ایک صاحب گھر میں اپنی بیگم کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے۔ پہلے نوالے پر ہی وہ غصے سے بپھر گئے۔
“یہ آج تم نے کھانے کا کیا حشر کر دیا ہے؟ نہ گوشت گلا ہے اور نہ ہی سبزی۔ مجھ سے تو ایک نوالہ بھی حلق سے نیچے نہیں اتر رہا!”
بیگم صاحبہ نے تیکھے تیوروں کے ساتھ ترکی بہ ترکی جواب دیا:
“اپنی غلطی کا غصہ مجھ پر کیوں اتار رہے ہو؟ یہ کھانا تو میرے اپنے حلق سے بھی نہیں اتر رہا۔”
“میری غلطی…؟” شوہر کا پارہ مزید چڑھ گیا۔ “کیا کھانا میں نے پکایا ہے جو میری غلطی ہے؟”
بیوی نے پلیٹ پرے دھکیلتے ہوئے جوابی وار کیا:
“وہ پکوان کی ترکیبوں والی کتاب مجھے کس نے لا کر دی تھی؟ میں نے اسی کتاب سے ترکیب دیکھ کر یہ ڈش بنائی ہے۔ اور ذرا یہ بھی سن لیں کہ وہ ترکیب چار آدمیوں کے لیے تھی، جبکہ ہم صرف دو ہیں۔”
بیگم نے بڑے اعتماد سے وضاحت جاری رکھی:
“اسی لیے میں نے عقل مندی کا ثبوت دیتے ہوئے ہر چیز کی مقدار آدھی کر دی، یہاں تک کہ میں نے اتنی احتیاط برتی کہ پکنے کا وقت بھی آدھا کر دیا!”
پھر ایک فاتحانہ نظر شوہر پر ڈالی اور بولیں:
“اب تم ہی بتاؤ، اتنی محنت اور احتیاط کے باوجود اگر سبزی اور گوشت نہیں گلے، تو غلطی میری ہے یا تمہاری؟ تمہیں ہی کوئی ڈھنگ کی کتاب لا کر دینی چاہیے تھی!”
منقول
