حسد نہیں، دعا کیجیے!
روایت ہے کہ ایک غریب دیہاتی اپنی معاشی تنگی کی وجہ سے بہت پریشان رہتا تھا۔ کسی خیر خواہ نے اسے مشورہ دیا کہ “تم شہنشاہ اکبر کے پاس جاؤ، اس کے پاس بے شمار دولت ہے اور وہ ہر سائل کی جھولی بھر دیتا ہے۔ وہ تمہیں بھی ضرور کچھ عطا کرے گا اور تمہاری مفلسی دور ہو جائے گی۔”
دیہاتی نے برجستہ سوال کیا: “اکبر بادشاہ کو یہ سب کس نے دیا ہے؟”
جواب ملا: “اللہ نے!”
یہ سن کر دیہاتی کے ایمان کو ایک نئی جلا ملی اور اس نے کہا: “اگر اسے دینے والا اللہ ہے، تو پھر میں براہِ راست اسی سے کیوں نہ مانگوں؟ میں اکبر کے در پر کیوں جاؤں؟”
اس کے بعد وہ اپنے گھر سے نکلا اور ایک ویران جنگل کی طرف چل دیا تاکہ یکسوئی سے اپنے رب کو پکار سکے۔ وہاں پہنچ کر اس نے اپنا بوسیدہ سا کپڑا زمین پر بچھایا، اس پر بیٹھا اور گڑگڑا کر دعا کرنے لگا۔ اس نے اپنی سادہ اور فطری زبان میں عرض کی: “اے اکبر کو نوازنے والے! مجھے بھی عطا کر دے۔”
وہ مسلسل یہی دعا مانگتا رہا۔ جب وہ دعا سے فارغ ہوا اور اپنا کپڑا اٹھایا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اس کے نیچے اشرفیوں سے بھری ایک تھیلی موجود تھی۔
یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ دورِ حاضر کے بڑے بڑے دانشور اور اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ بھی شعور اور کردار کے اس مرتبے پر فائز نہیں، جہاں وہ سادہ لوح دیہاتی تھا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ جب بھی کوئی شخص کسی دوسرے کو خود سے آگے بڑھتا دیکھتا ہے—خواہ وہ دولت ہو یا معاشرتی رتبہ—تو فوراً حسد کی آگ میں جلنے لگتا ہے۔ اس کے سینے میں صاحبِ نعمت کے خلاف نفرت اور کینے کی ایک ایسی آگ بھڑک اٹھتی ہے جو کبھی ٹھنڈی نہیں ہوتی۔
اگر حسد میں مبتلا یہ لوگ یہ حقیقت سمجھ لیں کہ کسی کو جو کچھ بھی ملا ہے وہ اللہ کی عطا ہے، اور وہی ہے جو کسی کو کم اور کسی کو زیادہ دیتا ہے، تو وہ بھی وہی راستہ اختیار کریں جو اس دیہاتی نے کیا تھا۔ یعنی وہ “صاحبِ نعمت” سے جلنے کے بجائے “نعمت دینے والے” کی طرف رجوع کریں۔ وہ خدا کو پکارتے ہوئے کہیں: “اے باری تعالیٰ! جس طرح تو نے میرے بھائی کو نوازا ہے، اپنی رحمت سے مجھے بھی عطا فرما۔”
اگر لوگوں میں یہ مزاج پیدا ہو جائے تو معاشرے کی تمام برائیاں خود بخود ختم ہو جائیں۔ کسی کی بڑائی دیکھ کر اپنی کمی کا احساس ہونا ایک فطری جذبہ ہے؛ اگر اس جذبے کا رخ خالق کی طرف ہو تو یہ “دعا” بن جاتا ہے، اور اگر مخلوق کی طرف ہو تو “حسد” کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
منقول
