💯 فاتح کبھی نہیں بھاگتا
دو لڑکے گاؤں کی سڑک پر جا رہے تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ شہر میں دودھ کی ترسیل کے لیے بڑے بڑے ڈبے لوڈ کیے جا رہے ہیں۔ قریب کوئی نہ تھا تو انہیں شرارت سوجھی، انہوں نے دو بڑے مینڈک پکڑے اور الگ الگ ڈبوں میں ڈال دیے، پھر وہ ڈبے شہر کے لیے روانہ ہو گئے۔
سفر کے دوران پہلے ڈبے والے مینڈک نے سوچا:
“یہ کیا مصیبت آ گئی! میں اس ڈبے کا ڈھکن نہیں ہٹا سکتا، یہ بہت بھاری ہے۔ میں نے کبھی دودھ میں نہایا بھی نہیں، یہ کیسی آزمائش ہے۔ میں نیچے تک بھی نہیں جا سکتا کہ پوری طاقت سے اچھل کر ڈھکن ہٹا سکوں۔”
آخرکار وہ مایوس ہو گیا، اس نے جدوجہد چھوڑ دی اور ہمت ہار دی۔ جب شہر پہنچ کر ڈبے کا ڈھکن کھولا گیا تو وہ مینڈک مردہ حالت میں دودھ کی سطح پر تیر رہا تھا۔
دوسرے ڈبے والے مینڈک کو بھی بالکل ایسے ہی حالات کا سامنا تھا، مگر اس نے خود سے کہا:
“میں اس ڈھکن کو نہیں ہٹا سکتا، نہ اس میں سوراخ کر سکتا ہوں، کیونکہ یہ بہت مضبوط اور بھاری ہے۔ لیکن ایک چیز مجھے آتی ہے… اور وہ ہے تیرنا!”
بس پھر کیا تھا، اس نے ہمت نہ ہاری اور مسلسل تیرتا رہا۔ تیرتے تیرتے دودھ مکھن میں بدل گیا اور ایک ٹھوس گولا بن گیا، جس پر وہ آرام سے بیٹھ گیا۔
جب ڈبے کا ڈھکن کھولا گیا تو وہ اچھل کر باہر آیا اور مسکراتے ہوئے بولا:
“فاتح کبھی بھاگتے نہیں… اور بھاگنے والے کبھی جیتتے نہیں!”
📖 (بحوالہ: کامیابی 60)
اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو مجھے فالو ضرور کریں
