قدیم ہندوستان کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک برہمن رہتا تھا۔ وہ بہت سادہ دل تھا، بہت ایماندار تھا۔ اسے لوگوں پر بہت بھروسہ تھا — اتنا کہ کبھی کبھی وہ جھوٹ کو بھی سچ سمجھ بیٹھتا تھا۔
ایک دن اس نے ایک بڑی تقریب میں حصہ لیا۔ تقریب کے بعد لوگوں نے اسے ایک بکری تحفے میں دی۔ برہمن بہت خوش ہوا۔ اس نے بکری کو اپنے کندھے پر اٹھایا اور گھر کی طرف چل دیا۔
وہ جنگل کے راستے سے جا رہا تھا۔
اتنے میں تین بدمعاشوں نے اسے دیکھا۔ انہوں نے سوچا: “یہ بکری ہمیں کھانی ہے۔ لیکن یہ برہمن مضبوط ہے — چھین کر نہیں لے سکتے۔ کوئی چال چلنی پڑے گی۔”
پہلا بدمعاش برہمن کے پاس آیا اور بولا: “بابا! آپ اپنے کندھے پر کتا کیوں اٹھائے پھر رہے ہیں؟ کتے کا گوشت کھانا تو آپ کے لیے مناسب نہیں۔”
برہمن کو غصہ آ گیا۔ وہ بولا: “تم کیا کہہ رہے ہو؟ یہ تو بکری ہے، کتا نہیں!”
وہ آگے بڑھ گیا۔
تھوڑی دور گیا تو دوسرا بدمعاش ملا۔ اس نے کہا: “بابا! آپ بہت عقلمند آدمی ہو، لیکن آپ مردہ بچھڑے کو کندھے پر اٹھائے جا رہے ہو۔ یہ تو ناپاک چیز ہے۔”
برہمن کے قدم رک گئے۔ اس نے بکری کو دیکھا، اچھی طرح دیکھا — بکری تو تھی، بچھڑا نہیں تھا۔ لیکن اس کے دل میں ایک گھنٹی بجی: “کیا واقعی یہ بکری ہے؟ پہلے والے نے کتا کہا تھا، یہ کہہ رہا ہے بچھڑا — شاید کچھ غلط ہے۔”
اس نے پھر بکری اٹھائی اور چل دیا۔
تیسرا بدمعاش آیا۔ اس نے کہا: “بابا! آپ گدھے کو اٹھائے پھر رہے ہیں؟ گدھا تو بہت بدنام جانور ہے۔”
اب برہمن کا دماغ گھوم گیا۔ اس نے سوچا: “کتا، بچھڑا، گدھا — تینوں الگ الگ چیزیں کہہ رہے ہیں۔ لیکن میں نے تو بکری اٹھائی تھی۔ کیا واقعی یہ بکری نہیں ہے؟ کیا یہ کوئی بھوت ہے جو شکل بدل رہا ہے؟”
وہ ڈر گیا۔ اس نے بکری کو وہیں پھینکا اور بھاگ کھڑا ہوا۔
تینوں بدمعاش بکری لے کر کھا گئے۔
اخلاقی سبق:
یہ کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ دوسروں کی باتوں میں آ کر اپنی عقل مت کھوؤ۔
· برہمن نے اپنی آنکھوں سے بکری دیکھی تھی، لیکن تین لوگوں نے الگ الگ باتیں کہہ کر اسے شک میں ڈال دیا۔
· اگر وہ اپنے آپ پر بھروسہ رکھتا، تو اسے دھوکہ نہ لگتا۔
· یہ کہانی ہمیں خود اعتمادی اور اپنی عقل پر بھروسہ کرنے کا سبق دیتی ہے۔
حوالہ:
یہ کہانی ہندوستانی لوک کہانیوں میں سے ہے۔ یہ صدیوں سے زبانی روایت کے ذریعے منتقل ہوتی رہی ہے۔ اس کہانی کی مختلف شکلیں ہندوستان کے کئی علاقوں میں ملتی ہیں۔
یہ کہانی خاص طور پر بچوں کو سکھاتی ہے کہ دوسروں کی بات سنو، لیکن اپنی عقل کو ہاتھ سے نہ جانے دو۔
