بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

بہت عرصے پہلے کی بات ہے، ایک چھوٹے سے گاؤں میں رحمت نامی ایک غریب مزدور رہتا تھا۔ وہ بڑی ایمانداری سے محنت مزدوری کرتا تھا، لیکن اس کی کمائی بمشکل اس کے خاندان کا پیٹ پالنے کے قابل ہوتی تھی۔ ایک دن وہ جنگل میں لکڑیاں چن رہا تھا کہ اس کی نظر ایک پرانے، زنگ آلود لوٹے پر پڑی۔

اس نے سوچا کہ گھر لے جاؤں گا، پانی بھرنے کے کام آئے گا۔ جب وہ لوٹا اٹھانے لگا تو اس سے ایک عجیب سی آواز آئی، “مجھے رگڑو، مجھے رگڑو۔” رحمت حیران رہ گیا۔ اس نے ڈرتے ڈرتے لوٹے کو رگڑا تو ایک دیو قامت جن وجود میں آ گیا۔

جن نے کہا، “اے میرے نئے آقا! آپ نے مجھے اس قید سے آزاد کرا لیا۔ اب میں آپ کی ہر خواہش پوری کروں گا۔”

رحمت نے پہلے تو یقین نہیں کیا، لیکن جب اس نے کھانے کی خواہش کی تو فوراً طرح طرح کے پکوان سامنے آ گئے۔ وہ بہت خوش ہوا۔ اب وہ امیر ہو گیا تھا۔ اس نے ایک بڑا مکان بنوایا، قیمتی کپڑے پہنے اور شہر کا سب سے امیر آدمی بن گیا۔

لینتد ایج یہیں سے شروع ہوئی۔ رحمت کا لالچ بڑھتا گیا۔ اسے جو ملا، اس پر قانع نہ ہوا، اور زیادہ چاہنے لگا۔ اس نے جن سے کہا، “مجھے پورے شہر کا بادشاہ بنا دے۔” جن نے فوراً اس کی خواہش پوری کر دی۔ اب رحمت بادشاہ تھا، لیکن اس کا دل still نہیں بھرا تھا۔

اب اسے پڑوسی مملکت کی خوبصورت شہزادی پر نظر آ گئی۔ اس نے جن سے کہا، “مجھے اس شہزادی سے شادی کرنی ہے، چاہے کچھ بھی ہو جائے۔” لیکن شہزادی نے اس کے لالچی ہونے کی وجہ سے شادی سے انکار کر دیا۔ رحمت کو غصہ آیا اور اس نے جن سے کہا، “اس کے باپ کی مملکت پر حملہ کر کے اسے زبردستی میرے سامنے لا کھڑا کرو۔”

یہ سن کر جن بہت اداس ہوا۔ اس نے کہا، “آقا! آپ نے میری ہر خواہش پوری کی، لیکن آپ کا لالچ بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔ آپ نے اپنی انسانیت کھو دی ہے۔ مجھے آپ کی خدمت کرتے ہوئے کوئی خوشی نہیں ملتی۔”

اتنا کہہ کر جن غائب ہو گیا اور اس کے ساتھ ہی رحمت کی تمام تر دولتیں اور شان و شوکت بھی ختم ہو گئی۔ وہ پھر سے اسی غریب مزدور کی حالت میں آ گیا، اس بار اور بھی زیادہ نادم اور تنہا۔

نصیحت: لالچ ایک ایسی آگ ہے جو جلتی تو ہے مگر روشنی نہیں دیتی۔ جو کچھ ہمارے پاس ہے، اس میں قناعت کا مزہ لینا چاہیے، ورنہ لالچ ہمیں اندھا کر کے سب کچھ کھو سکتا ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner