال کر بچایا تھا۔ میں چالیس سال سے تمہیں ڈھونڈ رہا ہوں۔”

سقیلہ کے آنسو بہہ نکلے۔ اتنی دیر بعد آنسو۔

اس نے قاضی کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا، “بیٹا، میں نے تجھے اس لیے کنویں میں ڈالا تھا کہ زندہ رہے۔ آج دیکھ کر لگتا ہے، وہ کنواں بھی جنت کا دروازہ تھا۔”

قاضی نے اس کی جھریوں بھری ہتھیلیاں چومیں۔ اس رات وہ ماں اور بیٹا قبرستان کے کنارے بیٹھے رہے، اور قاضی نے اپنی ماں کو بتایا کہ اس نے کیسے یمن میں علم حاصل کیا، کیسے بغداد کا قاضی بنا۔

صبح ہوئی تو قاضی نے کہا، “ماں، میرے ساتھ بغداد چلو۔”

سقیلہ نے کہا، “بیٹا، میں یہیں رہوں گی۔ یہ کنواں میرا گواہ ہے۔ جب تک زندہ ہوں، اس کے پاس رہوں گی۔ جب مر جاؤں تو مجھے اسی کے پاس دفن کر دینا۔”

قاضی نے اصرار کیا، مگر سقیلہ نہ مانی۔

قاضی جب واپس بغداد جانے لگا تو سقیلہ نے اسے کنویں تک چھوڑا۔ اس نے کنویں میں جھانک کر دیکھا، پھر قاضی سے کہا، “بیٹا، کنویں میں مت جھانکنا۔ اندھیرا ہے۔”

قاضی مسکرایا۔ “ماں، میں اسی اندھیرے سے نکلا ہوں۔ اب ڈرتا نہیں۔”

وہ ماں کو دعا دے کر روانہ ہو گیا۔ سقیلہ کنویں کے پاس کھڑی دیکھتی رہی۔ پھر اس نے کنویں میں ایک پتھر ڈالا۔ پتھر کی آواز بہت دیر بعد آئی۔ بہت گہرا تھا کنواں۔

مگر اسے پتہ تھا، اندھیرے میں بھی روشنی ہوتی ہے۔



ماں نے بیٹے کو موت کے حوالے کر کے زندگی بخشی، اور کنویں کی گہرائی میں چھپا رکھا وہ راز جو چالیس سال بعد بغداد کے تختِ قضا پر جا کر کھلا۔ اندھیرا کبھی رکاوٹ نہیں ہوتا، بس منزل کا راستہ بدل دیتا ہے۔



تم بتاؤ، اگر سقیلہ نافع کو کنویں میں نہ ڈالتی، تو کیا وہ بغداد کا قاضی بن سکتا تھا؟ کہانی پراثر لگے تو شیر کرنا نہ بھولیں ۔

Leave a Reply

NZ's Corner