بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

حضرت خضرؑ — تاریخ کی ایک پراسرار اور حیرت انگیز شخصیت
حضرت خضر علیہ السلام کی شخصیت تاریخِ انسانی کے سب سے پراسرار اور علمی ابواب میں سے ایک سمجھی جاتی ہے۔ ان کی زندگی، زمانے اور ان سے منسوب روایات کو سمجھنے کے لیے ہمیں قرآن کریم کے بیانات کے ساتھ ساتھ قدیم تاریخی ماخذ اور اسرائیلی روایات کا بھی سہارا لینا پڑتا ہے۔

حضرت خضر علیہ السلام کا اصل نام اکثر روایات میں “بلیان” اور کنیت “ابوالعباس” بیان کی جاتی ہے۔ ان کا لقب “خضر” (یعنی سبز) اس لیے پڑا کہ کہا جاتا ہے وہ جس خشک زمین یا سفید گھاس پر بیٹھتے تھے وہ ان کی برکت سے لہلہانے لگتی اور سبز ہو جاتی تھی۔ ان کے نسب کے بارے میں بھی مختلف آراء پائی جاتی ہیں؛ بعض انہیں حضرت آدم علیہ السلام کا بیٹا قرار دیتے ہیں، کچھ کے نزدیک وہ حضرت نوح علیہ السلام کی نسل سے ہیں، جبکہ ایک بڑی جماعت انہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دور کے ایک برگزیدہ بندے کے طور پر بیان کرتی ہے۔

حضرت خضر علیہ السلام کے زمانے کے بارے میں مورخین دو اہم ادوار کا ذکر کرتے ہیں۔ تاریخی روایات (جیسے تاریخ ابن کثیر اور طبری) کے مطابق وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے میں موجود تھے اور ذوالقرنین کے لشکر کے ہراول دستے کے سربراہ یا وزیر تھے۔ اسرائیلی روایات میں یہ مفروضہ بہت عام ہے کہ انہوں نے “آبِ حیات” (عین الحیاۃ) کا پانی پی لیا تھا جس کی وجہ سے انہیں غیر معمولی طویل عمر عطا ہوئی۔

قرآن کریم (سورۃ الکہف) کے مطابق ان کی ملاقات حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اس وقت ہوئی جب موسیٰؑ بنی اسرائیل کی قیادت کر رہے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب بنی اسرائیل مصر سے نکل چکے تھے اور صحرائے سینا کے قریب قیام پذیر تھے۔

حضرت خضر علیہ السلام کسی ریاست کے حکمران نہیں تھے بلکہ ان کی حیثیت ایک “سیاح مصلح” کی تھی۔ ان کا انداز اصلاح خاموشی سے لوگوں کی بہتری کے لیے کام کرنا تھا۔

حضرت خضرؑ کا علم عام انسانوں کی طرح سیکھا ہوا (کسبی) نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ “علمِ لدنی” تھا۔ قرآن کی روشنی میں ان کے پاس وہ حکمتیں اور راز تھے جن تک عام انسان یا ظاہری شریعت کے حامل انبیاء کی رسائی نہیں ہوتی۔

بعض علماء فرماتے ہیں کہ جیسے فرشتے کائنات کے انتظام جیسے بارش، موت اور رزق کے معاملات پر مامور ہوتے ہیں، اسی طرح حضرت خضرؑ انسانوں میں وہ شخصیت ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے بعض “تکوینی امور” یعنی قضا و قدر کے فیصلوں کو عملی صورت دینے کے لیے منتخب کیا۔

روایات کے مطابق وہ کسی ایک جگہ مستقل قیام نہیں کرتے بلکہ اکثر صحراؤں، سمندروں اور جزیروں میں نظر آتے ہیں جہاں وہ مسافروں کی رہنمائی یا مصیبت میں پھنسے لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔

ان کے زمانے میں سمندروں پر ظالم بادشاہوں کا قبضہ تھا جو غریب لوگوں کی کشتیاں چھین لیا کرتے تھے۔ ان کے قصے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ بین الاقوامی سرحدوں سے آزاد ہو کر اللہ کے حکم سے مختلف بستیوں کا سفر کرتے تھے۔

جس علاقے (مجمع البحرین) کا ذکر ملتا ہے وہاں اس وقت قدیم سامی یا آرامی زبانوں کا رواج تھا، تاہم نبوت یا ولایت کے حامل ہونے کی وجہ سے ان کی دعوت اور پیغام عالمگیر نوعیت کا تھا۔

