بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

یہ کہانی ایک گہرے سبق پر مبنی ہے کہ دوسروں کی نقل کرنا ہمیشہ فائدہ مند نہیں ہوتا، کیونکہ ہر جاندار کی ساخت اور ضرورت مختلف ہے۔
دوسروں کی زندگی کی نقل کرنا چھوڑ دو، تمہاری زندگی کا نقشہ مختلف بنایا گیا ہے
سوانا (افریقہ کے گھاس کے میدانوں) میں ایک لکڑبگھا رہتا تھا جو صبح سے شام تک جدوجہد کرتا رہتا۔ اس کی پسلیاں نکلی ہوئی تھیں اور آنکھوں میں ایسی تھکن چھائی تھی جسے نیند کبھی دور نہیں کر پاتی تھی۔ وہ جتنی بھی سخت دوڑ لگاتا، جتنا بھی دور نکل جاتا، اس کے پیٹ میں کچھ بھی اتنی دیر نہ ٹکتا کہ اسے سکون مل پائے۔
ایک تپتی دوپہر، وہ رک گیا۔
گھاس کے اس پار ایک بکری کھڑی تھی: پرسکون، شکم سیر، اور تپش، بھوک یا دنیا کی اس بے ہنگم بھاگ دوڑ سے بے نیاز۔ لکڑبگھے نے ایک طویل لمحے تک اسے دیکھا اور پھر اس کے قریب گیا۔
“اے بکری!” اس نے کہا، “میں تمہیں روز دیکھتا ہوں۔ تم تھوڑا کھاتی ہو، آرام سے رہتی ہو، پھر بھی تمہارا پیٹ ہمیشہ بھرا رہتا ہے۔ تمہارا راز کیا ہے؟”
بکری نے اسے دیکھا—اس کی نظر نرم، پختہ اور اطمینان سے بھرپور تھی۔
“آرام مجھے کھانے سے زیادہ تسکین دیتا ہے۔”
اس رات لکڑبگھا سو نہ سکا۔ بکری کے الفاظ اس کے سینے میں دبی چنگاری کی طرح سلگتے رہے۔
آرام مجھے کھانے سے زیادہ تسکین دیتا ہے۔
اگلے دن، اس نے بکری کی پیروی کی اور وہ سب کچھ کیا جو بکری نے کیا۔ اس نے تھوڑا کھایا، آہستہ چلا اور درختوں کے سائے میں لیٹ کر اپنے جسم کو ساکن رہنے کا حکم دیا۔ وہ وہی کچھ حاصل کرنا چاہتا تھا جو بکری کے پاس تھا: وہی سکون، وہی سیری اور وہی آسودگی۔
رات ہونے تک اس کا پیٹ بھوک سے چیخنے لگا۔ کمزوری سے کانپتے ہوئے، اس نے چاندنی میں بکری کو بڑے سکون سے جگالی کرتے دیکھا، وہ حسبِ معمول بے فکر تھی۔
“بکری!” اس نے سرگوشی کی۔ “تم کیا کھا رہی ہو؟”
بکری نے ایک نظر اسے دیکھا، “وہی جو میں نے دن بھر (اپنے پیٹ میں) ذخیرہ کیا تھا۔”
لکڑبگھے کے اندر جیسے کچھ ٹوٹ کر گر گیا۔ “تم نے مجھے یہ حصہ تو کبھی سکھایا ہی نہیں۔”
بکری کی آواز دھیمی تھی، جس میں کوئی طنز نہ تھا: “کسی نے مجھے بھی نہیں سکھایا تھا۔ یہ تو بس میری فطرت ہے، میں بنائی ہی ایسی گئی ہوں۔”
لکڑبگھا مڑا اور آہستہ آہستہ جھاڑیوں کی طرف چل پڑا۔ جب آخر کار اس کی آواز نکلی، تو وہ بمشکل ایک سسکتی ہوئی سانس کی مانند تھی:
“ہر راز کی نقل نہیں کی جا سکتی

Leave a Reply

NZ's Corner