ایک ہوائی جہاز کے خوفناک حادثے میں بدقسمتی سے کوئی بھی مسافر زندہ نہ بچ سکا۔ جائے حادثہ پر جب ماہرین کی ٹیم پہنچی تو ہر چیز اس قدر تباہ ہو چکی تھی کہ حادثے کی اصل وجہ معلوم کرنا تقریباً ناممکن ہو گیا تھا۔ 😔
جہاز کا ملبہ دور دور تک پھیلا ہوا تھا۔ اسی دوران ایک ماہر کی نظر قریب کے درخت پر پڑی، جہاں ایک بندر سکون سے بیٹھا ہوا تھا۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ اس کے گلے میں بھی ایئر لائن کا ٹیگ لٹک رہا تھا۔ 🐒
تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ بندر بھی اسی بدقسمت جہاز کا “مسافر” تھا۔ فوراً اسے پکڑ لیا گیا اور تفتیش کے لیے ایک اشاروں کی زبان کے ماہر کو بلایا گیا تاکہ بندر سے کچھ معلومات حاصل کی جا سکیں۔ 🤓
تفتیشی بورڈ نے ماہر کے ذریعے بندر سے پہلا سوال کیا:
“حادثہ کتنے بجے ہوا تھا؟”
ماہر نے سوال بندر کو اشاروں میں سمجھایا۔ بندر نے اپنی کلائی کی طرف اشارہ کیا، پھر دونوں ہاتھوں کی دس انگلیاں کھڑی کیں، اور اس کے بعد دونوں ہاتھ جوڑ کر گال کے نیچے رکھ کر سر ٹیڑھا کر لیا۔ 😴
ماہر نے اشارہ سمجھتے ہوئے کہا:
“بندر بتا رہا ہے کہ حادثہ رات کے دس بجے ہوا۔”
اگلا سوال پوچھا گیا:
“اس وقت مسافر کیا کر رہے تھے؟”
بندر نے دوبارہ وہی اشارہ کیا — ہاتھ گال کے نیچے رکھ کر سر ٹیڑھا کر لیا۔ 😴
ماہر نے بتایا:
“بندر کہہ رہا ہے کہ تمام مسافر سو رہے تھے۔”
پھر سوال ہوا:
“ایئر ہوسٹسز کیا کر رہی تھیں؟”
بندر نے پھر وہی اشارہ کیا۔
ماہر بولا:
“وہ بھی سو رہی تھیں۔”
اب تفتیشی بورڈ نے پوچھا:
“پائلٹ کیا کر رہا تھا؟”
بندر نے ایک بار پھر وہی حرکت دہرائی۔
ماہر نے جواب دیا:
“پائلٹ بھی سو رہا تھا۔” ☹️
اب تفتیشی ٹیم کے ایک رکن نے ہنستے ہوئے بندر سے آخری سوال کیا:
“جب سب لوگ سو رہے تھے تو تم کیا کر رہے تھے؟”
اس پر بندر نے دونوں ہاتھ آگے کر کے ایسے گھمائے جیسے اسٹیئرنگ یا جہاز کے کنٹرول سنبھال رہا ہو۔ ✈️
ماہر نے مسکرا کر کہا:
“بندر کہہ رہا ہے… جہاز میں ہی چلا رہا تھا!” 🤣😂
سبق
جب نااہل لوگ ذمہ داری سنبھال لیں…
تو انجام اکثر ایسا ہی ہوتا ہے۔ 😄
منقول