حضرت خضرؑ کے بارے میں اسرائیلی روایات میں بہت سے مافوق الفطرت واقعات بھی بیان کیے جاتے ہیں۔ سب سے مشہور مفروضہ یہ ہے کہ وہ اندھیروں کے ایک ملک میں گئے اور وہاں سے آبِ حیات پی لیا، اسی لیے وہ اب تک زندہ ہیں۔

کچھ روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ وہ ہر سال حج کے موقع پر حضرت الیاس علیہ السلام سے ملاقات کرتے ہیں۔ عیسائی روایات میں بعض لوگ حضرت خضر علیہ السلام کو سینٹ جارج سے تشبیہ دیتے ہیں جو برائی کے خلاف لڑنے والا ایک بہادر نائٹ (Knight) تھا۔

قرآن کریم نے انہیں ایک ایسے بندے کے طور پر متعارف کروایا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے خصوصی علم یعنی “علمِ لدنی” عطا فرمایا تھا۔ سورۃ الکہف میں ان کے تین بڑے اقدامات بیان ہوئے ہیں جو اس دور کے سماجی اور سیاسی بگاڑ کی اصلاح کی مثال ہیں۔

ایک غریب خاندان کی کشتی کو ظالم بادشاہ کے قبضے سے بچانے کے لیے اسے نقصان پہنچانا (سیاسی تحفظ)۔

ایک ایسے بچے کو ختم کرنا جو مستقبل میں اپنے ماں باپ کے لیے شدید گمراہی اور آزمائش کا سبب بن سکتا تھا (سماجی اصلاح)۔

اور یتیم بچوں کے خزانے کو محفوظ رکھنے کے لیے ایک دیوار کی مرمت کرنا تاکہ ان کا حق ضائع نہ ہو (معاشی انصاف)۔

صوفیانہ روایات میں یہ بھی بیان کیا جاتا ہے (اگرچہ اکثر علماء کے نزدیک ان روایات کی کوئی مضبوط سند نہیں) کہ حضرت خضرؑ صرف سمندروں یا صحراؤں تک محدود نہیں بلکہ وہ کبھی کبھی عام انسان کے روپ میں شہری زندگی میں بھی موجود ہوتے ہیں۔

کچھ قدیم صوفی کتب میں ذکر ہے کہ وہ بازاروں اور منڈیوں میں بھی آتے جاتے ہیں تاکہ ناپ تول میں کمی کرنے والوں یا غریبوں کا حق مارنے والوں پر نظر رکھ سکیں۔

صحراؤں میں راستہ بھول جانے والے مسافروں کا “خضر” کے نام سے مدد کے لیے پکارنا اسی تصور سے جڑا ہوا ہے کہ وہ ایک رہنمائی کرنے والی شخصیت کے طور پر ظاہر ہو سکتے ہیں۔ تاہم ان باتوں کا کوئی واضح اور قطعی ثبوت موجود نہیں۔

تصوف کی بعض روایات میں حضرت خضرؑ کو ایک “روحانی استاد” کا مقام بھی حاصل ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بہت سے اولیاء اللہ نے ان سے براہِ راست روحانی فیض حاصل کیا جسے “مشربِ خضری” کہا جاتا ہے۔

قرآن کریم میں جب انہوں نے حضرت موسیٰؑ سے کہا تھا کہ “تم میرے ساتھ صبر نہیں کر سکو گے” تو دراصل اس میں اس حقیقت کی طرف اشارہ تھا کہ ان کے کام بظاہر انسانی عقل کے خلاف نظر آتے ہیں۔

حضرت خضرؑ کا کردار ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ کائنات میں بہت سی چیزیں جو ہمیں بظاہر بری یا تکلیف دہ دکھائی دیتی ہیں، جیسے کشتی کا ٹوٹ جانا، کسی کا انتقال، یا کسی ظالم حکمران کے ظلم کی وجہ سے بے شمار انسانوں کی موت، ان کے پیچھے بھی اللہ تعالیٰ کی کوئی بڑی حکمت اور خیر پوشیدہ ہو سکتی ہے جسے ہم اپنی محدود نظر سے نہیں دیکھ پاتے۔

حضرت خضر علیہ السلام کا قصہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دور میں ایک ایسی اہم کڑی ہے جو یہ حقیقت واضح کرتا ہے کہ شریعت کے ظاہری احکام کے ساتھ ساتھ کائنات میں اللہ تعالیٰ کی ایک خفیہ تدبیر اور تکوینی نظام بھی مسلسل کام کر رہا ہوتا ہے۔


Leave a Reply

NZ's Corner