بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

غور کے پہاڑوں میں برفانی ہوائیں چل رہی تھیں۔ سردی ہڈیوں میں اتر چکی تھی اور آسمان پر چھائے بادل یوں محسوس ہوتے تھے جیسے کسی بڑے طوفان کی آمد کی خبر دے رہے ہوں۔ اسی سرد سرزمین میں ایک کم سن غلام آنکھیں کھول رہا تھا، جسے اس وقت یہ معلوم نہ تھا کہ آنے والا وقت اس کے نام کو تاریخ کے اوراق میں سنہری حروف سے رقم کرے گا۔ یہی غلام آگے چل کر قطب الدین ایبک کہلایا، وہی شخص جس نے غلامی کی زنجیروں کو اقتدار کے تاج میں بدل دیا۔
قطب الدین ایبک ترک نژاد تھا۔ بچپن ہی میں والدین سے جدا ہو گیا۔ بازارِ غلاماں میں اس کی آنکھوں میں خوف، حیرت اور سوالات تھے۔ ہر بولی لگانے والا اسے ایک شے کی طرح دیکھتا، مگر اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی، جیسے کوئی چھپا ہوا چراغ ہو جو صحیح وقت پر روشن ہونا چاہتا ہو۔ قسمت نے اسے ایک ایسے شخص کے ہاتھوں میں دے دیا جو اس چراغ کو پہچان سکتا تھا۔ وہ شخص تھا قاضی فخرالدین عبدالعزیز کوفی۔ قاضی نے اس بچے میں ذہانت، شائستگی اور سیکھنے کی لگن دیکھی۔ اس کے لیے تعلیم کا بندوبست کیا، قرآن، فقہ، عربی اور فارسی کی تعلیم دی، گھڑسواری، تیراندازی اور شمشیر زنی سکھوائی۔ غلام ہوتے ہوئے بھی قطب الدین ایبک کا اٹھنا بیٹھنا آزادزادوں جیسا تھا۔
مگر قسمت نے ایک اور موڑ لیا۔ قاضی فخرالدین کے انتقال کے بعد ورثا نے ایبک کو فروخت کر دیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب شاید کوئی اور ہوتا تو ٹوٹ جاتا، مگر ایبک کے اندر کا حوصلہ مزید مضبوط ہو گیا۔ اس بار وہ غلام بنا سلطانِ وقت شہاب الدین محمد غوری کا۔ یہ غلامی دراصل اس کی زندگی کا سب سے اہم باب ثابت ہوئی۔ شہاب الدین غوری نے اس نوجوان میں وہی چمک دیکھی جو ایک سپہ سالار میں ہونی چاہیے۔ اس نے ایبک کو نہ صرف فوجی تربیت دی بلکہ جنگی حکمتِ عملی، نظم و ضبط اور قیادت کے اصول بھی سکھائے۔
ہندوستان کی سرزمین اس وقت کئی چھوٹی بڑی ریاستوں میں بٹی ہوئی تھی۔ راجپوت راجاؤں کی طاقت، دولت اور غرور اپنے عروج پر تھا۔ محمد غوری کی نظریں اس سرزمین پر تھیں اور ایبک اس کی آنکھوں کا تارا بن چکا تھا۔ ترائن کی جنگ میں، جب میدانِ جنگ گرد و غبار سے اٹا ہوا تھا اور تلواروں کی جھنکار فضا میں گونج رہی تھی، قطب الدین ایبک ایک شیر کی طرح لڑ رہا تھا۔ اس کی تلوار جہاں پڑتی، دشمن کے حوصلے ٹوٹ جاتے۔ وہ صرف ایک سپاہی نہ تھا، وہ ایک سالار کی طرح سوچتا تھا۔ اسی جنگ کے بعد ایبک کی حیثیت ایک وفادار غلام سے بڑھ کر ایک قابلِ اعتماد جرنیل کی ہو گئی۔
