ایک مرتبہ ایک شخص کے گھر چوری ہو گئی۔ چور اُسی محلے کے تھے۔ انہوں نے اسے پکڑ کر زبردستی یہ حلف لے لیا کہ اگر اُس نے کسی کو اُن کا نام بتایا تو اُس کی بیوی کو طلاق ہو جائے گی۔
مجبور انسان نے جان بچانے کے لیے یہ قسم کھا لی۔ چور سارا سامان لے گئے اور وہ بے چارہ سخت پریشانی میں مبتلا ہو گیا۔ اب عجیب کشمکش تھی:
اگر چوروں کا نام بتاتا ہے تو مال واپس مل سکتا ہے مگر بیوی ہاتھ سے جا سکتی ہے،
اور اگر خاموش رہتا ہے تو بیوی تو محفوظ رہے گی مگر گھر لُٹ جائے گا۔
اسی پریشانی میں وہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی مجلس میں حاضر ہوا۔ امام صاحب نے اس کے چہرے پر غم کے آثار دیکھے اور فرمایا: “آج تم بہت اداس ہو، کیا معاملہ ہے؟”
وہ بولا: “حضرت! میں کھل کر کچھ کہہ بھی نہیں سکتا۔”
امام صاحب نے فرمایا: “اشارے میں ہی سہی، کچھ تو بتاؤ۔”
چنانچہ اس نے مختصراً سارا واقعہ بیان کر دیا کہ چوروں کا پتہ معلوم ہے، مگر نام لیا تو طلاق واقع ہو جائے گی۔
امام صاحبؒ نے اطمینان سے فرمایا:
“فکر نہ کرو، نہ تمہاری بیوی جائے گی اور نہ تمہارا مال۔”
یہ سن کر شہر میں چرچا ہو گیا کہ یہ کیسے ممکن ہے؟ وعدہ بھی قائم رہے اور طلاق بھی نہ ہو؟ علماء بھی حیران تھے۔
اگلے دن امام صاحبؒ اُس محلے کی مسجد میں تشریف لے گئے۔ نمازِ ظہر ادا کی اور پھر اعلان فرمایا کہ مسجد کے دروازے بند کر دیے جائیں، کوئی باہر نہ جائے۔ ایک دروازہ کھولا گیا۔
امام صاحب ایک طرف بیٹھ گئے اور متاثرہ شخص کو دوسری طرف بٹھا دیا۔ فرمایا:
“لوگ ایک ایک کر کے باہر جائیں۔ جو چور نہ ہو، اس کے بارے میں کہتے جانا: یہ چور نہیں ہے۔ اور جب چور آئے تو خاموش رہنا۔”
چنانچہ لوگ نکلتے گئے۔ جن کے بارے میں وہ کہتا جاتا: “یہ چور نہیں”، وہ نکل جاتے۔
اور جب اصل چور سامنے آتے تو وہ خاموش ہو جاتا۔
یوں اس نے کسی کا نام بھی نہ لیا، مگر چور پہچان لیے گئے۔
چور پکڑے گئے، سامان واپس ملا، اور اُس کی بیوی بھی محفوظ رہی۔
یہ تھی فقہ، بصیرت اور حکمت کی ایک روشن مثال —
الفاظ کے اندر رہتے ہوئے مسئلے کا حل نکال لینا ہی اصل دانائی ہے۔
(مجالس حکیم الاسلام، ص: 31)
اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو مجھے فالو ضرور کریں۔
