ایک دن جام صاحب نے غیر معمولی بہادری دکھاتے ہوئے روزہ رکھ لیا۔
دن کیا تھا، لگتا تھا سورج نے بھی قسم کھا لی ہو
کہ آج جام صاحب کا ایمان چیک کر کے ہی ڈوبنا ہے۔
پہلے پہر تو جام صاحب بڑے ثابت قدم رہے۔
پیاس آئی تو کہا:
“صبر عبادت ہے۔”
دوسرے پہر پیاس نے کہا:
“میں بھی عبادت ہوں، برداشت کرو!”
تیسرے پہر جام صاحب نے محسوس کیا
کہ عبادتیں آپس میں ٹکرا رہی ہیں۔
گھر میں پانی پینا ممکن نہیں تھا،
کیونکہ گھر میں دو خطرناک چیزیں ہوتی ہیں:
ایک بیگم،
اور دوسرا ان کی نظریں۔
جام صاحب نے فوراً ایک شرعی، سماجی اور گھریلو حل سوچا۔
نہر پر جا کر “نہانے” کا۔
نہر پر پہنچے،
ادھر ادھر نظر دوڑائی:
“کوئی بھی نہیں تھا”
دل کو کچھ تسلی ہوئی۔
اور فوراً پانی پینے کی غرض سے نہانے کے بہانے
ایک ٹبی لگانے کا ارادہ کیا۔
پہلے اوپر دیکھا،
پھر دائیں،
پھر بائیں
سب ٹھیک تھا۔
اب ادھر ادھر دیکھتے ہوئے نیچے جھکے ہی تھے
پانی کے اندر ایک لکڑی تھی،
جو سیدھی جام صاحب کی ناک میں جا گھسی۔
جام صاحب ایسے اچھلے
جیسے روزہ ٹوٹا نہیں،
ایمان جاگ گیا ہو۔
ناک پکڑ کر فوراً باہر آئے،
اور اسی لمحے فلسفہ بھی آ گیا۔
بولے: “دیکھنے والا کوئی ہو نہ ہو،
اوپر نہ سہی،
ادھر نہ سہی،
اللہ تو دیکھ رہا ہے نا!”
اور یوں
پیاس بھی باقی رہی،
روزہ بھی بچ گیا،
اور جام صاحب کو یہ سبق ملا
کہ بعض اوقات
نہر میں بھی
نصیحت لکڑی کی صورت میں مل جاتی ہے۔
اور اس دن کے بعد
جام صاحب نے ایک اصول بنا لیا:
“گرمی جتنی مرضی ہو،
نیت صاف رکھو،
اور ناک ہمیشہ محفوظ”