دہلی، اجمیر، بنارس اور دیگر علاقوں میں مسلم اقتدار قائم کرنے میں قطب الدین ایبک کا کردار فیصلہ کن تھا۔ وہ جہاں جاتا، صرف فتح نہیں لاتا بلکہ نظم و نسق بھی قائم کرتا۔ اس کی سختی میں عدل تھا اور نرمی میں وقار۔ وہ جانتا تھا کہ تلوار سے زمین تو جیتی جا سکتی ہے، مگر دل نہیں۔ اس لیے وہ مفتوح علاقوں میں مقامی لوگوں کے ساتھ نرمی برتتا، ان کے مذہبی معاملات میں بلا ضرورت مداخلت نہ کرتا، مگر ریاستی رٹ قائم رکھتا۔
شہاب الدین غوری کی شہادت نے ایبک کی زندگی میں ایک بار پھر زلزلہ برپا کر دیا۔ وہ سلطان جس کے سائے میں ایبک نے خود کو پایا تھا، اب اس دنیا میں نہ رہا۔ سلطنت کے مختلف حصوں میں امرا نے سر اٹھانا شروع کر دیا۔ ہر کوئی اقتدار کا دعوے دار تھا۔ ایسے نازک وقت میں ایبک نے صبر اور تدبر کا دامن تھاما۔ وہ جانتا تھا کہ جلد بازی تباہی لاتی ہے۔ دہلی میں اس نے خود کو سلطان قرار دیا، مگر اس اعلان میں غرور نہیں تھا، بلکہ ایک بوجھ کا احساس تھا۔
قطب الدین ایبک کا دورِ حکومت مختصر تھا، مگر اس کی بنیادیں مضبوط تھیں۔ اس نے غلام خاندان کی بنیاد رکھی، جو آگے چل کر سلطنتِ دہلی کہلائی۔ اس نے تعمیرات میں بھی گہری دلچسپی لی۔ دہلی کی جامع مسجد اور قطب مینار کی ابتدائی تعمیر اسی کے دور میں شروع ہوئی۔ قطب مینار صرف اینٹ اور پتھر کی عمارت نہ تھی، بلکہ یہ اس غلام کی علامت تھی جو بلندیوں کو چھونا جانتا تھا۔
ایبک سخاوت میں مشہور تھا۔ تاریخ اسے “لکھ بخش” کے لقب سے یاد کرتی ہے۔ جو اس کے دربار میں آتا، خالی ہاتھ نہ لوٹتا۔ مگر اس کی سخاوت اندھی نہ تھی، وہ اہل لوگوں کی قدر جانتا تھا۔ علماء، شعراء اور فنکار اس کے دربار کی زینت تھے۔ وہ خود سادہ زندگی گزارتا، مگر علم و ہنر پر دولت لٹاتا تھا۔
ایک دن میدانِ چوگان میں کھیلتے ہوئے گھوڑا بدکا۔ ایبک سنبھل نہ سکا اور زمین پر آ گرا۔ چوٹ گہری تھی۔ وہی گھوڑا جس نے اسے کئی جنگوں میں فتح دلائی تھی، آج اس کی موت کا سبب بن گیا۔ زندگی نے جیسے ایک مکمل دائرہ پورا کر لیا تھا۔ غلامی سے سلطنت تک اور سلطنت سے مٹی تک۔ لاہور کی زمین نے اس عظیم انسان کو اپنے سینے میں سمو لیا۔
قطب الدین ایبک کی کہانی صرف ایک فرد کی کہانی نہیں، بلکہ یہ اس حقیقت کی علامت ہے کہ حالات چاہے کتنے ہی سخت کیوں نہ ہوں، اگر انسان میں حوصلہ، وفاداری اور محنت ہو تو وہ تاریخ کا رخ موڑ سکتا ہے۔ وہ غلام تھا، مگر اس کی سوچ آزاد تھی۔ وہ سلطان بنا، مگر اس کا دل عاجز رہا۔ اسی عاجزی اور عزم نے اسے امر کر دیا۔

Leave a Reply

NZ's Corner