بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

کعب بن اشرف یہودیوں میں یہ وہ شخص تھا جسے اسلام اور اہل اسلام سے نہایت سخت عداوت اور جلن تھی۔
یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیتیں پہنچایا کرتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جنگ کی کھلم کھلا دعوت دیتا پھرتا تھا۔
اس کا تعلق قبیلہ کی شاخ بنو نبھان سے تھا اور اس کی ماں قبیلہ بنی نضیر سے تھی یہ بڑا مالدار اور سرمایہ دار تھا عرب میں اس کے حسن و جمال کا شہرہ تھا اور یہ ایک معروف شاعر بھی تھا اس کا قلعہ مدینے کے جنوب میں بنونضیر کی آبادی کے پیچے واقع تھا۔
اسے جنگ بدر میں مسلمانوں کی فتح اور سرداران قریش کے قتل کی پہلی خبر ملی تو بے ساختہ بول اٹھا:
“کیا واقعتہ”ایسا ہوا ہے؟
یہ عرب کے اشراف اور لوگوں کے بادشاہ تھے اگر محمد(صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مار لیا ہے تو زمین کا پیٹ اس کی پشت سے بہتر ہے۔”یعنی قبر ۔۔
اور جب اسے یقینی طور پر اس خبر کا علم ہو گیا تو اللہ کا یہ دشمن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی ہجو اور دشمنان اسلام کی مدح سرائی پر اتر آیا اور انہیں مسلمانوں کے خلاف بھڑکانے لگا اس سے بھی اس کے جذبات آسودہ نہ ہوئے تو سوار ہو کر قریش کے پاس پہنچا اور مطلب بن ابی وداعہ سہمی کا مہمان ہوا پھر مشرکین کی غیرت بھڑکانے ان کی آتش انتقام تیز کرنے اور انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف آمادۂ جنگ کرنے کے لیے اشعار کہہ کہہ کر ان سرداران قریش کا نوحہ وماتم شروع کردیا جنہیں میدان بدر میں قتل کئے جانے کے بعد کنویں میں پھینک دیاگیا تھا۔
مکے میں اس کی موجودگی کے دوران ابوسفیانؓ اور مشرکین نے اس سے دریافت کیا کہ ہمارا دین تمہارے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے یا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)اور اس کے ساتھیوں کا؟
اور دونوں میں سے کون سا فریق زیادہ ہدایت یافتہ ہے؟ کعب بن اشرف نے کہا: “تم لوگ ان سے زیادہ ہدایت یافتہ اور افضل ہو”۔ اسی سلسلے میں اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی۔
(أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِنَ الْكِتَابِ يُؤْمِنُونَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ وَيَقُولُونَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا هَؤُلَاءِ أَهْدَى مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا سَبِيلًا (سورة النساء4: 51))
“تم نے انہیں نہیں دیکھا جنہیں کتاب کا ایک حصہ دیا گیا ہے کہ وہ جبت اور طاغوت پر ایمان رکھتے ہیں اور کافروں کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ لوگ مومنوں سے بڑھ کر ہدایت یافتہ ہیں۔”
کعب بن اشرف یہ سب کچھ کر کے مدینہ واپس آیا تو یہاں آ کر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عورتوں کے بارے میں واہیات اشعار کہنے شروع کئے اور اپنی زبان درازی و بدگوئی کے ذریعے سخت اذیت پہنچائی۔
یہی حالات تھے جن سے تنگ آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“کون ہے جو کعب بن اشرف سے نمٹے؟
کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو اذیت دی ہے۔”
اس کے جواب میں محمد بن مسلمہ، عبادبن بشر، ابونائلہ رضی اللہ عنہم جن کا نام سلسکان بن سلامہ تھا اور جو کعب کے رضاعی بھائی تھے حارث بن اوس اور ابوعبس بن جبر رضی اللہ عنہم نے اپنی خدمات پیش کیں۔
اس مختصر سی کمپنی کے کمانڈر محمد بن مسلمؓہ تھے۔
کعب بن اشرف کے قتل کے بارے میں روایات کا حصل یہ ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ کعب بن اشرف سے کون نمٹے گا؟ کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت دی ہے
تو محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے اٹھ کر عرض کیا:
“یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوں کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اسے قتل کردوں؟” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! انہوں نے عرض کیا : “تو آپ مجھے کچھ کہنے کی اجازت عطا فرمائیں ۔”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، کہہ سکتے ہو۔
اس کے بعد محمد بن مسلمہؓ کعب بن اشرف کے پاس تشریف لے گئے اور بولے :
“اس شخص نے اشارہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف تھا ہم سے صدقہ طلب کیا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اس نے ہمیں مشقت میں ڈال رکھا ہے۔”
کعب نے کہا : “واللہ، ابھی تم لوگ اور بھی اکتا جاؤ گے۔”
محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا : “اب جبکہ ہم اس کے پیروکار بن ہی چکے ہیں تو مناسب نہیں معلوم ہوتا کہ اس کا ساتھ چھوڑ دیں جب تک یہ نہ دیکھ لیں کہ اس کا انجام کیا ہوتا ہے! اچھا ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہمیں ایک وسق یا دو وسق غلہ دے دیں۔”
کعب نے کہا: “میرے پاس کچھ رہن رکھو۔”
محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: “آپ کون سی چیز پسند کریں گے؟”
کعب نے کہا: “اپنی عورتوں کو میرے پاس رہن رکھ دو۔”
محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: “بھلا ہم اپنی عورتیں آپ کے پاس کیسے رہن رکھ دیں جبکہ آپ عرب کے سب سے خوبصورت انسان ہیں۔”
اس نے کہا: “تو پھر اپنے بیٹوں ہی کو رہن رکھ دو۔”
محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: “ہم اپنے بیٹوں کو کیسے رہن رکھ دیں؟اگر ایسا ہوگیا تو انہیں گالی دی جائے گی کہ یہ ایک وسق یا دو وسق کے بدلے رہن رکھا گیا تھا۔ یہ ہمارے لیے عار کی بات ہے البتہ ہم آپ کے پاس ہتھیار رہن رکھ سکتے ہیں۔”
اس کے بعد دونوں میں طے ہوگیا کہ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ (ہتھیار لے کر)اس کے پاس آئیں گے۔
ادھر ابونائلہ رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح کا اقدام کیا، یعنی کعب بن اشرف کے پاس آئے ۔ کچھ دیر ادھر ادھر کے اشعار سنتے سناتے رہے پھر بولے: “بھئی ابن اشرف! میں ایک ضرورت سے آیا ہوں اسے ذکر کرنا چاہتا ہوں لیکن اسے آپ ذرا صیغۂ راز ہی میں رکھیں گے۔”
کعب نے کہا: “ٹھیک ہے میں ایسا ہی کروں گا۔”
