بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

بخت نصر نے بنی اسرائیل کے قتل و غارت کے بعد ایک نہایت ڈراؤنا خواب دیکھا لیکن اسے بھول گیا۔ کاہنوں اور ساحروں کو بلا کر خواب اور تعبیر دریافت کی۔ انہوں نے کہا تم اپنا خواب بتاؤ تا کہ اس کی تعبیر بتائیں۔ وہ غصہ میں آ کر کہنے لگا میں نے تمھاری مدت تک اس لئے تربیت کی ہے کہ تم خواب اور اس کی تعبیر سے عاجز رہو۔ میں تمھیں تین دن کی مہلت دیتا ہوں تا کہ تم میرے خواب کی تعبیر بیان کرو ورنہ تمھیں قتل کر دوں گا۔
کاہنوں اور ساحروں کے قتل کی خبر مشہور ہو گئی ۔ ان دنوں حضرت دانیال علیہ السلام بخت نصر کی قید میں تھے انھوں نے ایک کہنے والے کو کہا کیا تو مجھے بادشاہ کے سامنے لے جا سکتا ہے میں اس کے خواب اور تعبیر کو جانتا ہوں۔
اس نے بخت نصر کو بتایا تو بخت نصر نے حضرت دانیال علیہ السلام کو اپنے پاس بلایا ۔ لیکن دانیال علیہ السلام نے اسے اس کی قوم کی عادت کے مطابق سجدہ نہ کیا ۔ بخت نصر نے اپنے دربار سے تمام آدمیوں کو باہر نکل جانے کا حکم دیا۔ پھر حضرت دانیال علیہ السلام سے مخاطب ہو کر کہنے لگا تو نے مجھے سجدہ کیوں نہ کیا ۔ انھوں نے کہا میرا خدا ہے جس نے مجھے اس شرط پر علم تعبیر رؤیا عطا کیا ہے کہ میں غیر خدا کو سجدہ نہ کروں۔ مجھے ڈر تھا کہ سجدہ کرنے کی صورت میں میرا علم سلب نہ کر لیا جائے اور میں تمھارے خواب کی تعبیر سے عہدہ براء نہ ہو سکوں اور تُو مجھے قتل کر دے۔
میں نے یہی بہتر خیال کیا کہ میں ترک سجدہ تیرے ان رنج و الم جن میں تو مبتلا ہے سہل ہو گا۔ بخت نصر نے کہا میرا اب تجھ سے زیادہ کوئی معتقد نہیں جس نے خدا کے لئے ایفائے عہد کیا ہے اور میرے نزدیک سب سے اچھے انسان وہی ہیں جو خدا کے لئے ایفائے عہد کرتے ہیں۔ پھر کہا میرے خواب کی تعبیر جانتے ہو؟
انھوں نے کہا ہاں! تُو نے ایک بہت بڑا بت دیکھا ہے جس کی آنکھ سونے کی، کمر چاندی کی، پشت تانبے کی اور پنڈلیاں لوہے کی اور دونوں سیرین کے درمیان پیٹھ کی ہڈی مٹی کی بنی ہوئی تھی۔ جب تُو نے غور سے دیکھا تو اس کی ساخت کی خوبی نے تجھے حیران کر دیا۔ اچانک آسمان سے ایک پتھر گرا جو اس کے سر کے درمیانی حصے پر لگا اور اس کی شدید ضرب سے وہ بُت پس کر آٹا ہو گیا۔
سونا ، چاندی، تانبا ، لوہا اور مٹی باہم پیوست ہو گئے کہ ایک اندازے کے مطابق انھیں تمام جن و انس مل کر علیحدہ علیحدہ نہیں کر سکتے تھے اور اگر ہوا چلتی تو وہ بکھر کر رہ جاتے ۔
پھر تو نے دیکھا کہ وہ پتھر جو آسمان سے گرا تھا اس نے اوپر اٹھنا شروع کر دیا اور برخاست کے ساتھ ساتھ بڑا ہوتا گیا یہاں تک کہ اس نے تمام زمین کو اپنی گرفت میں لے لیا پھر ایسا ہوا کہ تجھے زمین و آسمان اور اس پتھر کے علاوہ کوئی چیز نظر نہ آتی تھی ۔
بخت نصر بولا بلکل درست ہے اب اس کی تعبیر بھی بتائیے ۔ حضرت دانیال علیہ السلام نے فرمایا کہ بت مختلف اقوام کا تھا ۔ سونا وہ قوم ہے جسے تُو جانتا ہے اور چاندی وہ قوم ہے جس کا تیرا بیٹا تیرے بعد بادشاہ بنے گا لیکن تانبے کا اطلاق اہل روم پر ہوتا ہے اور لوہے سے مراد ملک فارس ہے اور مٹی سے مراد وہ دو عورتیں ہیں جو روم اور فارس کی ملکہ بنیں گی۔ اور وہ پتھر جس نے سب کو پاش پاش کر دیا وہ دین ہے جو آخری زمانہ میں ظاہر ہو گا اور رب العزت عرب سے ایک پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث فرمائے گا💕 تو تمام ادیان کو منسوخ کر دے گا اور تمام زمین پر قبضہ کر لے گا۔
(شواہد النبوۃ از عبدالرحمٰن جامی رحمتہ اللہ علیہ)⁦✍️⁩📚

واللہ اعلم بالصواب ۔
(سبحان اللہ کریم)!
ہمارے حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کی تعریف تو ان کے تشریف لانے سے ہزاروں سال پہلے ہی سے شروع تھی، اور ہمیشہ باقی رہے گی کیونکہ جس حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر اللہ رب العزت بلند کرے اسے کون ختم کر سکتا ہے۔۔۔۔💕🌿🌹
دوستو….!!! چلتے چلتے ایک آخری بات عرض کرتا چلوں کہ اگر کبھی کوئی ویڈیو، قول، واقعہ کہانی یا تحریر وغیره اچھی لگا کرئے تو مطالعہ کے بعد مزید تھوڑی سے زحمت فرما کر اپنے دوستوں سے بھی شئیر کر لیا کیجئے، یقین کیجئے کہ اس میں آپ کا بمشکل ایک لمحہ صرف ہو گا لیکن ہو سکتا ہے اس ایک لمحہ کی اٹھائی ہوئی تکلیف سے آپ کی شیئر کردا تحریر ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہو دوستو ہماری سپورٹ کے لیے پوسٹ اچھی لگے تو فالو ضرور کیا کریں بہت شکریہ۔❤️
Golden pages of History
جزاک اللہ خیرا کثیرا۔

Leave a Reply

NZ's Corner