بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

وہ بڑا بہادر اور دریا دل آدمی تھا۔ سارے عرب میں اس کی سخاوت کے چرچے عام تھے۔

ایک مرتبہ عباسی خلیفہ Abu Ja’far al-Mansur اس سے سخت ناراض ہو گیا اور اس نے حکم دیا کہ Ma’n ibn Za’ida کو گرفتار کرکے اس کے سامنے پیش کیا جائے۔ جب معن بن زائدہ کو خلیفہ کے اس حکم کی خبر ملی تو وہ کسی جگہ چھپ گیا، لیکن ہر وقت اسے یہی خوف لگا رہتا تھا کہ خلیفہ کے آدمی کسی نہ کسی دن اسے ضرور ڈھونڈ نکالیں گے۔

آخر ایک دن اس نے بھیس بدلا اور ایک اونٹ پر سوار ہو کر بغداد سے نکل کھڑا ہوا۔ ابھی تھوڑی ہی دور گیا تھا کہ اچانک ایک سیاہ فام آدمی ایک طرف سے نکلا اور اس کے اونٹ کی مہار پکڑ کر اونٹ کو بٹھا دیا۔ پھر اس نے معن بن زائدہ کا ہاتھ پکڑ کر کہا:
“میرے ساتھ چلو۔”

معن نے حیرت سے پوچھا:
“تم کون ہو اور یہ کیا حرکت ہے؟”

اس نے جواب دیا:
“میں تو جو ہوں سو ہوں، مگر تم ضرور معن بن زائدہ ہو، جس کی امیرالمومنین کو تلاش ہے اور جس کو گرفتار کرنے والے کے لیے خلیفہ نے بہت بڑا انعام مقرر کیا ہے۔”

معن نے کہا:
“بھائی! تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے، میرا معن بن زائدہ سے کیا تعلق؟”

سیاہ فام آدمی بولا:
“تم مجھے دھوکا نہیں دے سکتے۔ اللہ کی قسم! میں تمہیں اچھی طرح پہچانتا ہوں۔ اس سے پہلے کہ انعام کے لالچ میں اور لوگ بھی یہاں پہنچ جائیں، میرے ساتھ چل پڑو۔”

جب معن نے دیکھا کہ وہ شخص واقعی اسے پہچان چکا ہے اور کسی طرح اس کا پیچھا نہیں چھوڑے گا تو اس نے اپنی جیب سے ہیروں کا ایک قیمتی ہار نکالا اور اس کے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہا:
“بھائی! اس ہار میں نہایت قیمتی ہیرے ہیں۔ اس کی قیمت اس انعام سے کہیں زیادہ ہے جو خلیفہ نے میرے گرفتار کرنے والے کے لیے رکھا ہے۔ تم یہ ہار لے لو اور میری جان کے دشمن نہ بنو۔”

وہ شخص کچھ دیر تک ہار کو غور سے دیکھتا رہا، پھر بولا:
“واقعی یہ ہار بہت قیمتی ہے۔ لیکن اسے لے کر تمہیں چھوڑنے کا فیصلہ میں اسی وقت کروں گا جب تم میرے ایک سوال کا سچا جواب دو گے۔”

معن نے کہا:
“پوچھو، کیا سوال ہے؟”

اس نے کہا:
“تمہاری سخاوت اور دریا دلی کی دھوم سارے عرب میں مچی ہوئی ہے۔ یہ بتاؤ، کیا کبھی تم نے اپنی ساری دولت کسی کو دے دی ہے؟”

معن نے جواب دیا:
“نہیں۔”

سیاہ فام آدمی نے پوچھا:
“اچھا آدھی دولت؟”

معن نے کہا:
“وہ بھی نہیں۔”

اس نے پھر سوال کیا:
“اچھا ایک تہائی؟”

معن نے کہا:
“ایک تہائی بھی نہیں۔”

اس نے پھر پوچھا:
“اچھا دسواں حصہ؟”

معن نے کہا:
“ہاں، شاید کبھی ایسا ہوا ہو۔”

یہ سن کر وہ شخص مسکرایا اور بولا:
“یہ تو کوئی بڑی بات نہ ہوئی۔ میں امیرالمومنین منصور کی سرکار میں صرف بیس درہم ماہوار پر ملازم ہوں۔ یہ ہار جو تم مجھے دے رہے ہو لاکھوں درہم کا ہے، مگر میں اسے تمہیں واپس دیتا ہوں تاکہ تمہیں معلوم ہو جائے کہ سخاوت کس چیز کا نام ہے اور تم سے بھی بڑے سخی اس دنیا میں موجود ہیں۔”

یہ کہہ کر اس نے ہار معن بن زائدہ کی طرف پھینک دیا اور اونٹ کی مہار چھوڑ کر وہاں سے چل دیا۔

معن نے اسے آواز دے کر کہا:
“اے جوان! جس طرح تم نے مجھے شرمندہ کیا ہے، اس سے تو مر جانا بہتر ہے۔ یہ ہار لے جاؤ، میں نے خوشی سے تمہیں دیا ہے۔”

یہ سن کر خلیفہ کا وہ غریب ملازم ہنس پڑا اور کہنے لگا:
“تم چاہتے ہو کہ اپنے آپ کو مجھ سے زیادہ سخی ثابت کرو۔ اللہ کی قسم! ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ یہ ہار میں نے تمہیں بخش دیا ہے، اب میرے لیے اسے چھونا بھی حرام ہے۔”

یہ کہہ کر وہ تیزی سے شہر کی طرف چل دیا۔

معن بن زائدہ خود کہتے ہیں کہ میں نے اپنی زندگی میں اتنے بڑے حوصلے والا کوئی غریب آدمی نہیں دیکھا۔

حقیقت یہی ہے کہ بعض لوگ واقعی بہت انمول ہوتے ہیں۔

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو مجھے فالو ضرور کریں۔

Leave a Reply

NZ's Corner