ابونائلہ رضی اللہ عنہ نے کہا: “بھئی اس شخص اشارہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف تھا کی آمد تو ہمارے لیے آزمائش بن گئی ہے۔ سارا عرب ہمارا دشمن ہوگیا ہے سب نے ہمارے خلاف اتحاد کرلیا ہے ہماری راہیں بند ہوگئی ہیں اہل وعیال برباد ہورہے ہیں جانوں پر بن آئی ہے ہم اور ہمارے بال بچے مشقتوں سے چور چور ہیں۔
” اس کے بعد انہوں نے بھی کچھ اسی ڈھنگ کی گفتگو کی جیسی محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کی تھی۔ دوران گفتگو ابو نائلہ رضی اللہ عنہ نے یہ بھی کہا کہ میرے کچھ رفقاء ہیں جن کے خیالات بھی بالکل میر ہی جیسے ہیں۔ میں انہیں بھی آپ کے پاس لانا چاہتا ہوں آپ ان کے ہاتھ بھی کچھ بیچیں اور ان پر احسان کریں۔
محمد بن مسلمہ اور ابونائلہ رضی اللہ عنہم اپنی اپنی گفتگو کے ذریعے اپنے مقصد میں کامیاب رہے کیونکہ اس گفتگو کے بعد ہتھیار اور رفقاء سمیت ان دونوں کی آمد پر کعب بن اشرف چونک نہیں سکتا تھا اس ابتدائی مرحلے کو مکمل کر لینے کے بعد 14ربیع الاول سنہ 3ھ ہجری کی چاندنی رات کو یہ مختصر سا دستہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہوا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بقیع غرقد تک ان کی مشایعت فرمائی پھرفرمایا۔
اللہ کا نام لے کرجاؤ اللہ تمہاری مدد فرمائے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر پلٹ آئے اور نماز و مناجات میں مشغول ہوگئے۔
ادھر یہ دستہ کعب بن اشرف کے قلعے کے دامن میں پہنچا تو اسے ابونائلہؓ نے قدرے زور سے آواز دی۔ آواز سن کر وہ ان کے پاس آنے کے لیے اٹھا تو اس کی بیوی نے جو ابھی نئی نویلی دلہن تھی نےکہا:
“اس وقت کہاں جارہے ہیں؟ میں ایسی آواز سن رہی ہوں جس سے گویا خون ٹپک رہا ہے۔”
کعب نے کہا: “یہ تو میرا بھائی محمد بن مسلمہ اور میرا دودھ کا ساتھی ابونائلہ (رضی اللہ عنہم) ہے۔ کریم آدمی کو اگر نیزے کی مار کی طرف بلایا جائے تو اس پکار پر بھی وہ جاتا ہے اس کے بعد وہ باہر آ گیا خوشبو میں بسا ہوا تھا اور سر سے خوشبو کی لہریں پھوٹ رہی تھیں۔
ابونائلہ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے کہہ رکھا تھا کہ جب وہ آ جائے گا تو میں اس کے بال پکڑ کر سونگھوں گا۔ جب تم دیکھنا کہ میں نے اس کا سر پکڑ کر اسے قابو میں کر لیا ہے تو اس پر پل پڑنا…اور اسے مارڈالنا۔
چنانچہ جب کعب آیا تو کچھ دیر باتیں ہوتی رہیں پھر ابونائلہ رضی اللہ عنہ نے کہا :
“ابن اشرف ! کیوں نہ شعب عجوز تک چلیں ذرا آج رات باتیں کی جائیں۔”
اس نے کہا، اگر تم چاہتے ہو تو چلتے ہیں؟ اس پر سب لوگ چل پڑے۔
اثناء راہ میں ابونائلہ رضی اللہ عنہ نے کہا آج جیسی عمدہ خوشبو تو میں نے کبھی دیکھی ہی نہیں یہ سن کر کعب کا سینہ فخر سے تن گیا کہنے لگا میرے پاس عرب کی سب سے زیادہ خوشبو والی عورت ہے۔
ابونائلہ رضی اللہ عنہ نے کہا، اجازت ہوتو ذرا آپ کا سر سونگھ لوں؟
وہ بولاہاں ہاں۔
ابو نائلہ رضی اللہ عنہ نے اس کے سر میں اپنا ہاتھ ڈالا پھر خود بھی سونگھا اور ساتھیوں کو بھی سونگھایا۔
کچھ اور چلے تو ابونائلہ رضی اللہ عنہ نے کہا بھئی ایک بار اور
کعب نے کہا ہاں ہاں ابونائلہ نے پھر ویسے ہی کیا کے یہاں تک کہ وہ مطمئن ہوگیا۔
اس کے بعد کچھ اور چلے تو ابونائلہؓ نے پھر کہا کہ بھئی ایک بار اور۔
اس نے کہا ٹھیک ہے
