بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

ایک شہر میں عاقب نام کا ایک لالچی اور کم عقل سوداگر رہتا تھا۔ عاقب ہمیشہ دوسروں پر اپنی ذہانت کا رعب ڈالنا پسند کرتا، حالانکہ اس کی سوچ بہت سطحی تھی۔
عاقب کے پاس ایک پرانا مگر تجربہ کار اونٹ تھا، جس کا نام ‘صابر’ تھا۔ صابر نے کئی سالوں تک عاقب کے ساتھ دور دراز کے سفر کیے تھے اور صحرا کے تمام مزاج جانتا تھا۔
ایک دن عاقب کو ایک طویل اور خطرناک صحرائی سفر پر جانا تھا۔ جانے سے پہلے، وہ اپنی ہوشیاری دکھانے کے لیے گاؤں کے چوک میں اونٹ کو خوب سجا کر کھڑا ہوا اور لوگوں کو بڑے فخر سے بتا رہا تھا کہ اس نے اپنے “خاص علم” سے اندازہ لگا لیا ہے کہ سفر آسان رہے گا۔
ایک بزرگ، جو عاقب کی حرکتوں سے واقف تھے، نے پوچھا:
“بیٹا، تم تو سارا علم اپنے دماغ میں رکھتے ہو، تمہارا اونٹ صابر سفر کے بارے میں کیا کہتا ہے؟”
عاقب نے حقارت سے کہا:
“حضور! یہ بے زبان جانور کیا جانے؟ میں نے حساب کتاب سے دیکھ لیا ہے، کوئی خطرہ نہیں اور ہم وقت سے پہلے پہنچ جائیں گے۔”
اتنے میں صابر نے عجیب حرکتیں شروع کر دیں۔ اپنے اگلے پیروں سے زمین زور زور سے کھرچنے لگا اور گردن جھٹک رہا تھا، جیسے کسی چیز کی نشاندہی کر رہا ہو۔
عاقب نے اونٹ کو ڈنڈا مارا اور غصے میں کہا:
“خاموش، نالائق! اپنا بد شگونی والا کھیل بند کر۔ دیکھ نہیں رہے کہ میں بات کر رہا ہوں؟”
بزرگ نے کہا:
“عاقب، صابر کی بات سنو۔ یہ اونٹ تم سے زیادہ صحرا جانتا ہے۔”
لیکن عاقب نے نصیحت کو نظر انداز کیا اور اپنا سامان اونٹ پر لاد کر روانہ ہو گیا۔
صحرا میں وہ تھوڑی دور ہی گئے تھے کہ آسمان پر کالے بادل چھا گئے اور ایک زبردست ریت کا طوفان آ گیا۔ طوفان ایسا شدید تھا کہ عاقب کو اپنا اونٹ تک نظر نہ آیا۔ ریت اس کی آنکھوں، منہ اور کانوں میں بھر گئی، سارا سامان اُڑ گیا اور وہ شدید زخمی ہو گیا۔
دوسرے دن کچھ مسافروں نے اسے زخمی اور قریباً بے ہوش حالت میں پایا اور گاؤں واپس لے آئے۔
گاؤں پہنچ کر، عاقب فوراً بزرگ کے قدموں میں جا گرا اور معافی مانگی۔
بزرگ مسکراتے ہوئے بولے:
“بیٹا، سبق کیا ملا؟”
عاقب نے شرمندگی سے جواب دیا:
“حضور، مجھے یہ سبق ملا کہ غرور کرنے والے عقل مندوں سے زیادہ تجربہ کار جانور کی خاموش پیش گوئی قابل اعتماد ہوتی ہے۔ میرا اونٹ زمین کھرچ کر مجھے بتا رہا تھا کہ طوفان آنے والا ہے، مگر میں نے اپنے خالی دماغ پر بھروسہ کیا۔”
اس دن کے بعد عاقب نے ہر سفر سے پہلے اونٹ کی ہر حرکت کو غور سے دیکھنا شروع کیا، اور اس نے اونٹ کے پیروں سے زمین کھرچنے کو ہمیشہ خطرے کی نشانی سمجھا۔
📌 سبق:
علم اور تجربہ ضروری ہیں، مگر غرور انسان کو حماقت کی طرف لے جاتا ہے۔
عقل مند انسان ہمیشہ جانتا ہے کہ کس کی بات کو اہمیت دینی ہے، چاہے وہ کوئی بے زبان جانور ہی کیوں نہ ہو۔
اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو مجھے فالو ضرور کریں!

Leave a Reply

NZ's Corner