وہ رات جب ڈاکوؤں نے موڑ پر گاڑی روکی، ڈرائیور نے کہا “میاں جی کو اتار دو، میں نے ان کا کرایہ معاف کر دیا تھا” — پھر جو ڈاکوؤں کے سردار نے کہا، وہ کسی قرآن کی آیت سے کم نہ تھا۔
یہ 1985 کا زمانہ ہے۔ پاکستان کی شاہراہوں پہ راتیں لمبی ہوتی تھیں۔ ٹرانسپورٹ کے بس اسٹینڈز پہ چائے کے ڈھابے اور تیل کے لیمپ جلتے تھے۔ لوگ ابھی اتنے جلدی نہیں پہنچتے تھے جتنی جلدی منزلیں تھیں۔
میاں محمد بخش لاہور سے پشاور جا رہے تھے۔ان کی عمر ساٹھ برس تھی۔ سفید داڑھی اور ماتھے پہ نماز کا نشان۔ بدن پہ کرتا تھا اور کندھے پہ پرانا شال، جس میں کئی پیوند لگے تھے۔ ان کے پاس کوئی سامان نہیں تھا۔ نہ بریف کیس، نہ بنڈل۔ بس ایک چھوٹی سی تھیلی جس میں پانی کی لوٹی تھی اور کھجوروں کا ایک پیکٹ۔
وہ نیا کھوکھر سے بس میں سوار ہوئے تھے۔یہ رات کی آخری بس تھی۔ ڈرائیور کا نام الہی بخش تھا۔ چالیس سال کا، بھاری بھرکم جسم، ہاتھ پہ ٹوٹی ہوئی گھڑی، اور آنکھوں میں وہ تھکاوٹ جو لمبی مسافتوں کے ڈرائیوروں کو ہوتی ہے۔ وہ کلنٹن اسٹاپ سے اپنی چائے پی کر آیا تو اس نے میاں جی کو بس کے تیسرے نمبر پر بیٹھے دیکھا۔
الہی بخش نے کہا، “میاں جی، رات بڑی ہے۔ پشاور تو کل دوپہر کو پہنچیں گے۔”میاں جی مسکرائے۔ “پہنچنا ہے تو پہنچ جائیں گے، بھائی۔ جلدی کیا ہے۔”
بس چل پڑی۔یہ دسمبر کا مہینہ تھا۔ٹھنڈی ہوا گاڑی کے ٹوٹے شیشوں سے اندر آتی اور مسافروں کے چہروں کو چھو کر گزر جاتی۔ آدھی رات کے قریب بس حسن ابدال سے گزری۔ کچھ مسافر اتر گئے۔ نئے مسافر سوار ہوئے۔ ایک بوڑھی عورت اپنی بہو کے ساتھ آئی، دونوں نے پیچھے بیٹھنا چاہا مگر وہاں جگہ نہیں تھی۔
میاں جی اٹھ کھڑے ہوئے۔
“آؤ بیٹا، تم دونوں ادھر آ جاؤ۔ میں پیچھے بیٹھ جاتا ہوں۔”
بوڑھی عورت نے کہا، “میاں جی، ٹھنڈ بہت ہے، آپ بزرگ ہیں۔”
میاں جی ہنس دیے۔ “بزرگی صرف عمر کو نہیں کہتے بیٹا، بزرگ وہ ہے جو دوسروں کی تکلیف سمجھے۔ تم بیٹھو، مجھے پیچھے ٹھیک رہے گا۔”
وہ اٹھ کر آخری سیٹ پہ جا بیٹھے۔ وہاں روشنی کم تھی اور جھٹکے زیادہ تھے۔ مگر ان کے چہرے پہ وہی سکون تھا جو مسجدوں کے صحن میں ہوتا ہے۔
الہی بخش نے ریئر ویو مرر میں انہیں دیکھا۔ کچھ سوچا، پھر آنکھیں سڑک پہ جما لیں۔
رات کے تین بجے تھے۔
بس برہان کے قریب پہنچی تو سامنے سے آنے والی ایک ٹرک کی تیز روشنی نے الہی بخش کی آنکھیں چندھیا دیں۔ اس نے آنکھیں ملنے کے لیے سر جھکایا اور جب اوپر دیکھا تو سامنے تین آدمی کھڑے تھے۔
ننگی تلواروں کے ساتھ۔ڈاکو۔
الہی بخش نے بریک لگائی۔ بس کی چیخیں رک گئیں۔ آواز آئی، “سارے لوگ نیچے اترو! جلدی کرو!”
مسافر چیخنے لگے۔ عورتیں رونے لگیں۔ بوڑھی عورت کی بہو کانپنے لگی۔
ڈاکوؤں کا سردار شیر زمان تھا—پچاس سال کا، لمبا، چوڑا، ایک آنکھ پہ گہرا داغ، اور ہاتھ میں وہ تلوار جس نے کئی راتیں کاٹی تھیں۔ اس نے تلوار گھمائی اور کہا، “چپ رہو! کوئی آواز نہیں نکالنی۔ جو قیمتی سامان ہے، باہر نکالو۔ ورنہ بس کو آگ لگا دوں گا۔”
لوگ تھر تھر کانپ رہے تھے۔
الہی بخش نے ہمت کر کے کہا، “سر، یہ غریب لوگ ہیں۔ کھیتی باڑی کرتے ہیں۔ کوئی قیمتی چیز نہیں ہے ان کے پاس۔”
شیر زمان نے اسے دھکا دے دیا۔ “چپ کر۔ تجھ سے کسی نے پوچھا ہے؟”
اس نے مسافروں کی طرف دیکھا۔ “جلدی کرو۔”
تبھی اس کی نظر آخری سیٹ پر پڑی۔
وہاں میاں محمد بخش بیٹھے تھے۔
ان کے چہرے پر خوف کا ایک لمس بھی نہیں تھا۔ آنکھیں بند تھیں۔ ہونٹ ہل رہے تھے۔ وہ درود پڑھ رہے تھے۔
شیر زمان نے تلوار اٹھائی اور ان کی طرف بڑھا۔ “بوڑھے! نیچے اتر!”
میاں جی نے آنکھیں کھولیں۔ بڑے پیار سے دیکھا۔ جیسے کوئی اپنے بیٹے کو دیکھتا ہے۔
وہ بولے، “بیٹا، میں بیمار ہوں۔ بیٹھ کر درود پڑھ رہا تھا۔ تم آؤ، میرے پاس تو کچھ ہے نہیں۔ یہ رکھ لو۔”
انہوں نے جیب سے ایک چھوٹی سی ڈبیا نکالی اور شیر زمان کی طرف بڑھا دی۔
وہ ڈبیا پلاسٹک کی تھی۔ پھیکی پڑ چکی تھی۔ شیر زمان نے غصے سے ڈبیا پکڑی اور کھولی۔
اس میں ایک پرانی انگوٹھی تھی۔ چاندی کی، جس کا پتھر گر چکا تھا۔ اور ایک کاغذ کا ٹکڑا۔
اس نے کاغذ پڑھا۔ لکھا تھا:
“یہ انگوٹھی اس بھوکے مسافر کو دے دینا جو تم سے پہلے خدا تک پہنچ جائے۔”
شیر زمان کا چہرہ بدل گیا۔
وہ تینوں ڈاکو وہیں کھڑے تھے۔ مسافر ڈرے ہوئے تھے۔ الہی بخش نے دیکھا کہ شیر زمان کی تلوار کانپنے لگی ہے۔
شیر زمان نے آواز دی، “الہی بخش! ادھر آ۔”
الہی بخش ڈرتے ڈرتے قریب آیا۔
شیر زمان نے اسے ڈبیا دکھائی اور کہا، “یہ بوڑھا کون ہے؟ کہاں سے آیا ہے؟”
الہی بخش نے کہا، “سر، یہ نیا کھوکھر سے سوار ہوئے تھے۔ مجھے نہیں معلوم کون ہیں۔ لیکن…”
وہ رکا۔ پھر بولا، “لیکن انہوں نے کرایہ نہیں دیا تھا۔ جیب میں ان کے پیسے نہیں تھے۔ میں نے کہا کوئی بات نہیں، سفر کرو۔ اللہ کریم دے گا۔”
شیر زمان نے گہری سانس لی۔
اس نے میاں جی کی طرف دیکھا۔ میاں جی خاموش تھے۔ آنکھیں پھر بند ہو چکی تھیں۔
پھر اس نے کچھ کہا جو کسی قرآن کی آیت سے کم نہیں تھا۔
“جس نے آج رات اس بوڑھے کا کرایہ معاف کیا، خدا نے اس کے ذریعے پوری بس کی جان معاف کروا دی۔”
شیر زمان نے تلوار نیچے رکھ دی۔
اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا، “چلو، یہاں سے چلتے ہیں۔ یہ بس محفوظ ہے۔”
تینوں ڈاکو اندھیرے میں غائب ہو گئے۔
بس پھر چل پڑی۔
صبح کی اذان ہو رہی تھی جب بس پشاور پہنچی۔ میاں جی اترے۔ الہی بخش ان کے پاس آیا۔
اس نے کہا، “میاں جی، آپ نے وہ انگوٹھی کیوں دی؟”
میاں جی نے مسکراتے ہوئے کہا، “وہ انگوٹھی میرے استاد کی تھی۔ انہوں نے مجھے دی تھی اور کہا تھا کہ اسے اس ہاتھ کو پہنا دینا جو تم سے زیادہ محتاج ہو۔ آج رات وہ ہاتھ مل گیا۔”
الہی بخش نے پوچھا، “آپ کہاں جائیں گے اب؟”
میاں جی نے دور کی طرف دیکھا۔ “مجھے پہاڑوں میں جانا ہے۔ وہاں ایک بزرگ رہتے ہیں، ان سے ملنا ہے۔”
وہ چل دیے۔
الہی بخش دیر تک انہیں دیکھتا رہا۔ پھر اس نے گاڑی کی طرف دیکھا۔ مسافر اتر چکے تھے۔ بوڑھی عورت اور اس کی بہو بھی جا چکی تھیں۔
مگر ان کی آنکھوں میں وہ رات ہمیشہ کے لیے بس گئی تھی۔
