مغل بادشاہ ظہیر الدین محمد بابر اپنی کتاب تزک بابری میں لکھتے ہیں کہ دریائے سوات کے قریب ہم نے یوسفزئی اور محمد زئی قبائل پر حملہ کیا.اس جگہ تیس چالیس سال پہلے شہباز نامی ملحد نے یہاں کے بہت سے لوگوں کو الحاد کے دام میں پھنسا دیا تھا اس ملحد کی قبر اسی جگہ پہاڑ کی چوٹی پر تھی.میں نے حکم دیا کہ اس ملحد کی قبر کو ڈھا دیا جائے یہاں سے دریائے سندھ کے قریب بھیرہ نامی جگہ پر حملہ کیا گیا.دریائے نیلاب کے دوسری طرف آباد لوگوں نے حاضری دی اور گھوڑے اور تین سو شاہ رخیاں نزر کیں.
یہاں سے کچھ کوٹ نامی جگہ پہنچے دریائے کچھ کوٹ کو عبور کیا اور سنکدا پہنچ گئے.یہ راستہ بہت کٹھن تھا اور ہم کوہ جودا نامی پہاڑ پر پہنچے یہاں دو قومیں بستی ہیں جودہ اور جنجوعہ.
جنجوعہ قوم یہاں کی حکمران ہے.یہاں کا ہر خاندان ہر سال حکمران خاندان کو ایک شاہ رخی پیش کرتا ہے.بڑے سردار کو رائے اور چھوٹے بھائیوں کو ملک کہا جاتا ہے.قوم جنجوعہ کا حاکم ان دنوں ہست نامی ایک شخص ہے اور اس نے میری اطاعت قبول کر لی.اس کی وجہ یہ ہے کہ بھیرہ، خوشاب، چناب اور چنیوٹ پرمشتمل علاقہ کئ سالوں سے امیر تیمور کا مفتوحہ علاقہ ہے.
اس کے بعد کلاہ کلار نامی جگہ پہنچے یہاں ایک تین میل لمبا تالاب ہے یہ ماحول مجھے بہت پسند آیا اور میں نے یہاں ایک باغ لگوایا اور اس کا نام باغ صفا رکھا.یہاں سے ہم آگے بڑھے اور آس پاس کے کئی نمائندے حاضر ہوئے اور نزرانے پیش کئے.اور ان لوگوں کو تسلی دی گئی کہ وہ ہر طرح امن میں ہیں.
کچھ دیر آرام کیا اور پھر بھیرہ نامی جگہ کے قریب پہنچ گئے یہاں دولت خاں، یوسف خیل کا بیٹا علی خاں اور بھیرہ کے ہندوئوں کا دیوہ نامی سردار میرے پاس آئے نزرانے پیش کئے اور عقیدت کا اظہار کیا.یہ علاقہ امیر تیمور کی اولاد کے قبضہ میں کافی دیر رہا ہے.اس وقت یہاں کا حاکم علی خاں ہے جو حاکم لاہور دولت خاں لودھی کا بیٹا ہے.
میں نے بائیس تاریخ جمعرات کو بھیرہ کے بڑوں کو اپنے حضور طلب کیا اور سالانہ چار لاکھ شاہ رخی خراج مقرر کیا اور بھیرہ اور خوشاب کے بلوچوں کو بھی طلب کیا جو نزریں لے کر حاضر خدمت ہوئے.کیوں کہ یہ علاقہ ترکوں کی ملکیت تھا اور تیموری سلطنت کا ایک حصہ رہا یے.
