بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

مصر کے ایک چھوٹے سے شہر میں ایک غریب لوہار رہتا تھا۔ اس کا نام یوسف تھا۔ وہ دن بھر بھٹی کے سامنے پسینہ بہاتا، لوہا پیٹتا اور بمشکل اپنے گھر کا خرچ چلاتا۔ مگر وقت بدل گیا۔ شہر میں کام کم ہونے لگا، لوگ نئے ہنر سیکھنے لگے، اور یوسف کا کام تقریباً ختم ہو گیا۔ کئی کئی دن ایسے گزرتے کہ اس کے گھر میں چولہا بھی نہ جلتا۔
ایک دن وہ انتہائی پریشان ہو کر بیٹھا تھا کہ اس کے ذہن میں ایک عجیب خیال آیا۔ اس نے سوچا، “لوگ بیماریوں سے بہت پریشان رہتے ہیں، کیوں نہ میں حکمت سیکھ کر دواخانہ کھول لوں؟” حالانکہ اسے حکمت کا کوئی تجربہ نہ تھا، مگر حالات نے اسے مجبور کر دیا تھا۔
اگلے ہی دن اس نے ایک چھوٹا سا کمرہ کرائے پر لیا اور اس پر لکھ دیا:
“حکیم یوسف — ہر بیماری کا علاج”
شروع میں لوگ ہچکچاتے رہے، مگر ایک غریب آدمی جو کئی دنوں سے بیمار تھا، مجبور ہو کر اس کے پاس آیا۔ یوسف نے کچھ جڑی بوٹیاں دیں اور ساتھ کہا:
“یہ دوا وقت پر لینا اور اللہ پر یقین رکھنا۔”
حیرت انگیز طور پر وہ شخص چند دنوں میں ٹھیک ہو گیا۔ اس نے پورے شہر میں یوسف کی تعریفیں شروع کر دیں۔ آہستہ آہستہ مریضوں کی تعداد بڑھنے لگی۔ ہر آنے والا صحت یاب ہو کر جاتا۔
شہر میں ایک پرانا حکیم بھی تھا، جو کئی سالوں سے علاج کر رہا تھا۔ لوگ پہلے اس کے پاس جاتے تھے، مگر اب اس کے دواخانے پر ویرانی چھا گئی۔ وہ اندر ہی اندر جلنے لگا۔ اسے یقین تھا کہ ایک لوہار کبھی حکیم نہیں بن سکتا۔
چند ہی دنوں میں بات قبیلے کے سردار تک پہنچی۔ سردار ایک سخت بیماری میں مبتلا ہو گیا۔ اسے پہلے پرانے حکیم کے پاس لے جایا گیا۔ حکیم نے مہنگی دوائیں دیں، مگر کئی دن گزر گئے، کوئی افاقہ نہ ہوا۔
آخر کار کسی نے مشورہ دیا کہ سردار کو یوسف کے پاس لے جایا جائے۔ پہلے تو سب نے انکار کیا، مگر جب حالت مزید بگڑنے لگی تو مجبوری میں اسے لوہار حکیم کے پاس لے گئے۔
یوسف نے سردار کو دیکھا، اس کی نبض چیک کی، اور خاموشی سے کچھ دیر سوچتا رہا۔ پھر اس نے ایک سادہ سی دوا دی اور کہا:
“اسے وقت پر دیں، اور اسے سکون دیں، ان شاء اللہ شفا ہو جائے گی۔”
سب حیران تھے، مگر چند ہی دنوں میں سردار بالکل ٹھیک ہو گیا۔ اب تو پورے شہر میں یوسف کا چرچا ہو گیا۔ لوگ اسے “معجزاتی حکیم” کہنے لگے۔
یہ سب دیکھ کر پرانا حکیم حسد کی آگ میں جلنے لگا۔ آخر اس نے فیصلہ کیا کہ وہ سلطان کے پاس شکایت کرے گا۔
وہ دربار میں حاضر ہوا اور عرض کیا:
“یا سلطان! ایک جاہل لوہار لوگوں کی جانوں سے کھیل رہا ہے۔ وہ حکمت کا دعویٰ کرتا ہے جبکہ اسے کچھ نہیں آتا۔ اگر اسے نہ روکا گیا تو نقصان ہو سکتا ہے۔”
سلطان صلاح الدین ایوبی ایک دانا اور انصاف پسند حکمران تھے۔ انہوں نے فوراً کوئی فیصلہ نہ کیا بلکہ خود حقیقت جاننے کا ارادہ کیا۔
اگلے دن سلطان نے عام آدمی کا بھیس بدلا اور یوسف کے دواخانے پہنچ گئے۔ انہوں نے خود کو بیمار ظاہر کیا۔
یوسف نے انہیں غور سے دیکھا، نبض پکڑی، اور کچھ لمحے خاموش رہا۔ پھر وہ بھٹی کی طرف گیا، ایک لوہے کی سلاخ کو آگ میں گرم کیا، یہاں تک کہ وہ سرخ ہو گئی۔
پھر وہ سلطان کے پاس آیا اور اچانک اس گرم سلاخ کو ان کی کلائی کے قریب لے جا کر ہلکا سا چھوا دیا۔ سلطان چونک اٹھے، مگر ضبط سے کام لیا۔
یوسف نے مسکرا کر کہا:
“آپ بیمار نہیں ہیں، بلکہ آپ کی بیماری وہم ہے۔ آپ کو کسی دوا کی ضرورت نہیں، صرف یقین اور ہمت کی ضرورت ہے۔”
سلطان حیران رہ گئے۔ انہوں نے اپنا بھیس اتار دیا اور فرمایا:
“کیا تم جانتے ہو میں کون ہوں؟”
یوسف گھبرا گیا، مگر سچ بولتے ہوئے کہا:
“نہیں، مگر میں نے جو سمجھا، وہی کیا۔”
سلطان نے فرمایا:
“میں صلاح الدین ایوبی ہوں۔ اور میں تمہاری عقل اور بصیرت سے بہت متاثر ہوا ہوں۔”
پھر سلطان نے دربار میں سب کو جمع کیا، بشمول پرانے حکیم کے۔ انہوں نے اعلان کیا:
“یہ شخص اگرچہ باقاعدہ حکیم نہیں، مگر اس نے لوگوں کے دل جیتے ہیں، ان کا حوصلہ بڑھایا ہے، اور یہی اصل علاج ہے۔ جبکہ تم،” انہوں نے پرانے حکیم کی طرف اشارہ کیا، “علم ہونے کے باوجود حسد میں مبتلا ہو گئے ہو۔”
پرانا حکیم شرمندہ ہو گیا اور اس نے معافی مانگ لی۔
سلطان نے یوسف سے کہا:
“ہم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم باقاعدہ حکمت سیکھو تاکہ تمہارا علم مکمل ہو جائے، اور تم لوگوں کی بہتر خدمت کر سکو۔”
یوسف نے عاجزی سے سر جھکا کر کہا:
“یا سلطان، میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں علم حاصل کروں گا اور لوگوں کی خدمت جاری رکھوں گا۔”
اس دن کے بعد یوسف نے سچی لگن سے حکمت سیکھی اور ایک بہترین حکیم بن گیا۔ اس کی شہرت دور دور تک پھیل گئی، مگر اس نے کبھی غرور نہ کیا۔
سبق:
کبھی کبھی کامیابی صرف علم سے نہیں بلکہ نیت، ہمدردی اور یقین سے بھی حاصل ہوتی ہے۔ اور حسد انسان کو اندھا کر دیتا ہے، جبکہ سچائی اور اخلاص ہمیشہ کامیاب ہوتے ہیں۔

Leave a Reply

NZ's Corner