ڈنمارک کے ایک چھوٹے سے قصبے میں ایک بوڑھا موم بتی ساز رہتا تھا۔ اس کا نام لارس تھا۔ وہ ساری زندگی موم بتیاں بناتا رہا تھا لمبی، چھوٹی، موٹی، پتلی۔ اس کے ہاتھ موم سے سیاہ ہو گئے تھے، اس کی پیٹھ جھک گئی تھی، لیکن اس کا دل اب بھی نرم تھا۔
ایک دن اس نے دو موم بتیاں بنائیں۔ دونوں بالکل ایک جیسی تھیں — لمبی، سفید، صاف۔
پہلی موم بتی اس نے شہر کے امیر آدمی کو دے دی۔
دوسری موم بتی اس نے گاؤں کی ایک غریب عورت کو دے دی جو تنہا رہتی تھی۔
امیر آدمی نے موم بتی کو سونے کے شمع دان میں رکھا۔ اس نے کہا: “یہ موم بتی میرے کھانے کے کمرے میں جلے گی۔ مہمان آئیں گے، روشنی ہو گی، سب دیکھیں گے کہ میرے پاس کتنی خوبصورت چیز ہے۔”
موم بتی جلنے لگی۔ اس کی لو سیدھی اوپر اٹھتی تھی، اس کی روشنی پورے کمرے میں پھیلتی تھی۔ امیر آدمی کے مہمان آئے، انہوں نے روشنی دیکھی، تعریف کی۔ موم بتی بہت خوش تھی۔
لیکن جب مہمان چلے گئے، تو امیر آدمی نے موم بتی بجھا دی۔ اس نے کہا: “اب ضرورت نہیں ہے۔ مہمان آئیں گے تو پھر جلا لیں گے۔”
موم بتی ٹھنڈی پڑ گئی۔ وہ اندھیرے میں بیٹھی انتظار کرتی رہی کب مہمان آئیں گے، کب وہ پھر جلے گی۔
غریب عورت نے موم بتی کو مٹی کے پرانے دیے میں رکھا۔ اس کے پاس شمع دان نہیں تھا۔ اس کے پاس سونا نہیں تھا، چاندی نہیں تھی، مہمان نہیں تھے۔
شام ہوئی تو اس نے موم بتی جلا دی۔
اس کا بچہ بیمار تھا۔ اس نے موم بتی کو بستر کے پاس رکھا۔ اس کی روشنی میں اس نے بچے کو دوا دی، اس کی آنکھوں میں دیکھا، اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
بچہ بولا: “ماں، روشنی بہت خوبصورت ہے۔”
ماں نے کہا: “ہاں بیٹا، یہ روشنی ہمارے لیے ہے۔”
رات گہری ہو گئی۔ ماں نے موم بتی کے پاس بیٹھ کر بچے کو کہانی سنائی۔ موم بتی کی لو نرمی سے ہل رہی تھی، اس کی روشنی پورے کمرے میں پھیل رہی تھی۔
ماں نے کہا: “بیٹا، یہ موم بتی دیکھ رہی ہو؟ یہ جل رہی ہے، پگھل رہی ہے، کم ہو رہی ہے۔ لیکن جب تک جل رہی ہے، روشنی دے رہی ہے۔ انسان بھی ایسا ہی ہے جب تک زندہ ہے، دوسروں کو روشنی دے۔”
بچہ مسکرایا۔
موم بتی نے یہ سنا تو اس کی لو اور بھی نرم ہو گئی۔
وہ ساری رات جلتی رہی۔ صبح ہونے تک وہ مکمل طور پر پگھل چکی تھی۔ اس کی روشنی ختم ہو گئی، لیکن اس نے پوری رات روشنی دی تھی۔
امیر آدمی والی موم بتی ابھی تک سونے کے شمع دان میں پڑی تھی۔ وہ کبھی جلتی، کبھی بجھتی۔ اس نے کبھی پوری رات نہیں جلائی۔
ایک دن موم بتی ساز لارس مر گیا۔ اس کے پوتے نے دونوں موم بتیاں دیکھیں۔
امیر آدمی والی موم بتی ابھی بھی لمبی تھی وہ بمشکل جلتی تھی، کیونکہ اسے صرف مہمانوں کے لیے جلایا جاتا تھا۔
غریب عورت والی موم بتی بالکل پگھل چکی تھی — اس کی کوئی باقی نہیں بچی تھی۔
پوتے نے سوچا: “کون سی موم بتی زیادہ قیمتی تھی؟ وہ جو بچی رہی، یا وہ جو پوری جل گئی؟”
اسے سمجھ آ گئی وہ موم بتی زیادہ قیمتی تھی جو پوری جل گئی، کیونکہ اس نے پوری زندگی روشنی دی۔
اخلاقی سبق:
یہ کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ زندگی کا مقصد روشنی دینا ہے۔
· ایک موم بتی سونے کے شمع دان میں پڑی رہی اسے مہمانوں کے لیے جلایا گیا، ورنہ وہ بجھی رہی۔ اس نے کبھی پوری زندگی نہیں جلائی۔
· دوسری موم بتی مٹی کے دیے میں جلتی رہی اس نے بیمار بچے کو روشنی دی، ماں کو روشنی دی، ساری رات جلتی رہی۔ وہ پوری جل گئی، لیکن اس نے اپنا مقصد پورا کیا۔
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ حقیقی قدر یہ نہیں کہ تم کہاں رکھے گئے، حقیقی قدر یہ ہے کہ تم نے کتنی روشنی دی۔
حوالہ:
یہ کہانی ہانس کرسچن اینڈرسن (Hans Christian Andersen) کی تحریروں سے ماخوذ ہے۔ اینڈرسن 19ویں صدی کے ڈنمارک کے مشہور ادیب تھے۔ انہوں نے “دی لٹل مارمیڈ”، “دی اگلی ڈکلنگ”، “دی ایمپیراز نیو کلوتھز” جیسی مشہور کہانیاں لکھیں۔
یہ خاص کہانی موم بتیوں کی علامت کے ذریعے قربانی، خدمت، اور زندگی کا مقصد سمجھاتی ہے۔
