بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

_سب سے بڑا اندھا کون؟_

ایک دن شہنشاہ اکبر کے دربار میں اس بات پر بحث چھڑ گئی کہ دنیا میں نیک لوگ زیادہ ہیں یا بدکار۔ بات سے بات نکلی تو اکبر نے ایک عجیب سوال کر دیا:

“بیربل! کیا تم بتا سکتے ہو کہ ہماری سلطنت میں دیکھنے والے لوگ زیادہ ہیں یا اندھے؟”

درباریوں نے فوراً کہا کہ ظاہر ہے دیکھنے والے زیادہ ہیں۔ لیکن بیربل مسکرائے اور بولے، “عالم پناہ! میرا اندازہ ہے کہ اس شہر میں اندھوں کی تعداد دیکھنے والوں سے کہیں زیادہ ہے۔”

اکبر کو یہ بات عجیب لگی۔ انہوں نے کہا، “بیربل، یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟ کیا تم اسے ثابت کر سکتے ہو؟” بیربل نے حامی بھر لی۔

اگلے دن بیربل شہر کے بیچوں بیچ ایک چوراہے پر جا کر بیٹھ گئے اور ایک پرانا جوتا گانٹھنے (سینے) لگے۔ ان کے پاس ایک کاغذ اور قلم بھی تھا جس پر وہ کچھ لکھ رہے تھے۔

تھوڑی ہی دیر میں وہاں سے ایک درباری گزرا۔ اس نے بیربل کو یہ کام کرتے دیکھ کر حیرت سے پوچھا:
“بیربل! یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟”

بیربل نے کچھ جواب نہ دیا، بس اس درباری کا نام “اندھوں کی فہرست” میں لکھ لیا۔

پھر وہاں سے سپاہی، تاجر اور عام لوگ گزرے۔ جو بھی وہاں سے گزرتا، بیربل کو جوتا سیتے دیکھ کر وہی سوال پوچھتا: “بیربل صاحب، آپ یہ کیا کر رہے ہیں؟” بیربل خاموشی سے ہر پوچھنے والے کا نام اندھوں کی لسٹ میں لکھتے جاتے۔

شام کے وقت خود شہنشاہ اکبر وہاں پہنچے۔ بیربل کو اس حال میں دیکھ کر وہ بھی حیران ہوئے اور پوچھا:
“بیربل! یہ تم کیا کر رہے ہو؟ کیا تم جوتے سی رہے ہو؟”

بیربل نے مسکرا کر سر جھکایا اور اکبر کا نام بھی فہرست میں سب سے آخر میں لکھ لیا۔

اگلے دن دربار لگا۔ اکبر نے غصے اور حیرت سے پوچھا، “بیربل، کل تم نے میرا نام اندھوں کی فہرست میں کیوں لکھا؟”

بیربل نے ہاتھ جوڑ کر عرض کیا:

“عالم پناہ! کل میں سب کے سامنے بیٹھ کر جوتا سی رہا تھا۔ وہ کام سب کو صاف نظر آ رہا تھا، اس کے باوجود ہر شخص مجھ سے یہی پوچھ رہا تھا کہ ‘آپ کیا کر رہے ہیں؟’۔ اب آپ ہی بتائیے، جو چیز آنکھوں کے سامنے ہو، اسے دیکھ کر بھی سوال کرنا کیا اندھے پن کی نشانی نہیں؟”

اکبر بیربل کی اس منطق پر ایک بار پھر لاجواب ہو گئے اور مان گئے کہ حکمت کے بغیر آنکھیں بھی بے کار ہیں۔

Leave a Reply

NZ's Corner