بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

ایک بہت بڑے جہاز کا انجن خراب ہو گیا اور اسے کوئی بھی ٹھیک نہیں کر پا رہا تھا۔ آخر کار ایک بوڑھے مکینک کو بلایا گیا جو چالیس سال سے انجن ٹھیک کرنے کا تجربہ رکھتا تھا۔ اس نے خاموشی سے پورے انجن کا معائنہ کیا اور پھر اپنے تھیلے سے ایک چھوٹا سا ہتھوڑا نکالا۔ اس نے انجن کے ایک مخصوص حصے پر ہلکی سی چوٹ ماری اور انجن فوراً سٹارٹ ہو گیا۔
جب معاوضے کی باری آئی تو اس نے دس ہزار روپے مانگے۔ جہاز کا مالک حیران ہوا اور کہنے لگا کہ تم نے تو صرف ایک ہتھوڑا مارا ہے، اس کی اتنی قیمت؟ بوڑھے مکینک نے جواب دیا کہ ہتھوڑا مارنے کا تو صرف ایک روپیہ ہے، لیکن ہتھوڑا کہاں مارنا ہے، اس بات کے نو ہزار نو سو ننانوے روپے ہیں۔
سبق: صرف محنت کافی نہیں ہوتی، صحیح جگہ پر صحیح طریقے سے کی گئی محنت ہی اصل قیمت رکھتی ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner