یہ پرانے زمانے کے ایک قصبے کا ذکر ہے جہاں کے قاضی صاحب (جج) اپنی عقل سے زیادہ اپنی کرسی اور رعب کی وجہ سے مشہور تھے۔ ایک دن عدالت لگی ہوئی تھی اور دو پڑوسیوں، بشیر اور نذیر کے درمیان ایک گدھے کی ملکیت پر جھگڑا چل رہا تھا۔
بشیر کہتا تھا: “حضور! یہ گدھا میرا ہے، بچپن سے اسے پال پوس کر جوان کیا ہے۔”
نذیر کہتا تھا: “نہیں سرکار! یہ گدھا میرا ہے، اس کی شرافت بتاتی ہے کہ یہ میرے گھر پلا ہے۔”
قاضی صاحب نے دونوں کی باتیں سنیں، کچھ دیر گہری سوچ میں رہے (یا شاید اونگھ رہے تھے)۔ پھر اچانک غصے میں میز پر ہاتھ مارا اور بولے:
“خاموش! تم دونوں جھوٹ بول رہے ہو۔ اس کیس کا فیصلہ اب یہ گدھا خود کرے گا!”
عدالت میں موجود لوگ حیران رہ گئے کہ گدھا کیسے فیصلہ کرے گا؟ قاضی صاحب نے حکم دیا کہ گدھے کو کٹہرے میں لایا جائے۔ گدھا جب کٹہرے میں آیا تو قاضی صاحب نے بڑی سنجیدگی سے چشمہ ناک پر ٹکایا اور گدھے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولے:
“ہاں بھئی گدھے صاحب! سچ سچ بتاؤ، تمہارا مالک کون ہے؟ بشیر یا نذیر؟”
گدھے نے قاضی صاحب کو دیکھا، پھر اپنی دم ہلائی اور زور سے بولا: “ہیں-ہوؤں۔۔۔ ہیں-ہوؤں۔۔۔!”
قاضی صاحب نے مسکرا کر سر ہلایا جیسے انہیں سب سمجھ آ گیا ہو اور بولے:
“عدالت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ گدھے نے صاف صاف کہہ دیا ہے کہ یہ ان دونوں میں سے کسی کا نہیں ہے۔”
بشیر ڈرتے ڈرتے بولا: “سرکار! گدھا تو صرف رینکا (باہیں) ہے، اس نے نام تو کسی کا نہیں لیا۔”
قاضی صاحب جلال میں آ گئے اور بولے:
“بیوقوف! اس نے اپنی زبان میں کہا ہے کہ ‘جس جج کے سامنے میں کھڑا ہوں، وہ مجھ سے بڑا عالم ہے’۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ گدھا اب ‘سرکاری’ ہے اور آج سے یہ میری سواری کے لیے استعمال ہوگا۔”
لوگ ہکا بکا رہ گئے، لیکن قاضی صاحب کے حکم کے آگے کس کی چلتی؟ اگلے دن قاضی صاحب اسی گدھے پر سوار ہو کر بازار سے گزر رہے تھے کہ اچانک گدھے نے ایک زور دار جھٹکا دیا اور قاضی صاحب کو کیچڑ میں گرا دیا۔
قاضی صاحب نے اٹھ کر کپڑے جھاڑے اور گدھے کو غصے سے دیکھ کر بولے:
“لگتا ہے اس گدھے کی اپیل ہائی کورٹ میں کرنی پڑے گی، یہ تو مجھ سے بھی بڑا جج نکلا، جس نے میرا فیصلہ ایک منٹ میں ‘ریورس’ (Reverse) کر دیا!”
#منقول
