دو دوست تھے ۔ ایک کا نام تھا “کچھ بھی نہیں” اور دوسرے کا نام تھا “خودبخود” ۔
کچھ بھی نہیں کائنات بننے سے پہلے سے موجود تھا ۔ مگرخودبخود کی پیدائش بگ بینگ کے وقت ہوئی جب وقت نے جگہ کو زور سے ٹکر ماری ۔ ایک
زوردار دھماکہ ہوا اور خودبخود پیدا ہوا ۔
خودبخود پیدا ہونے کے بعد کچھ بھی نہیں سے جھگڑنے لگا ۔ اس کا دعویٰ یہ تھا کہ وہ کچھ بھی نہیں سے بڑا ہے ۔ جبکہ کچھ بھی نہیں کا کہنا
تھا کہ وہ خودبخود سے بڑا ہے ۔
یہ دونوں اپنا مقدمہ لے کر ایک بندر کی عدالت میں پیش ہوئے ۔ بندر نے کچھ دیر سر کھجاتے ہوئے سوچا اور پھر بولا ۔
“میں تم دونوں سے کچھ سوالات پوچھوں گا ۔ تم دونوں نے ان کے سچ سچ جوابات دینے ہیں ۔”
“کچھ بھی نہیں” اور “خودبخود” نے یک زبان ہو کر جواب دیا ۔
“جو کچھ بھی کہیں گے سچ کہیں گے اور سچ کے سوا کچھ بھی نہیں کہیں گے ۔
بندر نے خودبخود سے پہلا سوال پوچھا ۔ “جب بگ بینگ ہوا ۔ اس سے پہلے کائنات میں کیا تھا ؟”
“کچھ بھی نہیں ۔” خودبخود نے جواب دیا ۔
“اس کا مطلب کائنات کے پیدا ہونے سے پہلے کچھ بھی نہیں تھا ؟” بندر نے حیران ہو کر پوچھا ۔
“جی بالکل کچھ بھی نہیں تھا مگر اس سے یہ پوچھا جائے کہ یہ کیسے موجود تھا ؟” خودبخود نے اعتراض کیا ۔
بندر نے پھر کچھ بھی نہیں سے پوچھا ۔
“ہاں بھئی ! تم بتاؤ ۔ تم کائنات کی پیدائش سے پہلے کیسے موجود تھے ؟”
کچھ بھی نہیں بولا ۔ “خودبخود ۔”
بندر بولا ۔ “اس کا مطلب خودبخود کچھ بھی نہیں سے پہلے موجود تھا ؟”
“نہیں ۔ لیکن میرا اعتراض یہ ہے کہ جب خودبخود بھی نہیں تھا اس وقت کیا تھا ؟”
بندر نے خودبخود سے پوچھا ۔ “ہاں بھئی خودبخود ۔ تم بتاؤ ۔ جب خودبخود نہیں تھا ۔ اس وقت کیا تھا ؟”
خودبخود بولا ۔ “کچھ بھی نہیں ۔”
بندر سر کھجانے لگا ۔ “تو پھر یہ بڑا ہوا نا ؟”
“وہ کیسے ؟ اس سے پوچھیں تو سہی یہ کیسے اس وقت موجود تھا ۔” خودبخود نے اعتراض کیا ۔
بندر اس بار کچھ بھی نہیں سے مخاطب ہوا ۔ “تم بتاؤ تم خودبخود سے پہلے کیسے موجود تھے ؟”
کچھ بھی نہیں بولا ۔ “خودبخود ۔”
بندر نے اس بار سر پکڑ لیا ۔
“مجھے پہلے کہانی سمجھنے دو ۔ جب کائنات نہیں تھی اس وقت کیا تھا ؟”
“کچھ بھی نہیں ۔” دونوں بیک زباں بولے ۔
“مگر کیسے ؟” بندر نے پوچھا ۔
“خودبخود ۔” دونوں نے پھر جواب دیا ۔
“یعنی خودبخود پہلے تھا ؟” بندر نے پوچھا ۔
“مگر خودبخود سے پہلے کچھ بھی نہیں تھا ۔” کچھ بھی نہیں نے اعتراض کیا ۔