اب کی بار ابونائلہ رضی اللہ عنہ نے اس کے سر میں ہاتھ ڈال کر ذرا اچھی طرح پکڑ لیا تو بولے:
“لے لو اللہ کے اس دشمن کو”
اتنے میں اس پر کئی تلواریں پڑیں لیکن کچھ کام نہ دے سکیں یہ دیکھ کر محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے جھٹ اپنی کدال لی اور اس کے پیٹرو پر لگا کر چڑھ بیٹھے کدال آر پار ہو گئی اور اللہ کا یہ دشمن وہیں ڈھیر ہوگیا۔
حملے کے دوران اس نے اتنی زبردست چیخ لگائی تھی کہ گردو پیش میں ہلچل مچ گئی تھی اور کوئی ایسا قلعہ باقی نہ بچا تھا جس پر آگ روشن نہ گی گئی ہو (لیکن ہوا کچھ بھی نہیں)
کاروائی کے دوران حضرت حارث بن اوس رضی اللہ عنہ کو بعض ساتھیوں کی تلوار کی نوک لگ گئی تھی جس سے وہ زخمی ہوگئے تھے اور ان کے جسم سے خون بہ رہا تھا چنانچہ واپسی میں جب یہ دستہ حرۂ عریض پہنچا تو دیکھا کہ حارث رضی اللہ عنہ ساتھ نہیں ہیں اس لیے سب لوگ وہیں رک گئے۔
ٹھوڑی دیر بعد حارث رضی اللہ عنہ بھی ان کے نشانات قدم دیکھتے ہوئے آن پہنچے۔ وہاں سے لوگوں نے انہیں اٹھالیا۔ اور بقیع غرقد پہنچ کر اس زور کا نعرہ لگایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی سنائی پڑا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ گئے کہ ان لوگوں نے اسے مارلیا ہے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اللہ اکبر کہا پھر جب یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
“افلحت الوجوه” یہ چہرے کامیاب رہیں۔
ان لوگوں نے کہا
“ووجهك يا رسول الله صلى الله عليه وسلم”۔ آپ صلی اللہ کا چہرہ بھی اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم!
اور اس کے ساتھ ہی اس طاغوت کا سر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قتل پر اللہ کی حمد و ثناء کی اور حارث کے زخم پر لعاب دہن لگادیا جس سے وہ شفایاب ہوگئے اور آئندہ کبھی تکلیف نہ ہوئی۔
(اس واقع کی تفصیل ابن ہشام 2/ 51-57 صحیح بخاری 1/ 341-425 ، 2/ 577- سنن ابی داؤد مع عون المعبود 2/ 42، 43 – اور زاد المعاد 2/ 91 سے ماخوذ ہے۔)

ادھر یہود کو جب اپنے طاغوت کعب بن اشرف کے قتل کا علم ہوا تو ان کے ہٹ دھرم اور ضدی دلوں میں رعب کی لہردوڑ گئی ان کی سمجھ میں آ گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب یہ محسوس کرلیں گے کہ امن و امان کے ساتھ کھیلنے والوں ہنگامے اور اضطرابات بپا کرنے والوں اور عہدو پیمان کا احترام نہ کرنے والوں پر نصیحت کارگر نہیں ہورہی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم طاقت کے استعمال سے بھی گریز نہ کریں گے اس لیے انہوں نے اپنے اس طاغوت کے قتل پر چوں نہ کیا بلکہ ایک دم دم سادھے پڑے رہے ایفائے عہد کا مظاہرہ کیا اور ہمت ہار بیٹھے یعنی سانپ تیزی کے ساتھ اپنی بلوں میں جا گھسے۔
اس طرح ایک مدت تک کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیرون مدینہ سے پیش آنے والے متوقع خطرات کا سامنا کرنے کے لیے فارغ ہو گئے اور مسلمان ان بہت سی اندرونی مشکلات کے بارگراں سے سبکدوش ہوگئے جن کا اندیشہ انہیں محسوس ہو رہا تھا اور جن کی بو وقتا فوقتا وہ سونگھتے رہتے تھے۔

واللہ اعلم بالصواب

Leave a Reply

NZ's Corner