بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

ایک شہر کی تنگ و تاریک گلیوں میں ایک اندھا آدمی رہتا تھا۔ وہ سادہ دل اور نرم مزاج تھا۔ لوگ اسے جانتے تھے اور اس کی مدد بھی کرتے تھے، مگر وہ اپنی زندگی خود گزارنے کا عادی تھا۔

ایک رات وہ کسی کام سے باہر نکلا۔ جاتے وقت اس کے ایک دوست نے اسے ایک جلتا ہوا چراغ دے دیا۔

اندھے آدمی نے حیران ہو کر پوچھا:
“میں تو دیکھ نہیں سکتا، یہ چراغ میرے کس کام کا؟”

دوست نے مسکرا کر کہا:
“یہ چراغ تمہارے لیے نہیں، بلکہ دوسروں کے لیے ہے… تاکہ وہ تمہیں دیکھ سکیں اور تم سے ٹکرائیں نہیں۔”

اندھا آدمی چراغ لے کر چل پڑا۔

وہ آہستہ آہستہ گلیوں میں چل رہا تھا۔ چراغ کی روشنی اس کے اردگرد پھیل رہی تھی۔ لوگ دور سے اسے دیکھ لیتے اور راستہ بدل لیتے۔

کچھ دیر بعد اچانک ایک آدمی اس سے آ کر ٹکرا گیا۔

اندھا آدمی حیران ہوا اور بولا:
“تمہیں نظر نہیں آیا؟ میرے ہاتھ میں چراغ ہے!”

دوسرا آدمی ہنس کر بولا:
“چراغ تو ہے… مگر اس کی روشنی بجھ چکی ہے۔”

اندھا آدمی چند لمحوں کے لیے خاموش ہو گیا۔

اس نے چراغ کو ہاتھ میں تھاما اور سوچنے لگا:

“میں یہ سمجھ رہا تھا کہ میں دوسروں کو روشنی دے رہا ہوں، مگر میں خود یہ بھی نہ جان سکا کہ روشنی باقی ہے یا نہیں۔”

وہ آہستہ سے مسکرایا، اور دل ہی دل میں بولا:

“انسان کو صرف دوسروں کو راستہ دکھانے کا دعویٰ نہیں کرنا چاہیے، بلکہ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اس کے اپنے اندر روشنی باقی ہے یا نہیں۔”

اخلاقی سبق

1. دوسروں کو نصیحت دینے سے پہلے خود کو دیکھنا ضروری ہے۔

2. ظاہری روشنی سے زیادہ اہم اندر کی روشنی ہے۔

3. انسان اکثر خود کو درست سمجھتا ہے، مگر حقیقت جانچنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner