ایک بادشاہ تھا جس کے فیصلوں کے چرچے دور دراز ریاستوں تک پھیلے ہوئے تھے۔ کہا جاتا تھا کہ وہ جو فیصلہ کرتا، وقت خود اس کی گواہی دیتا۔ نہ کوئی فیصلہ پلٹتا اور نہ ہی کسی فیصلے پر پچھتاوا ہوتا۔ اس کی دانائی اور بصیرت مثال بن چکی تھی۔
قریب ہی ایک اور ریاست تھی جہاں کا بادشاہ اختیار میں کسی سے کم نہ تھا، مگر اس کے فیصلے اکثر الٹ پڑ جاتے تھے۔ حکم اصلاح کے لیے جاری ہوتا مگر نتیجہ نقصان کی صورت میں نکلتا، اور نیک نیتی کے باوجود بغاوت جنم لے لیتی۔ وہ اس الجھن کا سبب سمجھ نہ پاتا تھا۔
ایک دن اس نے اپنے بیٹے، شہزادے، کو بلایا اور کہا کہ وہ دوسرے بادشاہ کے دربار میں جا کر رہے، دیکھے، سیکھے اور سمجھے کہ آخر وہ کون سا عمل ہے جو اس کے فیصلوں کو درست بنا دیتا ہے جبکہ یہاں ہر بار غلطی ہو جاتی ہے۔ شہزادہ حکم کی تعمیل میں روانہ ہو گیا۔
جب وہ مشہور بادشاہ کے دربار میں پہنچا تو منظر اس کی توقعات کے برعکس تھا۔ دربار سجا ہوا تھا مگر وہاں خاموشی نہیں تھی۔ وزراء کھل کر رائے دے رہے تھے، مشیر اختلاف کر رہے تھے، حتیٰ کہ ایک کسان بھی اپنی بات پیش کر رہا تھا۔ بادشاہ کے فیصلوں پر علانیہ تنقید ہو رہی تھی۔
شہزادہ یہ سب دیکھ کر حیران رہ گیا۔ اس کے دل میں خیال آیا کہ اگر اس کے والد کی مجلس میں ایسا ہوتا تو شاید آدھے لوگ زندہ نہ بچتے۔ آخرکار وہ خود کو روک نہ سکا اور بولا کہ یہ تو گستاخی ہے کہ لوگ یوں کھلے عام تنقید کریں اور بادشاہ خاموش رہے۔
بادشاہ مسکرایا اور نرمی سے جواب دیا کہ اگر اس کے والد بھی یہی طریقہ اختیار کرتے تو آج وہ خود اس کے دربار میں نہ کھڑا ہوتا۔ پھر اس نے وضاحت کی کہ فرق صرف اتنا ہے کہ اس کے والد تنقید فیصلے کے بعد سنتے ہیں، جبکہ وہ تنقید فیصلے سے پہلے سن لیتا ہے۔ وہ کچھ وقت اختلاف برداشت کر لیتا ہے اور بدلے میں طویل مدت کی تعریف پا لیتا ہے۔
اس نے مزید کہا کہ کوئی انسان یا فیصلہ مکمل نہیں ہوتا، مگر جب انسان اپنے اردگرد ایسے لوگوں کو رکھتا ہے جو اختلاف کی ہمت رکھتے ہوں تو خامیاں بروقت سامنے آ جاتی ہیں اور درست کی جا سکتی ہیں۔ یوں تنقید سننے کی ایک عادت بڑی طاقت بن جاتی ہے، جبکہ تنقید برداشت نہ کرنے کی معمولی سی خامی انسان کو حقیقت سے دور کر دیتی ہے۔
بادشاہ نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ ہر تنقید کو قبول نہیں کرتا بلکہ تعمیری اور غیر ضروری بات میں فرق کرتا ہے۔ وہ فیصلہ عوام کے سامنے رکھتا ہے، امیر و غریب سب کو بولنے دیتا ہے، پھر ایک منصف کی طرح تمام آراء کو تولتا ہے۔ جتنا وہ انصاف اور حقیقت کے قریب ہوتا ہے، اتنا ہی اس کا فیصلہ درست ثابت ہوتا ہے۔
آخر میں اس نے کہا کہ انسان جتنا حقیقت کے قریب ہوتا ہے، اتنا ہی کامیابی کے قریب ہوتا ہے، اور جو حکمران حقیقت برداشت نہیں کر سکتا وہ حقیقت تک کبھی پہنچ ہی نہیں پاتا۔ شہزادہ سر جھکائے کھڑا تھا۔ وہ سمجھ چکا تھا کہ اصل طاقت تلوار میں نہیں بلکہ سن لینے میں ہے۔
واپس لوٹتے وقت وہ صرف ایک سبق نہیں بلکہ حکمرانی کا راز ساتھ لے کر گیا تھا: حکومت ہو یا زندگی، وہی فیصلہ مضبوط ہوتا ہے جو مشورے، اختلاف اور تعمیری تنقید کے بعد کیا جائے۔ تنقید سننا کمزوری نہیں بلکہ درست فیصلوں کی بنیاد ہے
