بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

ایک یہودی اور ایک منافق(بظاہر مسلمان) کے درمیان کسی بات پر جھگڑا ہوا اور فیصلہ کے لئے یہودی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ثالث بنانے کی تجویز رکھی ، منافق یہودکے اس سردار کعب بن اشرف کو ثالث بنانے پر بضد  تھا کیونکہ وہ رشوت خور یہودی تھا ، کافی حیل وحجت کے بعد دونوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ثالث بنانا مان لیا ۔چنانچہ وہ دونوں اپنا معاملہ لے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہودی کے حق میں فیصلہ دیا کیونکہ اس کا حق پر ہونا ثابت تھا لیکن منافق نے اس فیصلے کو تسلیم نہیں کیا اور کہنے لگا کہ اب ہم عمررضی اللہ تعالٰی عنہ کو ثالث بنائیں گے ، وہ جو فیصلہ دیں گئے ہم دونوں کے لئے واجب التسلیم ہوگا ۔ یہودی نے معاملہ کو نمٹانے کی خاطرمنافق کی یہ بات بھی مان لی اور اس ساتھ حضرت عمررضی اللہ تعالٰی عنہ کے پا س گیا ۔ یہودی نے حضرت عمررضی اللہ تعالٰی عنہ بتایا کہ ہم دونوں پہلے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ثالث مان کر ان کے پاس گئے تھے اور انہوں نے میرے حق میں فیصلہ دیا تھا مگر یہ شخص (منافق ) محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے پر راضی نہ ہوا اور اب مجھے آپ کے پاس لے کر آیا ہے ۔ حضرت عمر نے منافق سے پوچھا : اس (یہودی ) نے جو بیان کیا ہے وہ صحیح ہے ؟منافق نے تصدیق کی کہ ہاں اس کا بیان بالکل درست ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہا : تم دونوں یہیں ٹھہرو ،جب تک میں نہ آؤں واپس نہ جانا ۔ یہ کہہ کر گھر میں گئے اور تلوار لے کر باہر نکلے اور پھر اس تلوار سے منافق کی گردن اڑا دی اور کہا جو شخص اللہ اور اللہ کے رسول علیہ السلام کے فیصلے کو تسلیم نہ کرے اس کے حق میں میرا فیصلہ یہی ہوتا ہے ،
اس منافق کے وارث حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور حضرت عمررضی اللہ تعالٰی عنہ پر قتل کا دعویٰ کیا اور قسمیں کھانے لگے کہ حضرت عمر رضی اللہ کے پاس تو صرف اس وجہ سے گئے تھے کہ شایدوہ اس معاملہ میں باہم صلح کرادیں یہ وجہ نہ تھی کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ سے انکار تھا۔ اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔
الم تر الی الذین یزعمون انہم امنوبما انزل الیک وماانزل من قبلک یریدون ان یتحاکموا الی الطاغوت ۔
” کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو آپ کی طرف نازل کی گئی ہے اور اس کتاب پر بھی جو آپ سے پہلے نازل کی گئی وہ اپنے مقدمے طاغوت کے پاس لے جانا چاہتے ہیں (حالانکہ ان کو یہ حکم ہواہے کہ اس کا کفر کریں ) ۔”
ان آیات میں اصل حقیقت ظاہر فرما دی گئی اور حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کا لقب:::فاروق::: فرمایا۔
ایک بات یہ بھی ثابت ہو گئی کہ ان کا لقب آسمانی ہے دوسری یہ کہ آج کل بھی نام کے مسلمان جو حقیقت میں منافق ہیں بہت سارے ہیں جن کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیصلے دل سے پسند نہیں ہیں (معاذاللہ)
بڑا خوبصورت اور دل کو چھو لینے والا واقعہ ہے اگر اچھا لگے تو دوسروں کے ساتھ شئیر کریں اور ہمارے پیج کو فالو کرتے جائیں شکریہ۔

Leave a Reply

NZ's Corner