“اور کچھ بھی نہیں کیسے موجود تھا ؟” بندر نے پوچھا ۔
“خودبخود ۔” دونوں بولے ۔
بندر نے ایک درخت کے ساتھ ٹکریں مارنی شروع کر دیں اور بولا ۔
“دیکھو بھائیو ! مجھے لگتا ہے کہ تم دونوں جڑواں بھائی ہو ۔ نہ تم میں کوئی چھوٹا ہے نہ بڑا ۔ لہٰذا مجھے معاف کرو اور ہنسی خوشی رہو ۔”
“مگر ہم جڑواں نہیں ہیں ۔ یہ غلط فیصلہ ہے ۔” دونوں نے احتجاج کیا مگر ان کے احتجاج کو سننے کے لیئے اب بندر موجود نہیں تھا ۔ وہ درختوں کی شاخیں پھلانگتا ہوا کہیں کا کہیں نکل چکا تھا ۔
اگلے دن جنگل کے جانوروں میں چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں ۔ کچھ جانوروں کا خیال تھا کہ بندر ملحد ہو چکا ہے ۔ ہر وقت “خودبخود” اور “کچھ بھی نہیں” کرتا رہتا ہے ۔
لومڑی چالاک تھی ۔ اس نے بندر کو آزمانے کا سوچا ۔ وہ بندر سے ملنے گئی ۔ بندر اس وقت سر جھکائے ایک گہری سوچ میں گم تھا ۔
“تمہیں کیا ہوا ہے ؟” لومڑی نے پوچھا ۔
“کچھ بھی نہیں ۔” بندر نے جواب دیا ۔
“تو پھر تمہارا منہ کیسے لٹک گیا ؟” لومڑی نے پوچھا ۔
“خودبخود ۔” بندر بولا ۔
“مگر تم ہر وقت سوچتے کیا رہتے ہو ؟” لومڑی بولی ۔
“کچھ بھی نہیں ۔” بندر بولا ۔
“تو پھر تم اس سکتے کی کیفیت سے باہر کیسے آؤ گے ؟” لومڑی نے پوچھا ۔
“خودبخود ۔” بندر بولا ۔
“ہمارا مذہب کیا ہے ؟” لومڑی نے پوچھا ۔
“کچھ بھی نہیں ۔” بندر بولا ۔
“تو ہم سب پیدا کیسے ہوئے ؟” لومڑی نے اعتراض کیا ۔
“خودبخود ۔” بندر نے جواب دیا ۔
“میں نے سنا ہے تم اب انسان بننے کے سپنے دیکھنے لگے ہو ۔ اس کے لیئے تم نے کیا سوچا ہے ؟” لومڑی نے پوچھا ۔
“کچھ بھی نہیں ۔” بندر بولا ۔
“تو پھر انسان کیسے بنو گے ؟” لومڑی نے پوچھا ۔
“خودبخود ۔” بندر بولا ۔
لومڑی اس بار واقعی سٹپٹا گئی ۔
“تمہارے باپ کا نام کیا تھا ؟”
“کچھ بھی نہیں ۔”
“تو پھر تم پیدا کیسے ہوئے ؟”
“خودبخود ۔”
“کچھ بھی نہیں ۔”
“خودبخود ۔”
“کچھ بھی نہیں ۔”
“خودبخود ۔”
“کچھ بھی نہیں ۔”
“خودبخود ۔”
“کچھ بھی نہیں ۔”
“خودبخود ۔”
“کچھ بھی نہیں ۔”
بندر کے لبوں پر بس یہی الفاظ رہتے ۔ انہی الفاظ کی مالا جپتے جپتے ایک دن اچانک خودبخود اس کے جسم کی کھال اور دم غائب ہونے لگی اور وہ اٹھ کر دو ٹانگوں پر کھڑا ہو گیا ۔
وہ ایک انسان میں تبدیل ہو چکا تھا ۔ مگر جس منتر سے اس کا ارتقاء ہوا وہ منتر وہ آج تک نہیں بھولا ۔ آپ آج بھی اس سے پوچھ کر دیکھ لیں کہ کائنات سے پہلے کیا تھا ؟
تو جواب دے گا کچھ بھی نہیں ۔
مگر کیسے ؟
خودبخود ۔
