بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

ایک بادشاہ تھا۔ اس نے سوچا کہ اگر وہ تین سوالوں کے جواب جان لے تو کبھی کامیابی سے محروم نہ ہوگا۔

وہ تین سوال تھے:

1. ہر کام کرنے کا صحیح وقت کیا ہے؟
2. سب سے ضروری لوگ کون ہیں؟
3. سب سے اہم کام کیا ہے؟

اس نے پورے ملک میں اعلان کرا دیا کہ جو ان تین سوالوں کا جواب دے گا، اسے بہت بڑا انعام ملے گا۔

بہت سے عقلمند آئے۔ ان کے جوابات مختلف تھے۔

کسی نے کہا: “ہر کام کا وقت پہلے سے طے کر لو۔ ایک وقت نامہ بنا لو اور اس پر چلو۔”
کسی نے کہا: “صحیح وقت کو پہچاننا ناممکن ہے۔ اس لیے ہر وقت تیار رہو۔”
کسی نے کہا: “اپنے آس پاس کے لوگوں کو دیکھو۔ جو ہو رہا ہے، اس کے مطابق فیصلہ کرو۔”

دوسرے سوال پر کسی نے کہا: “سب سے ضروری لوگ مشیر ہیں۔”
کسی نے کہا: “پادری۔”
کسی نے کہا: “ڈاکٹر۔”
کسی نے کہا: “سپاہی۔”

تیسرے سوال پر کسی نے کہا: “علم حاصل کرنا سب سے اہم کام ہے۔”
کسی نے کہا: “جنگ۔”
کسی نے کہا: “عبادت۔”

کوئی جواب بادشاہ کو پسند نہ آیا۔

بادشاہ نے سوچا کہ جنگل میں ایک مشہور درویش رہتا ہے۔ وہ بہت عقلمند ہے، لیکن کسی سے نہیں ملتا۔ بادشاہ نے سادہ کپڑے پہنے، اپنے سپاہیوں کو پیچھے چھوڑا، اور اکیلے درویش کے پاس چلا گیا۔

درویش اپنی جھونپڑی کے سامنے زمین کھود رہا تھا۔ وہ بوڑھا تھا، کمزور تھا، سانس پھول رہی تھی۔ اس نے بادشاہ کو دیکھا تو سلام کیا اور پھر سے کھودنے لگا۔

بادشاہ نے اپنے تین سوال پوچھے۔ درویش نے جواب نہیں دیا۔ وہ کھودتا رہا۔

بادشاہ نے کہا: “تم تھک گئے ہو۔ میں تمہاری جگہ کھود دوں۔” اس نے بیلچہ لے لیا اور کھودنے لگا۔ کچھ دیر بعد اس نے پھر سوال پوچھے۔ درویش نے پھر جواب نہیں دیا۔ صرف کہا: “پانی لے آؤ، مجھے پیاس لگی ہے۔”

بادشاہ نے پانی لایا۔ پھر واپس آ کر کھودنے لگا۔ شام ہو گئی۔ بادشاہ نے کہا: “میں اپنے سوالوں کا جواب لے کر جاؤں گا۔ بتاؤ، کیا جواب ہے؟”

اتنے میں انہوں نے دیکھا کہ ایک آدمی جنگل سے نکلا۔ اس کا چہرہ زخمی تھا، اس کے پاؤں سے خون بہہ رہا تھا۔ وہ لڑکھڑاتا ہوا آیا اور زمین پر گر گیا۔

بادشاہ نے اس کے زخموں پر پٹی باندھی، اسے پانی پلایا، اپنے کپڑے پھاڑ کر اس کے پاؤں لپیٹے۔ آدمی ہوش میں آیا تو اس نے پانی مانگا، بادشاہ نے پانی دیا۔ رات ہو گئی تو بادشاہ اور درویش اس آدمی کو جھونپڑی میں لے گئے۔

صبح آدمی نے بادشاہ کو پہچان لیا۔ وہ کہنے لگا: “بادشاہ! مجھے معاف کر دو۔ میں تمہارا دشمن ہوں۔ میں تمہیں قتل کرنے آیا تھا۔ لیکن تمہارے سپاہی مجھے پہچان گئے اور زخمی کر دیا۔ میں بھاگ کر یہاں آیا۔ اگر تم نے میری مدد نہ کی ہوتی تو میں مر جاتا۔ اب میں تمہارا خادم ہوں۔”

بادشاہ بہت خوش ہوا۔ وہ درویش کے پاس گیا اور بولا: “اب بتاؤ، میرے سوالوں کا جواب۔”

درویش نے کہا: “تمہارے سوالوں کے جواب تم خود پا چکے ہو۔

اگر تم نے میرے بڑھاپے پر رحم نہ کیا ہوتا اور میرے لیے زمین نہ کھودی ہوتی تو تم واپس چلے جاتے۔ پھر یہ آدمی تم سے جا ملتا، اور تم مر جاتے۔ اس لیے سب سے اہم وقت وہ تھا جب تم زمین کھود رہے تھے۔ اور سب سے ضروری شخص میں تھا۔ اور سب سے اہم کام یہ تھا کہ تم میری مدد کرو۔

پھر جب یہ آدمی آیا، تو سب سے اہم وقت وہ تھا جب تم اس کے زخموں پر پٹی باندھ رہے تھے۔ سب سے ضروری شخص یہ تھا۔ اور سب سے اہم کام اس کی مدد کرنا تھا۔

یاد رکھو:
سب سے اہم وقت اب ہے۔
سب سے ضروری شخص وہ ہے جو تمہارے سامنے ہے۔
سب سے اہم کام وہ ہے جو تم اس شخص کے لیے کر سکتے ہو۔”

اخلاقی سبق:

ہم اکثر کل کی فکر میں آج کو کھو دیتے ہیں۔ ہم دور کے لوگوں کے لیے سوچتے ہیں اور سامنے والے کو بھول جاتے ہیں۔ ہم بڑے بڑے کاموں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور ہاتھ میں جو کام ہے، اس سے کتراتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارے پاس صرف آج ہے، صرف ابھی ہے، اور صرف وہ شخص ہے جو ہمارے سامنے ہے۔ جو اس لمحے کو پہچان لے، وہی حقیقی کامیاب ہے۔

حوالہ:

یہ کہانی لیو ٹالسٹائی کی مشہور کہانی “The Three Questions” ہے۔ ٹالسٹائی نے یہ کہانی 1885 میں لکھی۔ یہ ان کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مختصر کہانیوں میں سے ہے۔ اس کہانی کو بعد میں کئی زبانوں میں ترجمہ کیا گیا اور اس پر بہت سے اخلاقی اور روحانی سبق کی کتابوں میں بحث ہوئی۔

Leave a Reply

NZ's Corner