ایک زمانے کی بات ہے، دو دوست ایک سفر پر نکلے۔ دونوں نے ایک دوسرے سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ہر مشکل میں ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے۔ راستہ لمبا تھا اور انہیں ایک گھنے جنگل سے گزرنا تھا۔
جنگل خاموش تھا، درخت آسمان تک بلند تھے اور راستہ سنسان۔ دونوں دوست باتیں کرتے ہوئے آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہے تھے۔
اچانک جھاڑیوں میں زوردار سرسراہٹ ہوئی۔
چند لمحوں بعد ایک بڑا ریچھ جھاڑیوں سے نکل آیا۔
ریچھ کو دیکھتے ہی دونوں دوست خوف سے کانپ گئے۔
ان میں سے ایک دوست کو درخت پر چڑھنا آتا تھا۔ اس نے فوراً موقع دیکھا اور اپنے ساتھی کو چھوڑ کر درخت پر چڑھ گیا۔ اس نے ایک لمحے کے لیے بھی اپنے دوست کی طرف نہ دیکھا۔
دوسرا دوست درخت پر چڑھنا نہیں جانتا تھا۔ وہ اکیلا کھڑا رہ گیا۔
اب اس کے پاس کوئی راستہ نہیں تھا۔
اچانک اسے ایک بات یاد آئی کہ ریچھ مردہ جسم کو نہیں کھاتا۔
وہ فوراً زمین پر لیٹ گیا، سانس روک لی اور بالکل بے حرکت ہو گیا۔
ریچھ آہستہ آہستہ اس کے قریب آیا۔ اس نے اس کے چہرے کو سونگھا، کان کے پاس ناک رکھی، اور کچھ دیر تک غور سے دیکھا۔
چونکہ لڑکا بالکل حرکت نہیں کر رہا تھا، ریچھ نے سمجھا کہ وہ مر چکا ہے۔
چند لمحوں بعد ریچھ وہاں سے چلا گیا۔
جب خطرہ ٹل گیا تو درخت پر بیٹھا دوست نیچے اترا۔
وہ مسکرا کر بولا:
“دوست! میں نے دیکھا کہ ریچھ تمہارے کان کے قریب کچھ کہہ رہا تھا۔ اس نے کیا کہا؟”
زمین پر لیٹے لڑکے نے آہستہ سے جواب دیا:
“ریچھ نے میرے کان میں صرف ایک بات کہی…”
“اس نے کہا کہ ایسے دوستوں کے ساتھ کبھی سفر نہ کرو جو مشکل وقت میں تمہیں چھوڑ کر بھاگ جائیں۔”
یہ سن کر درخت پر چڑھنے والا دوست شرمندہ ہو گیا۔
اخلاقی سبق
- مشکل وقت میں ہی سچے دوست کی پہچان ہوتی ہے۔
- جو دوست مصیبت میں ساتھ چھوڑ دے، وہ دوست نہیں ہوتا۔
- دوستی صرف الفاظ سے نہیں بلکہ عمل سے ثابت ہوتی ہے۔
