کہتے ہیں کسی ملک میں ایک سال سخت قحط پڑا ۔ لوگ بھوکے مرنے لگے ۔ ملک کے بادشاہ نے اپنے تمام اراکین سلطنت کو جمع کر کے اُن سے مشورہ کیا کہ اب کیا کرنا چاہئے اور رعایا کی جان کس طرح بچائی جائے :
تمام امرا ، وزرا ، نے بہت غور و خوض کے بعد یہ رائے دی کہ ان تمام لوگوں کو قتل کر دیا جائے جو ساٹھ سال سے زیادہ عمر کے ہوں کیونکہ ملک کو اُن کی چنداں ضرورت نہیں اور اس طرح اناج کی جو مقدار کثیر اُن کی خوراک پر خرچ ہوتی ہے وہ بچے گی – اور یہ مفت کا خرچ کم ہو کر جوانوں کے کام آئے گا۔
بادشاہ نے جو بالکل بے وقوف تھا ۔ اس تجویز کو بہت پسند کیا اور اپنے جنگی سپاہیوں کے نام حکم جاری کر دیا کہ وہ بوڑھوں کے قتل عام پر آمادہ ہو جائیں ۔ اور تمام رعایا کے نام فرمان جاری کیا کہ وہ اپنے اپنے گھروں کے بوڑھوں کو ایک ہفتہ کے اندر اندر سرکار کے حوالہ کر دیں اس کے بعد جس گھر میں کوئی بوڑھا نظر آئے گا اُس گھر کے تمام آدمی تہ تیغ کر دیئے جائیں گے :
تمام لوگوں نے
اس نادر شاہی کی تعمیل کی اور تمام بوڑھوں کا خاتمہ بڑی بے رحمی کے ساتھ کر دیا گیا ۔ مگر ایک بوڑھے کو اس کے نیک بخت بیٹوں نے اپنے گاؤں کے قریب ایک غار میں چھپا دیا ۔
یہ نیک بخت لڑکے اپنے بوڑھے باپ کو خفیہ طور پر خوراک پہنچا دیا کرتے تھے ۔ جس سے وہ اپنا پیٹ پالتا اور اپنے جاں نثار فرزندوں کے حق میں دعائے خیر کیا کرتا تھا۔ بوڑھے نے ہر چند کہا ۔ بیٹو! تم کیوں میری خاطر اپنی جان مصیبت میں ڈالتے ہو ۔ میرا کیا ہے ۔ آج نہ مرا کل مرونگا ۔ میں نے کوئی آب حیات تھوڑا ہی پی رکھا ہے کہ ہمیشہ زندہ رہوں گا ۔ ویسے بھی میں بوڑھا اور ضعیف ہوں اگر قتل کیا گیا تو کونسی قیامت آجائے گی ۔ بلکہ میں تو خود ہی موت کا طالب ہوں ۔ اس لئے تم مجھے بادشاہ کے حوالے کر دو ۔ اور آرام آرام سے سے زندگی بسر کرو ۔ اب اگر بادشاہ کو خبر ہوگئی تو آفت آ جائے گی لیکن یہ سعادت مند بیٹے سر جھکا کر ہمیشہ یہی جواب دیتے ” بلا سے ہمیں اس کی مطلق پروا نہیں :
بے گنا ہوں کا ذبح کرنا کوئی معمولی بات نہ تھی قحط کا زور بجائے کم ہونے کے مزید بڑھ بڑھتا گیا ۔ لوگوں کے پاس جس قدر اناج تھا ختم ہو گیا ۔ ملک بھر میں ایک دانہ نظر نہیں آتا تھا ۔ مویشیوں کا دودھ سوکھ گیا ۔ دودھ دینا تو در کنار وہ خود موت کا شکار ہو رہے تھے ۔ رفتہ رفتہ انسان بھی موت کے گھاٹ اُترنے لگے ۔ ستم رسیدہ بوڑھے کے تینوں بیٹے بھی فاقوں میں مبتلا ہو گئے ۔ آخر اُنہوں نے صلاح کی کہ بوڑھے باپ سے اس بارہ میں رائے لینی چاہئے ۔
۔ چنانچہ وہ تینوں مل کر باپ کے پاس پہنچے ۔ اور اپنی مصیبت کا حال بیان کیا ۔ اُس نے پوچھا ” کیا تھوڑا بہت غلہ بھی موجود نہیں ۔ اگر ہو تو اُسے بودو لیکن جب معلوم ہوا کہ ایک دانہ بھی موجود نہیں ہے ۔ تو بوڑھے نے کہا۔ دیکھو گھر کی چھت میں ایک سوراخ ہے اُس میں میں نے ایک دفعہ گیہوں کی ایک پوٹلی رکھی تھی ۔ اُسے نکال کر کھیت میں بکھیر دو ۔ خدا کے فضل سے خزانوں کے مالک ہو جاؤ گے”
