بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

پرانی یونان میں اورفیئس نام کا موسیقار رہتا تھا، جس کی دھنیں دلوں کو ہلا دیتی تھیں۔ اس نے اپنی محبوبہ یوریڈائس سے بے پناہ محبت کی، مگر وہ اچانک موت کے ہاتھوں دنیا سے رخصت ہو گئی۔

اورفیئس اپنے درد کے ساتھ زیرِ زمین دنیا میں اترا تاکہ اسے واپس لے آئے۔ اُس کی موسیقی نے وہاں کے سائے، درندوں، اور ہاڈیز کے پہرے داروں کو خاموش کر دیا۔ دیوتاؤں نے شرط رکھی:
“یوریڈائس تمہارے پیچھے آئے گی، مگر تم پیچھے مڑ کر نہ دیکھنا، جب تک اوپر کی روشنی نہ دیکھو۔”

اورفیئس نے سفر شروع کیا۔ اندھیرا، لمبی سرنگیں، ہر قدم پر خوف۔ یوریڈائس کی سانسیں سنائی دیں، مگر وہ نظر نہ آئی۔ روشنی قریب آئی تو اس نے شک کی اجازت دی، اور ایک لمحے کی بے چینی میں پیچھے مڑ کر دیکھ لیا۔

یوریڈائس فوراً سایوں میں گھل گئی۔ اورفیئس کی بانسری زمین پر گر گئی، اور اس کی موسیقی میں وہ چمک دوبارہ نہ آئی، مگر اُس کے دل میں سبق رہ گیا۔

اخلاقی سبق:
کبھی کبھی یقین اور صبر ہی سب سے بڑی طاقت ہیں؛
اگر شک کے ایک لمحے میں پلٹ جاؤ، قریب ترین منزل بھی کھو سکتے ہو۔

حوالہ جات:

Metamorphoses — اووڈ کی رومی کلاسیکی شاعری

یونانی اساطیر (Greek Mythology, Public Domain)

Leave a Reply

NZ's Corner