لڑکے ہنسی خوشی واپس آئے ۔ بتائی ہوئی جگہ سے انہیں در حقیقت گیہوں کی پوٹلی ملی ۔ جس کے گیہوں کو اُنہوں نے کھیت میں بو دیا ۔ خدا کی قدرت سے چند ہفتوں میں فصل پک کر تیار ہو گئی ۔ جلد ہی وہ کاٹ لی گئی اور اس طرح اُن کے گھر میں نئے اناج کی روٹیاں پک گئیں اور ان کے تمام کوٹھے غلے سے بھر گئے ۔
اس کہانی کے پڑھنے والے حیران ہوں گے ۔ کہ یہ کیسے ممکن ہے حالانکہ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں۔ بزرگوں کی دعائیں بڑا اثر رکھتی ہیں ۔ جن لوگوں نے بزرگوں کا
ادب کیا ہے اور سچے دل سے اُن کی خدمت بجا لائے ہیں ۔ اور لاتے ہیں ۔ خدا وند کریم نے اُن پر ہمیشہ اپنی برکتیں نازل کی ہیں اور کرتا رہے گا ۔ ثبوت کی کوئی حاجت نہیں ۔ آئے دن ہم دیکھتے ہیں کہ بزرگوں کو ستانے والے تباہ ہوتے ہیں ۔ اور خدمت کرنے والے پھل پھول رہے ہیں ۔ مثل مشہور ہے ۔ کہ با ادب با نصیب بے ادب بے نصیب –
ان نیک لڑکوں کی خوشحالی کا شہرہ تمام ملک میں پھیل گیا اور لوگ ان سے غلہ خریدنے کے لئے چاروں طرف سے آنے لگے ۔ وہ غلہ نہ صرف فروخت ہی کیا کرتے تھے بلکہ غریبوں کو مفت بھی بانٹ دیتے تھے پھر بھی ان کے خزانے بھرے ہی رہتے تھے ۔ یہ سب خداوند کریم کے فضل و کرم کا کا نتیجہ تھا۔ لوگ بہت حیران ہوتے کہ ان کے گھر میں اس قدر اناج کہاں سے آگیا ۔ رفتہ رفتہ یہ خبر بادشاہ کے کانوں تک بھی پہنچ گئی۔ اُس نے لڑکوں کو فوراً دربار میں طلب کیا اور اُن سے حقیقت دریافت کی ۔ اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ” دیکھو اگر کوئی بات چھپا رکھو گے تو اُس کا نتیجہ بہت بڑا ہوگا ۔
انہوں نے ڈرتے ڈرتے ساری حقیقت حرف بحرف بیان کر دی ۔ جسے سن کر بادشاہ نے فرمایا : اے لڑکو۔ اگر چہ تم نے یہ بہت بڑا جرم کیا کہ شاہی حکم کی خلاف ورزی کی اور اپنے بوڑھے باپ کو بجائے حوالہ سرکار کرنے کے پوشیدہ کر دیا اور اس لئے کہ سزائے موت کے مستوجب ہو ۔ لیکن جب تم پر خدا وند کریم نے رحمت کا مینہ برسایا ہے ۔ تو میں تمہیں موت کے گھاٹ کس طرح اتار دوں ۔ آج مجھے یقین ہو گیا کہ تم میری رعایا میں سب سے زیادہ نیک اور خدا کے پیارے ہو۔ تم نے اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے بوڑھے باپ کی جان بچائی اور اس کی ہر طرح سے خدمت کی ۔ جس کے صلہ میں خدا نے تمہارے افلاس کو آناً فاناً میں دور کر دیا بلکہ دوسروں کو بھی تمہارا محتاج بنا دیا ۔ اس لئے میں بھی تمہیں معاف کرتا ہوں ۔ نہ صرف معاف ہی کرتا ہوں ۔ بلکہ کچھ انعام بھی عطا کرتا ہوں “
اس کے بعد بادشاہ نے حکم دیا کہ اپنے بوڑھے
باپ کو فوراً ہمارے روبرو لاؤ ” لڑکوں نے حکم کی تعمیل کی اور باپ کو دربار میں حاضر کیا ۔ جب وہ بادشاہ کے رو برو آیا تو بادشاہ نے فرمایا ۔ بڑے میاں تم بڑے عقلمند اور دانا آدمی ہو ۔ اگر تم وہ گیہوں کی پوٹلی سب سے چھپا کر نہ رکھتے تو آج نہ صرف تمہارے لڑکے بلکہ تمام ملک بھوکا مر جاتا ۔ مناسب یہ ہے کہ میں تمہیں اپنا وزیر اعظم بنا لوں کیونکہ تم جیسے دانشمند مشیر کا وجود سلطنت کے لئے باعث برکت ہو گا یہ کہہ کر بادشاہ نے بوڑھے کو اسی وقت اپنا وزیر اعظم بنا لیا نتیجہ یہ ہوا کہ اُس بوڑھے کی برکت سے پھر اُس ملک میں قحط یا کوئی مصیبت خواب میں بھی کسی کو نظر نہ آئی۔
